جمعہ , 19 جولائی 2019

امیر قطر کا دورہ پاکستان

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمدالثانی پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے وطن روانہ ہو گئے۔ امیر قطر کا دورہ دونوں برادر ملکوں کے باہمی تعلقات میں گرم جوشی سے بھر پور رہا۔ پاکستان پہنچنے پر امیر قطر کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان خود ان کی گاڑی ڈرائیو کر کے لائے۔ ان کے دورے کے دوران پاک قطر وفود میں کئی امور پر اتفاق ہوا۔ سیاحت اورتجارت کے شعبوں میں تعاون کے تین سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے۔ وزیر اعظم عمران خان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے سرمایہ کاری اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں ملک تیل و گیس کی تلاش‘ زرعی و صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری اور دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی تیار ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ قطر اپنے ہاں پاکستانی کارکنوں کی تعداد بڑھانے کا خواہش مند ہے۔ پاکستان اور قطر کے تعلقات تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بڑھانے کی بہت گنجائش موجود ہے۔ دونوں ممالک مخصوص بین الاقوامی حالات کی وجہ سے اپنے وسائل اور تعلقات سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ دو برس قبل سعودی عرب میں 34مسلم ممالک کی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں بعض اہم عرب ممالک نے ایران کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا جس سے خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

اس کانفرنس کے بعد سعودی عرب نے قطر پر الزام لگایا کہ وہ یمن میں حوثیوں کو مالی وسائل فراہم کر رہا ہے۔ قطر کو ایران کی مدد کرنے کا ملزم بھی ٹھہرایا گیا۔ اس سلسلے میں چند دیگر خلیجی ریاستوں نے معاملات کو سدھارنے کی کوشش کی تو ان کے لئے بھی سخت رویہ اختیار کر لیا گیا۔ قطر خلیج تعاون کونسل کا رکن ہے۔ سعودی عرب کی سرکردگی میں دیگر خلیجی ریاستوں نے قطر کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ قطر کی 60فیصد تجارت متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں اور سعودی عرب کے راستے سے ہوتی تھی۔ قطر کی ناکہ بندی کر کے اس کی معیشت کے لئے خطرات پیدا کئے گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے خلاف ایسے فیصلوں کی حمایت جاری رکھی۔ قطر سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرے۔ قطر پر پابندیوں کا دو سال بعد بھی کوئی فائدہ نہیں نکلا۔ ایران اور ترکی کے ہوائی جہاز سامان بھرکرقطر آ جارہے ہیں۔ اس عرصے میں قطر نے تجارت اور ضروریات کی تکمیل کے لئے دیگر ذرائع کو آزمایا ہے۔ ایران نے قطر کے جہازوں کے لئے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں۔ ترکی نے قطر میں اپنے فوجی دستے بھیج کر خطے کے دیگر ممالک کو پیغام دیاہے۔

قطر میں 2022ء میں فیفا ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ ہو رہاہے۔ وہاں تعمیرات ‘ سیاحت اور کاروبار کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کے مغرب میں عالمی سپر پاور امریکہ نے عشروں سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ امریکی مفادات کی نئی تشریح یہ ہے کہ جو ملک امریکہ کی عالمی پالیسیوں میں کارآمد نہیں اسے نقصان پہنچانے میں کوئی عذر نہیں۔ پاکستان کی افرادی قوت کا بڑا حصہ سعودی عرب اورخلیجی ریاستوں میں محنت مشقت کرتا ہے۔ سعودی معیشت پچھلے کچھ برسوں سے دبائو میں ہے۔ وہاں پاکستانی کارکنوں کے لئے ماحول زیادہ سازگار نہیں رہا۔ اس موقع پر ہمیں ترسیلات زر کو بڑھانے کے لئے نئی منڈیوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان قطر کو دودھ‘ گوشت‘ سبزیاں‘ پھل اور چاول کی برآمدات کر سکتا ہے۔

اگرچہ ترکی اور ایران کی تعمیراتی کمپنیاں قطر میں بڑے تعمیراتی ٹھیکے حاصل کر چکی ہیں تاہم پاکستان کے لئے اب بھی بہت سے مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتاہے۔ امیر قطر نے پاکستانی ساختہ جے ایف 17تھنڈر جنگی طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دونوں ملک جن مشکلات کا شکار ہیں ان سے نجات کے لئے ایک دوسرے کاہاتھ تھام سکتے ہیں۔ قطر سے پاکستان ایل این جی حاصل کر رہا ہے۔ امیر قطر کے دورے کے دوران تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں میں قطر کا تعاون حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستان کو اپنی تکنیکی صلاحیت‘ خام مال اور خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ سردست ہم آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔

چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست تعاون کررہے ہیں مگر تعاون کے اس حجم سے پاکستان کے مالیاتی مسائل حل نہیں ہو رہے۔ بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے۔ ملک میں ایک بار پھر سے امن کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ لندن میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ بھی سکیورٹی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ناگزیر تعلق کی بات کر رہے ہیں۔ پاکستان نے مدت کے بعد اپنی خارجہ پالیسی میں عصری تقاضوں کو شامل کیا ہے۔ دو ہفتے قبل وزیر اعظم نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے اسلحہ خریداری کی بجائے تجارت بڑھانے کا کہا۔

سعودی ولی عہد پاکستان تشریف لائے اور تین سال تک ادھار تیل دینے کا اعلان کیا پاکستان نے ان سے بھی تجارتی تعلقات میں اضافے کی درخواست کی۔قطر آبادی کے لحاظ سے بھلے چھوٹا ملک ہے مگر اس وقت خطے کی سیاست کے کئی اہم مرکز قطر میں موجود ہیں۔ قطر ایران سعودیہ کشمکش کا فریق بن چکاہے۔ قطر میں افغان طالبان نے اپنا سیاسی دفترکھول رکھا ہے۔

قطر میں امریکی افواج کا بہت بڑا اڈہ ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ قطری سرمایہ کار ہمیشہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہش مند رہے ہیں مگر ان کو مخصوص سیاسی خانوادوں نے اپنا کاروباری شراکت داربنا کر متنازع حیثیت دیدی۔ قطر کے ساتھ تعلقات کی نئی بنیادیں ایک ریاست کے دوسری ریاست کے ساتھ تعلقات پر استوار کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کو ایسے دوست ممالک کی ضرورت ہے جو اس کی معیشت کو بحران سے نکالنے میں مدد فراہم کر سکیں ان حالات میں امیر قطر کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …