بدھ , 11 دسمبر 2019

مصری حکومت مرسی کی موت کی ذمہ دار ہے : ترک صدر

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے دعوی کیا ہے کہ مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی موت طبیعی نہیں تھی۔اناتولی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کل استنبول کی تاریخی مسجد فتیح میں محمد مرسی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں ترک صدر سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے مصر کے سابق صدر کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مرسی کی موت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا اور اس کا ذمہ دار مصر کی فوج اور حکومت کو ٹھہرایا۔ اردوغان کا خطاب میں کہنا تھا کہ مصری حکومت مرسی کی موت کی ذمہ دار ہے ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین جو پھانسی کی سزا کے خلاف ہے عبدالفتاح السیسی جیسے قاتل اور ظالم کے ساتھ ہے۔

ترکی کے صدر نےعبدالفتاح السیسی کی جانب سے 50 سے زائد مصریوں کی سزائے موت کی تائید و تصدیق کئے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ دنیا مصر کے نوجوانوں کو پھانسی کی سزا دینے پر خاموش ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سیدعباس موسوی نے مصر کے پہلے عوامی انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہونے والے مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے اچانک انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران مصر کے عوام کی سوچ و فکرکا احترام کرتا ہے اورمصر کے معزول صدر محمد مرسی کے انتقال پر اس ملک کے عوام، مرحوم کے اہلخانہ اور ان کے بہی خواہوں کو تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہے۔

پاکستان کی جماعت اسلامی کی اپیل پر پاکستان کے کئی شہروں میں مصر کے سابق معزول صدر مرسی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی ۔واضح رہےکہ مصر کے سابق معزول صدر مرسی کی راتوں رات خاموشی سے تدفین کردی گئی ،سابق صدر محمد مرسی کو اہلخانہ اور اخوان المسلمون کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔

محمد مرسی کے بیٹے احمد مرسی نے فیس بک پر لکھا کہ ہم نے ان کو طورہ جیل کے ہسپتال میں غسل دیا اور جیل میں ہی نماز جنازہ ادا کی۔انہوں نے بتایا کہ قاہرہ کے شہر نصرا میں تدفین کے امور نمٹائے تاہم متعلقہ حکام نے محمد مرسی کے آبائی صوبے شرقیہ میں تدفین سے منع کردیا تھا۔

اخوان المسلمین نے اپنے رہنما کی وفات کو قتل قرار دیتے ہوئے کارکنوں سے کہا تھا کہ وہ بڑی تعداد میں محمد مرسی کی تدفین پر پہنچیں، اخوان کی ویب سائٹ پر آخری پیغام میں کارکنوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ مصر میں تمام غیر ملکی سفارتخانوں کے باہر مظاہروں کیلئے جمع ہوجائیں۔

ہیومن رائٹس واچ گروپ نے محمد مرسی کی وفات کو خوفناک قرار دیا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ مصری حکومت سابق صدر کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے محمد مرسی کے کمرہ عدالت میں انتقال اور پنجرے میں گزرے ان کے آخری لمحات سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب مصری انتظامیہ نے دعوی کیا ہے کہ معزول صدر کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر کسی بھی قسم کے زخم نہیں تھے۔67سالہ سابق مصری صدر کو شوگر، دل اور جگر سے متعلق بیماریاں لاحق تھیں اور وہ اس سے قبل بھی کئی بار عدالت میں دوران سماعت بے ہوش ہوگئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے استنبول میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر …