اتوار , 21 جولائی 2019

ایتھوپیا میں بغاوت کی لہر

افریقی ملک ایتھوپیا میں حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے جب کہ باغیوں کی حملے میں فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل میکنن ہلاک ہوگئے، تاہم حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کئی افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جس کے بعد حالات قابو میں ہیں، لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی بیان کی جارہی ہے، ایتھوپیا ایک بار پھر بحران کی زد میں آگیا ہے۔ یہ

سیاسی اور ریاستی بحران کیا رخ اختیارکرتا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اقتدارکی غلام گردشوں میں نہ صرف سازشوں کے تانے بانے بنے جاتے ہیں بلکہ غیرملکی قوتیں بھی مسلح بغاوت کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہیں۔

مسلح جدوجہد اگرکامیاب ہوجائے تو ’’انقلاب‘‘ آجاتا ہے اور ناکام ہوجائے تو بغاوت قرار پاتی ہے۔ ماضی قریب میں ایتھوپیا دنیا کا ایک قحط زدہ ملک تھا اور اس قحط کی درد انگیز صورتحال آج تک ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ ہے۔ شاہ ہیل سلاسی نے 1974 میں کہا تھا کہ اگر ایتھوپیا نے قبائلی جنگوں کا خاتمہ نہ کیا تو اسے اس کے بھیانک نتائج دیکھنا پڑیں گے۔ ہیل سلا سی خود بھی مارے گئے۔

حکومت نے ادیس ابابا میں فوج کے سربراہ کی ہلاکت اور اس سے چند گھنٹے قبل امہارا کے گورنر کی ہلاکت کے واقعے کو سازش قرار دیا ہے۔وزیرِ اعظم نے ٹیلی ویژن پر فوجی وردی میں ملبوس ہوکر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’شیطانی‘ طاقتوں کے خلاف متحد ہوجائیں جو ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔

اب یہ شیطانی قوتیں کون سی ہیں اس کی وضاحت باقی ہے ۔ ادھر امریکی حکومت نے ادیس ابابا میں اپنے سفارتی عملے کو اپنی رہائش گاہوں میں ہی رہنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ تو سپر پاورکا وطیرہ ہے کہ وہ پہلے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے اعلامیہ جاری کرتے ہیں ، لیکن اس وقت امن وامان کے حوالے سے جو ابتر صورتحال اس پر مکمل خاموشی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بحرانی کیفیت یکدم پیدا ہوئی ہے یا اس کے پیچھے دیگر عوامل کارفرما ہیں۔کہنے والے کہتے ہیں کہ وزیراعظم ابے احد کی جانب سے ماضی کے حکمرانوں کے سخت نظام کو ختم کرنے اور اصلاحات لانے کی کوششوں سے بغاوت کی لہر نے سر اٹھایا ہے۔

اس صورتحال میں اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایتھوپیا کے اندرکسی بھی ممکنہ ’’خانہ جنگی ‘‘ کو جنم لینے سے روکیں اور فریقین کو مذاکرات کے میز پر لائیں تاکہ ایتھویپائی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔ یہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے یہاں پر ایتھوپیا میں برسرپیکار متحارب قوتوں پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …