جمعہ , 19 جولائی 2019

کربلا فتح کا عنوان

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

کربلا حقیقت ابدی ہے، کربلا چشمہ ہدایت ہے، کربلا حق کا پیمانہ ہے، کربلا انقلاب ہے، کربلا فتح ہی فتح ہے ۔اس میں زندگی و موت کا پیمانہ ہی مختلف ہے، لوگ مرنے کو شکست جانتے ہیں، کربلا مقصد کے لیے مرنے کو کامیابی کہتی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کربلا رونے دھونے کا نام ہے، کربلا صرف ماتم کا نام ہے، کربلا فقط ایک رسم کا نام ہے۔ ایسا نہیں ہے، ان آنسووں کی طاقت ایٹم بم سے زیادہ ہے، وہ اٹھتے ہاتھ سینوں میں موجود عشق کی آگ کو تازہ کر دیتے ہیں اور وہ رسم و رواج ایک عظیم انقلاب سے جڑے ہیں۔ کربلائی تو ہر وقت آمادہ و تیار ہوتا ہے، اس کا مقصد تو امام پر قربان ہونا ہوتا ہے۔ ابھی اسلام آباد میں قتل ہونے والے ایک صحافی کے لیے بنائی گئی ویڈیو دیکھی، جس کے آغاز و اختتام پر اس کی تصویر کے ساتھ یہ ترانہ تھا:

لوٹا سکو تم بھی تو آو، کہ ہم سوئے کربلا چلے ہیں
وہ راستہ حق کا راستہ ہے، جدھر ہم اہل وفا چلے ہیں

یہ دیکھ یہ کر اچھا لگا، کربلا کسی ایک قوم کی میراث نہیں ہے، کربلا پوری امت بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ جوش ملیح آبادی کی طرف منسوب یہ مشہور اشعار یاد آئے:

کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

مجھے نہیں معلوم اگر وہ زندہ ہوتا تو اس پر اس کا کیا ردعمل ہوتا ؟ ایک بات طے ہے، جب بھی کوئی باطل سے ٹکرانے کا سوچے گا؟ جب بھی کوئی جان سے گذرنے کی بات کرے گا؟ دنیا میں اسے کربلا کو رول ماڈل ماننا پڑے گا اور اگر نہیں مانے گا تو کربلا کی طاقت ہے کہ وہ منوا لیتی ہے۔ یمن، لبنان، عراق اور دیگر جگہوں پر کربلا نے جوانوں میں وہ جذبہ صادقہ پیدا کیا کہ دنیا حیرت میں ہے۔ ہم اسی لیے پورا سال علم اٹھائے، سینوں پر ہاتھ مارتے ہر کسی کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ کربلا کی طرف آو، کربلا کی طرف آو۔

کربلا کا فیض جاری ہے، کوئی آئے تو صحیح، کوئی جستجو تو کرے، کوئی تمنا تو رکھے، کوئی سوچے تو صحیح۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم فرمایا کرتے تھے، دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں سے ایران کی اسلامی تحریک اس لیے کامیاب ہوئی کہ ان کے پاس کربلا تھی۔ مولانا اسحق مدنی مرحوم کے تاریخی الفاظ تھے کہ لوگ امام حسین ؑ کی تحریک پر سوال اٹھاتے ہیں اور اسلامی نظام کے لیے تحریکیں چلاتے ہیں؟ بے برکت ہیں ان کی یہ تحریکیں اور کبھی کامیاب نہ ہوں گی، ان لوگوں نے حسین ؑ کو سمجھا ہی نہیں۔ خاتم الانبیاء کے نواسے کی فتح کا اعلان تو بہن نے ملوکیت کے نشے میں چور اس ظالم کے سامنے ہی کر دیا تھا کہ تو ہمارا ذکر نہ مٹا سکے گا۔۔۔ ذکر مٹ بھی کیسے سکتا ہے؟ وہ کائنات کا واحد خالق، وہ خالق جو خلق کے بعد کائنات کو چلا بھی رہا ہے، جس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا، اس نے فرمایا تھا کہ تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا۔

سن لو دنیا والو! حسینؑ سے بڑا ذاکرِ خدا پیدا ہی نہیں ہوگا، جو اکبر و قاسم کے لاشے اٹھانے، اصغر کو پانی پلانے اور خود زخموں سے چور چور ہونے کے بعد بھی اعلان کر رہا تھا! اے پروردگار جس نے تجھے پا لیا، اس نے کیا کھویا؟ جس نے تجھے کھو دیا، اس نے کیا پایا؟ توحید پر قربان ہونے کا جذبہ تو کوئی اس گھرانے سے سیکھے، گیارہ محرم کو جب ثانی زہراءؑ گنج شہداء میں تشریف لائیں اور دیکھا کہ خاندان پیغمبرﷺ کے پھول بغیر سروں کے پڑے ہیں۔ کوئی اور خاتون ہوتی تو حواس کھو دیتی، مگر احمد مرسلﷺ کی نواسی نے ہاتھ بلند کیے تھے اور فرمایا تھا! اے پروردگار ہم اہلبیت پیغمبرﷺ کی اس قربانی کو قبول فرما اور ایک مرثیہ پڑھا تھا، اے نانا جان آپ پر تو آسمان کے فرشتے درود پڑھیں! آو دیکھو آپ کا حسینؑ خون میں غلطان ہے۔ درسِ توحید کی بات کر رہا تھا، جب تخت پر بیٹھے ذلیل نے نواسہ پیغمبرﷺ کی شان میں گستاخی کی اور کہا خدا نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ مقصود یہ تھا کہ خاندان پیغمبرﷺ کی خواتین اور بچوں کو اذیت دے اور خدا کے بارے میں ان کے نظریئے پر حملہ کرے۔ دنیا کو آخری پیغام ِتوحید دینے والے کی نواسی اور امام الموحدین کی بیٹی نے ایسا جواب دیا کہ بادشاہ اور درباری ورطہ حیرت میں چلے گئے تھے، فرمایا تھا:”ما رأيت الا جميلاً” "میں نے تو اللہ سے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں دیکھا۔”

جب بھی خاندان نبوت کی قربانیوں اور ان کی خدا پرستی کا سوچتا ہوں تو دل پر عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور روح کو سرور گھیرے میں لے لیتا ہے۔ انسان عقلی پیمانوں سے اس خاندان کے جذبہ خدا پرستی کو درک ہی نہیں کرسکتا۔ توحید کا تعارف کرانے والی ان ہستیوں کی شان اس سے بلند ہے کہ کوئی آج ان کی شان کم کرنے کی کوشش کرے، ان کے خلاف بات کرنے والے کل روز محشر کس منہ سے شافع محشر کی بارگاہ میں پیش ہوں گے؟ ہمارے دامن میں تو سوائے محبت حسین و خاندان حسینؑ کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہمارا شمار امام حسینؑ سے محبت کرنے والوں میں کرے اور ہم سیاہ کاروں کو بھی توفیق ہو کہ بارگاہ حسینیؑ میں حاضری دیں اور ان کے قبہ مبارک کے نیچے بیٹھ کر اور کیا چاہیئے ہوگا؟ جب ان کے پاس ہوں گے تو سب کچھ تو میسر ہوگا۔۔۔۔

فرحت عباس شاہ کے ان خوبصورت اشعار پر ختم کرنا چاہوں گا۔
دل صبر کے منبر پہ بٹھایا، کہ خدا ہے
اور شکر کو اعزاز بنایا، کہ خدا ہے
اکبر کے لہو سے کیا توحید کو تحریر
اصغر کی شجاعت سے بتایا، کہ خدا ہے
قاسم کی شہادت سے کیا ریت کو گلشن
بکھرے ہوئے پھولوں میں دکھایا، کہ خدا ہے
زینب کا بیان، لہجہ علی، صوت خداوند
زینب نے زمانے کو سنایا، کہ خدا ہے
اک سجدے سے تبدیل کیا شاہ نے منظر
تب موت نے اندازہ لگایا، کہ خدا ہے
وہ سجدہ تو ایسا ہوا، اللہ وہ سجدہ
جب سامنے ایسے نظر آیا، کہ خدا ہے
ہے آج تلک زندہ و جاوید شہادت
تم اب تو سمجھ جاؤ خدارا، کہ خدا ہے

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …