منگل , 15 اکتوبر 2019

افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ ہوگیا؟

(رپورٹ: ایس اے زیدی)

پاکستان پڑوسی ملک افغانستان کے لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ گذشتہ 40 سال سے برداشت کرتا آرہا ہے، افغانستان سے ہجرت کرکے آنے والے افغان شہری اوائل میں صوبہ خیبر پختونخوا اور نو ضم شدہ قبائلی اضلاع میں آباد ہوئے، اس کے بعد یہ سلسلہ ملک کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا اور یوں آج ملک کے چاروں صوبوں میں افغانی آباد ہوچکے ہیں، رفتہ رفتہ افغان شہری پاکستانیوں میں رچ بس گئے۔ افغان خواتین کی ایک بڑی تعداد نے یہاں پاکستانی مردوں اور افغان مردوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں کر لیں، اس طرح آنے والی ایک نسل کو پاکستانی شناخت مل گئی۔ ان افغان مہاجرین نے آہستہ آہستہ پاکستان میں جائیدادیں بنانا شروع کر دیں اور اپنے کاروبار مستحکم کر لئے۔ بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کیلئے لاکھوں افغان مہاجرین کا قیام نہ صرف ایک بہت بڑا معاشی بوجھ بلکہ ملکی حالات کو خراب کرنے کا بھی باعث بنا۔ افغان امور کے ماہر صحافی حضرات کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کیوجہ سے پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا، اس کے علاوہ دہشتگردی میں بھی افغان شہری ملوث رہے ہیں۔

مختلف حکومتوں کے ادوار میں ان افغان شہریوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کے فیصلے ہوئے، تاہم کبھی امریکی دباو اور کبھی اقوام متحدہ سے ملنے والی امداد کی وجہ سے افغان شہریوں کے قیام میں توسیع دی جاتی رہی۔ موجودہ ملکی حالات اور ریاست پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے بعض اقدامات کے نتیجے میں قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افغان مہاجرین کو جلد مستقل طور پر باعزت طریقہ سے اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے۔ سابق وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کو جب سیفران کی وزارت سونپی گئی تو انہیں محکمہ کے افسران نے بریفنگ دی اور بتایا کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے عالمی برادری اپنے وعدے اور ذمہ داریاں پوری کرنے سے گریزاں ہے، افغان حکومت بھی مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے معاہدوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ اس بریفنگ کے بعد شہریار خان آفریدی نے افغان مہاجرین کے معاملات پر وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے، جن میں افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کو ممکن بنانے کیلئے تجاویز پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغان شہریوں کو ان کے وطن مستقل طور پر واپس بھیجا جائے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان، افغانستان، ایران اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر کے نمائندوں کا دو روزہ اہم اجلاس سوموار اور منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ یو این ایچ سی اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے چار فریقی اجلاس میں پاکستان کے سرحدی امور اور ریاستوں کے وزیر شہر یار آفریدی، افغانستان کے پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق امور کے وزیر سید علیمی بلخی، ایران کے نائب وزیر داخلہ حسین ذوالفقاری اور یو این ایچ سی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جبکہ منگل کے سہ فریقی اجلاس میں پاکستان، افغانستان، اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی اور ان کی آبادکاری سے متعلق کثیر المدتی علاقائی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا، جس میں افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی، آباد کاری اور ان کی میزبانی کرنے والے ملکوں کی معاونت کے امور شامل تھے۔ اجلاس میں شریک تمام فریقین نے افغان مہاجرین سے متعلق علاقائی حکمت عملی کو 2021ء تک توسیع دینے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے افغان مہاجرین سے متعلق حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے وسائل کے حصول کی مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے بین الاقوامی شراکت داروں اور دیگر اعانتی اداروں سے اس حکمت عملی کی معاونت اور حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیر مملکت سیفران شہریار آفریدی نے اجلاس کے بعد بتایا کہ ہم 12 نکاتی مشترکہ اعلامیہ پر افغان مہاجرین کی محفوظ وطن واپسی پر متفق ہیں۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی 40 سال تک باوقار طور پر میزبانی کی ہے، ہم انہیں عزت کے ساتھ وطن واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے اپنے وسائل سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ پاکستان میں صرف 32 فیصد افغان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں، جبکہ 68 فیصد دوسری جگہوں پر رہتے ہیں۔ افغان مہاجرین کی اپنے وطن باعزت واپسی اور ان کی بحالی کے لیے عالمی برداری، یو این ایچ سی اور پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ملکوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ دوسری جانب پناہ گزینوں سے متعلق افغانستان کے وزیر سید علیمی بلخی نے منگل کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں طویل مدت سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کے معاملے میں ایران، پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر ایک صفحے پر ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے موقع پر پناہ گزنیوں کی رضاکارانہ وطن واپسی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

علیمی بلخی کا مزید کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی باعزت رضاکارانہ واپسی کے لئے کوششیں تیز کریں گے۔ پاکستان، ایران اور یو این ایچ سی آر کے افغان مہاجرین کے حوالے سے کردار پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ روویندرینی منیکیڈویلا نے کہا کہ یو این ایچ سی آر افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے لئے کوششیں جاری رکھے گا۔ امید ہے کہ افغانستان بھی اپنے لوگوں کی واپسی کے لئے کردار ادا کرے گا۔ افغان پناہ گزینوں سے متعلق یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت 30 جون کو ختم ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ افغان حکومتیں بھی اس اہم مسئلہ پر کبھی سنجیدہ نظر نہیں آئیں، شائد جنگ زدہ افغانستان کے حالات اس امر کے متقاضی نہ تھے کہ افغان حکومت ایک اور بوجھ برداشت کرسکے۔ تاہم اب حالات ماضی کے مقابلہ میں کافی تبدیل نظر آتے ہیں، حکومت پاکستان بھی اس حوالے سے سنجیدہ نظر آتی ہے اور اقوام متحدہ بھی اس بوجھ کو شائد مزید برداشت نہیں کر پا رہا۔ تاہم افغان مہاجرین کی واپسی افغانستان میں امن و استحکام سے مشروط ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نجف تا کربلا، سفر عشق و شعور

توقیر کھرل امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں چند …