بدھ , 13 نومبر 2019

خاشق جی اور اقوام متحدہ

(مسعود انوار)

سعودی صحافی جمال خاشق جی کے قتل کے بارے میں اقوام متحدہ نے پھر انگڑائی لی ہے اور اس قتل کا ذمہ دار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو قرار دیا ہے۔ خاشق جی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ جو19 جون کو جاری کی گئی، میں کہا گیا ہے کہ ایسے قابل بھروسہ شواہد سامنے آئے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ سعودی اہلکار خاشق جی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے محمد بن سلمان کو خاشق جی کے قتل کی تفتیش میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمال خاشق جی ایک سعودی صحافی تھا، اس کا شمار سعودی شاہی خاندان کے بڑے ناقدین میں ہوتا تھا، اسی وجہ سے وہ سعودی عرب میں معتوب بھی تھا، اسی بنا پر وہ امریکا میں رہائش پذیر تھا۔

خاشق جی کے ایک طرف سعودی شاہی خاندان میں گہرے روابط تھے تو دوسری جانب اس کے امریکی اسٹیبلشمنٹ میں بھی معاملات تھے۔ عرف عام میں خاشق جی کو امریکی سی آئی اے کا سعودی عرب میں بہترین اثاثہ گردانا جاتا تھا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جمال خاشق جی کو اس کی دوسری شادی کے اجازت نامے کے بہانے استنبول میں سعودی سفارتخانے بھیجا گیا اور پھر وہاں اسے قتل کرکے اس کی لاش ٹکڑوں میں کرکے غائب کر دی گئی۔ یہ ایسا ہی معاملہ تھا جیسے کویت پر عراقی صدر صدام حسین کے حملے کا تھا۔

ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادیوں نے صدام حسین کو کہا کہ وہ کویت کے دو جزائر پر حملہ کرکے قبضہ کرلے، اس میں اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی آشیرباد حاصل ہوگی تو دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو کہا گیا کہ صدام حسین کی قیادت میں عراق ایک خطرہ بن گیا ہے۔ آج اس نے کویت کے دو جزائر پر قبضہ کیا ہے تو کل دیگر ممالک پر طبع آزمائی کرے گا اس لئے عراق کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اس بہانے خلیج کی جنگ شروع کردی گئی جس کے بعد اس خطے میں جو تباہی پھیلی اس کے اثرات سے اب تک عرب ممالک نہیں نکل سکے ہیں۔

خاشق جی کے قتل میں بھی سی آئی اے نے سعودی عرب کو تھپکی دی کہ وہ اس ناقد کا منہ ہمیشہ کیلئے بند کردے۔ ایک جانب خاشق جی سے جان چھوٹے گی تو دوسری جانب دیگر ناقدین عبرت پکڑیں گے چونکہ اس کھیل میں سی آئی اے پوری طرح شامل تھی، اس لئے سی آئی اے کو اس ڈرامے کے ایک ایک سین کا پتا تھا اور اس نے ہر ثبوت کو جمع کرنے کیلئے پیش بندی بھی کی ہوئی تھی۔ تاہم اب اچانک اقوام متحدہ نے دوبارہ سے انگڑائی لی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا۔ خاشق جی کا قتل کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر یوں اقوام متحدہ متحرک ہوجائے، کشمیر، میانمار، بھارت سمیت دنیا کے بہت سارے علاقوں میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں جاری ہیں مگر اقوام متحدہ کو اس سے کوئی علاقہ نہیں۔

اقوام متحدہ کو کشمیر میں اپنی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد سے کوئی دلچسپی نہیں۔ فلسطین میں اسرائیل کی چیرہ دستیاں روز ایک نئے نشان کو چھوتی ہیں مگر اقوام متحدہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ متحرک ہے تو ایک فرد خاشق جی کے قتل پر۔ آخر کیوں؟ اس سوال کے جواب میں ہی ساری کہانی پنہاں ہے۔آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں صورتحال روز بہ روز سنگین بنائی جارہی ہے۔ اس علاقے میں دو مرتبہ غیر ملکی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے جس کا الزام امریکا نے ایران پر دھر دیا ہے۔ پہلی مرتبہ جب تیل سے بھرے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ اس میں موساد کا ہاتھ ہے مگر تب بھی الزام ایران پر ہی لگایا گیا تھا۔

دوسری مرتبہ کے حملے میں نشانہ بننے والا ایک جاپانی آئل ٹینکر بھی تھا اور جاپانی حکومت نے بھی یہی موقف اختیار کیا کہ وہ اس کا الزام ایران پر نہیں لگائیں گے۔ خود سے جنگ لڑنے کی صورت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی ہوگا۔ ان کے فوجی اور مالی وسائل استعمال ہوں گے۔ سعودی عرب اور عرب ممالک کو جنگ میں جھونکنے کے نتیجے میں ان کی ہائی کمان ان عرب ممالک پر براہ راست قابض ہوگی اور اسلحے اور دیگر سہولیات کے نام پر ان ممالک پر قرضوں کے انبار چڑھ رہے ہوں گے۔ یہی وہ صورتحال ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مطلوب ہے۔

جنگ کے خواہش مند ان عالمی سازش کاروں نے سعودی عرب کو مجبور کرنے کیلئے خاشق جی کارڈ کو دوبارہ سے نکالا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذریعے محمد بن سلمان کا بازو موڑا جارہا ہے کہ یا تو ہماری بات مانو اور ایران پر حملہ کرکے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کردو یا پھر اپنی بادشاہت چھوڑنے کیلئے تیار ہوجاؤ۔ دونوں صورتوں میں ان عالمی سازش کاروں کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ عرب ممالک اگر عالمی جنگ کا ایندھن بننے پر راضی ہوجاتے ہیں تو جلد ہی خلیج عمان میں نئی پیش رفت سامنے آئے گی اور اگر اس جنگ کی مزاحمت کرتے ہیں تو خاشق جی قتل کیس اقوام متحدہ میں تیزی سے آگے بڑھنا شروع ہو جائے گا اور اس قتل کا ایک ایک ثبوت کئی کئی زاویوں سے سامنے آنا شروع ہوجائے گا۔آنے والے ہفتے انتہائی اہم ہیں، اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔ ہشیار باش۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …