جمعہ , 15 نومبر 2019

نئی سازشوں کی تیاری

(مظہر بر لاس)

خاکسار، یہ سطور بیجنگ کی مرکزی شاہراہ پر واقعہ جیان گو ہوٹل کے کمرہ نمبر 271سے لکھ رہا ہے، ابھی یہاں آمد ہوئی تھی، وفد میں شامل باقی سب لوگ تو شاید آرام کر رہے ہوں مگر مجھے تو تحریر کی آرزو ہے اور پھر کالم بھیجنے کا بھی ایک خاص وقت معین ہے سو طویل فضائی سفر کی تھکن کے باوجود میں وقت کی قید سے نہیں نکل پایا۔ چین میں ابھی ملاقاتوں کا آغاز نہیں ہوا، اس لئے چین کا احوال تو نہیں لکھ سکتا البتہ مجھے چین کا پچھلا دورہ یاد ہے۔ پچھلی مرتبہ میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ چینی کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر چین آیا تھا، سید نیئر بخاری کی قیادت میں آنے والے اس وفد کو چین کے مختلف علاقوں میں لے جایا گیا، چینیوں نے اس وقت ہماری بہت قدر کی تھی، ہمارے وفد کی محبت میں سڑکیں بند کر دی جاتی تھیں، اس بات کی گواہی تو عامر فدا پراچہ، حیدر زمان قریشی، مطلوب انقلابی اور ملائکہ رضا بھی دیں گے، سہیل خان اور شفیق سولنگی، جرار بخاری، جاوید شاہ، آغا ماجد، راجہ شاہ جہان سرفراز، قاسم نوید قمر اور دلچسپ آدمی چنگیز جمالی اس وفد میں شامل تھے، اس مرتبہ وفد ذرا مختلف ہے، اس مرتبہ دورہ لاہور میں قائم چینی قونصلیٹ کا ترتیب دیا ہوا ہے وفد کے روح رواں ڈاکٹر ظفر محمود ہیں، 1976سے ڈاکٹر ظفر محمود کا چین میں آنا جانا ہے انہیں چینی زبان پر اچھا خاصا عبور حاصل ہے۔ وہ بیجنگ میں قائم پاکستانی سفارتخانے کی اعزازی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور اب سی پیک کی اعزازی نمائندگی بھی ان کے سپرد ہے۔ اس دورے کا بظاہر مقصد چین کو سمجھنا ہے۔

اس مرتبہ ہماری ملاقاتیں سیاسی قیادت سے کم اور کاروباری حلقوں سے زیادہ ہوں گی۔ میں قوم پرستی کے معاملے میں سب سے زیادہ چین اور ایران سے متاثر ہوں، ان ملکوں کو اپنی انا اور زبان پر سمجھوتہ کرتے نہیں دیکھا، پھر یہ دونوں ملک دوستیوں کو طویل تر بنانا چاہتے ہیں۔ وفد میں شامل لوگوں کو دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ سید محمد مہدی، ڈاکٹر صغرا صدف اور اس خاکسار کے علاوہ کسی نے قومی لباس نہیں پہن رکھا تھا، سید محمد مہدی نے لباس کے حوالے سے بڑی اچھی باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ ’’ہم پاکستانیوں کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہمارے پاس مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے ملبوسات موجود ہیں، ہمارے ہاں لباس میں ورائٹی بھی ہے‘‘۔ میں ایک زمانے میں ٹائی سوٹ پہنا کرتا تھا پھر ایک دن خیال آیا کہ میں پاکستانی ہوں، مجھے پاکستانی لباس ہی پہننا چاہئے، اس دن کے بعد جہاں کہیں بھی جاتا ہوں، اپنا لباس پہنتا ہوں، اپنی زبان بولتا ہوں، مجبوری کے عالم میں دوسری زبانیں بولتا ہوں، بس یہی سوچ کر کہ ہمیں غلامی کی تمام زنجیریں توڑ دینا چاہئیں۔ خیر یہ ایک لمبی بحث ہے، اس مرتبہ وفد میں ہمدم دیرینہ محسن گورایہ، سجاد جہانیہ، میاں سیف الرحمن، آصف عفان، یاسر حبیب خان، عامر خان، ملک سلمان اور کومل سلیم شامل ہیں، فریدہ فاروقی ناسازی طبع کے باعث نہ آسکیں، وفد میں شامل باقی لوگوں کا تذکرہ پہلے کر چکا ہوں۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ چین میں ابھی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوا مگر پھر بھی چین دنیا کے اس خطے میں واقع ہے جہاں چار ساڑھے چار ارب انسان بستے ہیں، اسی خطے میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے علاوہ ایران، افغانستان، عمان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک شامل ہیں، ان ممالک کے درمیان پاکستان جیسا اہم ملک بھی ہے، روس بھی اسی خطے میں ہے، ترکی بھی اس خطے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یمن، شام اور اسرائیل بھی یہیں ہیں، اسی خطے میں دو اہم متنازعہ علاقے ہیں ان دونوں کے بارے میں اقوام متحدہ کا ادارہ وہ کچھ نہ کر سکا جو اسے کرنا چاہئے تھا، میری مراد فلسطین اور کشمیر ہیں، آج بھی فلسطینی اور کشمیری لوگ ظلم کے سامنے کھڑے ہیں، انصاف کے منتظر ہیں اس خطے میں جنگ عظیم دوم کے بعد سے جنگ کے بادل کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ رہے ہیں، ان دنوں پھر مشرق وسطیٰ میں محاذ گرم ہے۔

اب کی بار کھٹکنے والا ملک ایران ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور کچھ مسلمان ملک ایران کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے عرصے سے سازشیں کی جا رہی ہیں اور اب سازشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ گریٹر اسرائیل کی خواہش ہے، اسرائیل خود کو پھیلانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے پھیلائو کی سازش میں امریکہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ خطے میں کئی اسلامی ملکوں کی بربادی کے بعد ایران وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل کو کھٹکتا ہے اگرچہ پاکستان کے بارے میں بھی اسرائیل کے خیالات کہیں سخت ہیں کیونکہ واحد ایٹمی اسلامی امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی مگر پاکستان میں یہ ممالک اور طریقے سے لڑ رہے ہیں، ایران کے اندر یہ طریقہ استعمال نہیں ہو سکتا کیونکہ ایرانی ایک قوم کی طرح زندہ رہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے موجود ہیں۔ اسرائیل اسلامی ملکوں کی تباہی کیوں چاہتا ہے، شاید اس کی بڑی وجہ آج تک ایک ہی ہے، یہودی ابھی تک فتح خیبر نہیں بھولے، انہیں ان کے تین سردار نہیں بھولتے، خیبر کے علاقے میں یہودیوں کی کئی بستیاں تھیں، تین بھائی یہودیوں کے بڑے لیڈر تھے۔ مرحب، حارث اور انتر، سب سے بڑا مرحب تھا، جسے حضرت علی ؓ نے دو ٹکڑے کر دیا تھا، خیبر کے دروازے کو مولا علیؑ نے انگلی سے اکھاڑ پھینکا تھا، جسے بند کرنے کیلئے ستر سے زائد افراد کی طاقت استعمال ہوتی تھی مگر یہودی ابھی تک خیبر کو نہیں بھولے، مسلمانوں کو تو بہت کم یاد ہے شاید اسی لئے پچھلے دنوں یہودی نوجوانوں کے ایک گروہ نے ایک پوسٹر لہرایا کہ ’’مسلمانوں خیبر کی جیت تمہاری آخری جیت تھی، اب تم ہم سے کبھی نہیں جیت سکتے ‘‘۔

نئی سازشوں کے تحت امریکہ اور اسرائیل اس بات پر مشاورت کر رہے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب پر حملے اس انداز میں کئے جائیں کہ ایران پر حملہ ہو تو وہ سمجھے کہ سعودی عرب نے کیا ہے اور اگر سعودی عرب پر حملہ ہو تو وہ سمجھے کہ ایران نے کیا ہے۔ اس طرح شک کی بنیاد پر مسلمان ملک آپس میں لڑیں اور مریں گے، مسلمانوں کے ملک کمزور ہوں گے۔ اس طرح گریٹر اسرائیل کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ اب یہ ذمہ داری مسلمان ملکوں کی ہے کہ وہ کس طرح اس سازش سے بچتے ہیں۔ ایران، اسرائیل کو کیوں کھٹکتا ہے کیونکہ اقتصادی پابندیاں برسوں میں بھی ایران کو برباد نہیں کر سکیں، نہ ہی ایران، عراق جنگ ایسا کر سکی ہے پھر شام، لبنان اور یمن میں ایرانیوں نے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ 2009میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر سائبر حملہ کیا تھا، یہ حملہ ناکام کر دیا گیا، 2011میں ایران نے امریکہ کے ڈرون طیارے سے RQ-170کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا، یہ بھی امریکی ناکامی تھی، ستمبر 2018میں ایرانی فوجی پریڈ پر حملے کے بعد ایرانیوں نے داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا، میزائلوں کی بارش نے اسرائیل اور امریکہ کو پریشان کر دیا تھا۔ اب 20جون 2019کو ایرانیوں نے امریکی ڈرون گرا کر پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، حملے کا سوچنے والے اب سازشوں کا سوچ رہے ہیں، مسلمانوں کو سازشوں سے بچنا ہو گا کہ بقول غالب؎

کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

(بشکریہ جنگ نیوز)

یہ بھی دیکھیں

بھارتی علماء کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہیں؟

  تنویر قیصر شاہد پہلے تو مجھے ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن ‘‘ کے نائب مدیر …