بدھ , 13 نومبر 2019

فیصلے کی گھڑی

(تنویر حیدر سیّد)

پیغمبرِاسلام ؐکے وصال کے ۲۵ سال بعد ہی اسلام کے نام پر اسلامی ریاست میں آمریت کا باب الفتن کھول دیا گیا۔ملتِ اسلامیہ دو گروہوں میں منقسم ہو گئی۔ ایک گروہ امیر المومنین علی ابنِ ابی طالبؑ کے گرد جمع ہو گیا اور دوسرے گروہ نے ’’ـــانا اوّل الملوک‘‘کا نعرہ بلند کرنے والے امیرِ شام معاویہ ابنِ ابو سفیان کو ا پنا رہنما بنا لیا۔ دونوں گروہوں کے مابین اختلافات اس حدتک شدت اختیار کر گئے کہ نوبت مسلح تصادم تک آ گئی۔ جنگِ صفین میں جب مولائے کائنات اور امیرِ شام کے لشکریوں کے مابین گھمسان کا معرکہ شروع ہوا تو مسلمانوں کے ایک گروہ کویہ فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آئی کہ اس جنگ میں کس فریق کا ساتھ دیا جائے اور کون سے کیمپ اور کون سے بلاک سے وابستگی اختیار کی جائے حالانکہ رسولِ خدا نے حضرت علیؑ کے حوالے سے یہ فرما دیا تھا کہ ’’الحق مع العلی و علی مع الحق‘‘۔ اس مشکل مرحلے پر فیصلہ سازی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے بالآخررسول اللہ کی اس حدیث کو کسوٹی بنایا گیا

جس کے مطابق آپؐ نے ایک بار حضرت عمار بن یاسر کے حوالے سے فرمایا تھا کہ انہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ حضرت عمار بن یاسر رسولِ خدا کے معروف صحابی تھے جو اس جنگ میں حضرت علیؑ کے لشکر میں شامل تھے ۔چنانچہ بعض لوگ اپنی تلواریں نیام میں ڈال کر جناب عمار یاسر کے انجام کا انتظار کرنے لگے ۔ جب عمار یاسربالآخر معاویہ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے تووہ لوگ گو مگو کی کیفیت سے نکل کر امیرالمومنین کے لشکر کا حصہ بن گئے۔ ا مت کے مابین یہ اختلاف آئندہ آنے والے ادوار میں شدید ہو گیا ۔ ملتِ اسلامیہ کے وجود پر ملوکیت کا لگایا ہوا یہ زخم اب ناسور کی صورت اختیار کرچکا تھا۔ صدیوں پر محیط اس اختلاف نے امت کے وجود کو بالآخرکھوکھلا کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملتِ اسلامیہ روز بروز تنزل کا شکار ہوتی گئی اوراس کے مقابلے میں اغیاراس پرتسلّط پاتے گئے۔ میراثِ خلیلؑ مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھن کر تثلیث کے فرزندوں کے ہاتھ میں آ گئی۔ یہود جو خیبر کی شکست کا داغ ابھی تک اپنے سینے پر لیے بیٹھے تھے ، مسلمانوں کے قبلئہ اول پر قابض ہو گئے۔ عروج سے زوال تک کی یہ داستان عبرت کچھ اس طرح سے تھی کہ بقولِ اقبال:

ــ گنوا دی ہم نے ، جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

شکست خوردہ عالمِ اسلام کی اس ناگفتہ بہ صورتِ حال کے باوجود ملتِ اسلامیہ کے بہی خواہ ’’پیوستہ رہ شجر سے امیدِبہار رکھ ‘‘ کے مصداق یہ یقین رکھتے تھے کہ وعدئہ الٰہی کے مطابق اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا دور ایک بار پھر ضرو رلوٹ کر آئے گا جب اہلِ اسلام باہم مل کرباطل قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور انہیں فتحِ مبین حاصل ہو گی۔قرآن و حدیث کی روشنی میںان کو اس پر بھی ایمانِ کامل تھا کہ آخری جنگ مسلمانوں اور یہودیوں اور ان کے گماشتوں کے مابین ہو گی۔انہوں نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ چودھویں صدی کے اختتام پر کرئہ ارض پر کوئی ایسی تبدیلی آئی گی جو اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا راستہ ہموار کرے گی۔آخرِ کار دنیا نے دیکھا کہ عین چودھویں صدی کے اختتام پر ایران کی سرزمین پر ایک ایسا انقلاب رونما ہوا جس کا نظارہ اہلِ دنیا نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔

یہ ایک ایسا نظریاتی انقلاب تھا جس نے جہاں عالمِ کفر کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کر دیا وہاں عالمِ اسلام کے اندر صدیوں سے قائم ملوکیت اور آمریت کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔وقت کے طاغوتوں اور تخت نشینوں نے اس انقلاب کے آگے بند باندھنے کی ہزار کوششیں کیں لیکن یہ انقلاب معجزانہ طور پر اپنی ارتقائی منازل کو طے کرتا گیا اور کسی ایک قوم یا ایک فرقے کی حدود سے نکل کر

ایک عالمی اور آفاقی انقلاب بن گیا۔ آج اس انقلاب کی کامیابی کے چالیس سال مکمل ہونے کے بعد لمحہء موجود میں تاریخ میں پہلی بار مقابلے کا ایک ایسا میدان سجھ گیا ہے جس میں ایک طرف یہود اورملوکیت کی نمائندہ قوت آلِ سعوداور دوسری جانب مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ طاقت ایران صف آراء ہے ۔اس نازک مرحلے پرآج ایک بار پھر مسلمانوں کا ایک طبقہ اس تذبذب میں ہے کہ اس معرکے میںکس کا ساتھ دیا جائے حالانکہ اس کھلے میدان میں حق اور باطل کی پہچان مشکل نہیں ہے ۔

حق آج روزِ راوشن کی طرح اور باطل سیاہ رات کی طرح بالکل واضح اورآشکارا ہے۔ آج یہود اور آلِ سعود ایک ہی صفحے پر اور ایک ہی صف میں ہیں۔آج کا دور وہ آخرالزماں ہے جس کا امت نے چودہ صدیوں تک کا انتظار کیا ہے۔آج کے اس نئے معرکہء خیبر میں ہم اپنی چشمِ سر سے واضح طور پردیکھ سکتے ہیں کہ مرحب و انتر کے وارثان کس طرف ہیں اور فاتحِ خیبر کے وارث کس جانب۔ یزیدانِ وقت کے پرچم بردارکس سمت ہیں اور حسینی لشکر کے علم بر دارکس طرف۔ حق اور باطل کے مابین محض دو قدم کا فاصلہ ہے ۔ اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے آ ج کے حرؑ کو بھی محض ایک تاریخی فیصلہ کرنا ہے کیوں کہ اس مرحلے پر جانبداری بھی باطل کی طرف داری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …