جمعہ , 19 جولائی 2019

امریکہ انڈیا سے تجارتی جنگ کے راستے پر گامزن

(تحریر: سجاد مرادی)

وسیع پیمانے پر اقتصادی، سیاسی، فوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے باوجود امریکہ اور انڈیا کے تعلقات حالیہ چند سالوں میں شدید اتار چڑھاو کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تناو خاص طور پر اقتصاد کے میدان میں بہت واضح ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آئے تو انہوں نے انڈیا سے درآمدات پر ٹیکس کی معافی ختم کر دی۔ اسی طرح وہ 2019ء میں انڈیا سے تجارتی معاہدے سے بھی دستبردار ہو گئے اور آخرکار انڈیا نے بھی امریکہ سے درآمد ہونے والی بعض اشیاء پر ٹیکس عائد کر دیا۔ تازہ ترین صورتحال ایسی ہے کہ دونوں ممالک ایکدوسرے کے خلاف تجارتی جنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات سے متعلق چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

1)۔ گذشتہ چند برس کے دوران انڈیا کی اقتصادی ترقی کی شرح 7 فیصد رہی ہے جس کی بنیاد پر اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت قرار دیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2020ء تک بھارت دنیا کی پہلی تین اقتصادی طاقتوں میں قرار پا جائے گا۔ گذشتہ سالوں میں امریکہ اور بھارت کے درمیان اقتصادی تعلقات کی سطح اوپر جاتی رہی ہے اور گذشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان 140 ارب ڈالر کی تجارت انجام پائی ہے۔ یوں انڈیا امریکہ کے 10 بڑے تجارتی شریکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس قدر وسیع پیمانے پر دوطرفہ تجارت کے باوجود بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے میدان میں ہمیشہ امریکہ کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اگرچہ امریکہ اور بھارت کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی شعبوں میں خاص طور پر نائن الیون کے بعد کافی حد تک باہمی تعاون کو فروغ ملا ہے لیکن انڈیا نے مختلف ایشوز میں امریکہ کے علاوہ باقی سیاسی کھلاڑیوں سے بھی متوازن تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔

مثال کے طور پر ایک طرف تو بھارت نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کی جانب سے پابندیاں عائد کئے جانے میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے جبکہ دوسری طرف مختلف شعبوں میں ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی فروغ دیا ہے۔ اس ضمن میں بھارت نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل اور گیس کی خریداری بند نہیں کی۔ البتہ اس میں ایران سے انرجی کی خرید میں چین کے ساتھ بھارت کا مقابلہ بھی موثر رہا ہے۔ اسی طرح بھارت نے ایران سے تیل کی خریداری مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دی اگرچہ اس کی سطح میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔ اگرچہ سعودی عرب نے بھی بھارت کو ایران کی بجائے خود سے تیل خریدنے پر اکسایا ہے لیکن اس کے باوجود انڈیا نے امریکہ کو ایران پر حد درجہ اقتصادی دباو ڈالنے سے روکا ہے۔ اس میں بھارت کی جانب سے مشرق وسطی خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی خواہش بھی کارفرما ہے۔

2)۔ گذشتہ چند برس کے دوران امریکہ نے چین کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف انڈیا چین سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا اور وہ چین کی جانب سے اپنی فوجی طاقت میں اضافے کا سبب چین کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات قرار دیتا ہے۔ البتہ طویل المیعاد پالیسی کے تناظر میں انڈیا چین کو اپنا حریف ضرور سمجھتا ہے اور فطری امر ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ابھی سے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان میں گوادر بندرگاہ کی تعمیر کیلئے کی جانے والی مدد کا ایک مقصد بھارت کو جنوبی ایشیا کی جانب بڑھنے سے روکنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا چین اور پاکستان کے تعاون سے جاری سی پیک منصوبے کی بجائے ایران سے تعاون بڑھانے کو ترجیح دے رہا ہے۔

3)۔ بھارت روس کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ انڈیا اور روس کے درمیان نئی ابھر کر سامنے آنے والی اقتصادی طاقتوں یا "بریکس” کے تناظر میں باہمی تعاون جاری ہے۔ اسی طرح انڈیا روس سے دفاعی میدان میں بھی مدد حاصل کر رہا ہے جس کی ایک مثال 2018ء میں روس سے ایئر ڈیفنس سسٹم ایس 400 خریدنے کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت نے امریکہ کے موقف کی حمایت اور افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں اس سے قریبی تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی نظر میں پاکستان کی پوزیشن کمزور کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان اقتصادی میدان میں تناو کی بڑی وجہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ دیگر ممالک حتی اپنے اتحادیوں کے مفادات کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …