جمعہ , 19 جولائی 2019

جنگ یمن، کیا متحدہ عرب امارات چپکے سے راستے بدل رہا ہے

(تحریر: ثاقب اکبر)

متحدہ عرب امارات نے سعودیہ کے ساتھ مل کر مارچ 2015ء میں یمن پر چڑھائی کی تھی۔ اس کی بری، بحری اور فضائی افواج نے اس میں پوری قوت سے حصہ لیا۔ خاص طور پر عدن میں زمینی کارروائی کے لیے متحدہ عرب امارات کا کردار سعودی عرب سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب نے اگرچہ تمام محاذوں پر اس جنگ میں اپنی طاقت کو جھونکے رکھا، لیکن اس کا بڑا کردار فضائی حملوں میں دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں بھی یمن کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں سعودی مداخلت کا سلسلہ جاری رہا ہے، تاہم اس وقت یوں لگتا ہے کہ جہاں ایک طرف یمنی افواج ہر روز سعودیہ پر کاری ضربیں لگا رہی ہیں، وہاں متحدہ عرب امارات چپکے سے اس جنگ سے لاتعلق ہو رہا ہے۔ خود انصار اللہ اور اس کی حکومت بھی یو اے ای کو یہ موقع فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے۔ گذشتہ تین دنوں میں ہر روز یمنی افواج نے ایک سعودی ڈرون مار گرایا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں میں یمنی میزائلوں اور ڈرونز سے نجران، جیزان، ابہا، عسیر اور دیگر سعودی علاقوں میں ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے آرامکو کی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہیں، جبکہ چند دنوں سے متحدہ عرب امارات پر حملے کی کوئی خبر نہیں آئی۔

جن دنوں میں آرامکو کی پائپ لائنز کے خلاف کارروائی کی گئی تھی، ابو ظہبی کے ہوائی اڈے پر بھی ایک حملہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یو اے ای کے خلاف کسی کارروائی کی خبر سامنے نہیں آئی۔ دوسری طرف گذشتہ ہفتے 22 جون 2019ء کو خبر رساں ادارے سپوتنک نے منصور ہادی سے وابستہ ایک روزنامے ’’عدن الغد‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یو اے ای کا ایک بحری جہاز عدن سے اپنے بیس ٹینک نکال کر لے گیا ہے۔ یہ ٹینک الزیت بندرگاہ سے بحری جہاز پر لادے گئے۔ یہ ٹینک عدن میں منصور ہادی کی نام نہاد حکومت کی حمایت میں انصار اللہ سے مقابلے کے لیے لائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ یمن کی وزارت اطلاعات کے ایک اہم عہدیدار نصر الدین عامر نے گذشتہ منگل (18 جون 2019ء) کو ایک بیان میں متنبہ کیا تھا کہ اگر یو اے ای یمن کی جنگ سے باہر نہ نکلا تو اس کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر میزائل حملے شروع کر دیئے جائیں گے۔

یمنی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا تھا کہ ان کے پاس جدید ترین ترقی یافتہ ٹیکنالوجی موجود ہے، جسے امریکی بھی شکست نہیں دے سکتے۔ ان بیانات کے بعد جہاں ایک طرف سعودی عرب پر یمنی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور سعودیہ کی طرف سے بھی یمن پر کارروائیوں کی خبریں آرہی ہیں، اگرچہ پہلے کی نسبت کم ہوگئی ہیں، لیکن یو اے ای کے خلاف یمنیوں کی کسی کارروائی کی خبر ان دنوں سامنے نہیں آئی اور نہ ہی یو اے ای کی طرف سے یمن پر کسی حملے کی خبر آئی ہے۔ ایسے میں یو اے ای کا اپنے ٹینک نکال کر لے جانا اور سعودی عرب پر یمنی حملوں کے حوالے سے کھل کر اظہار تشویش بھی نہ کرنا بہت معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں جس منصور ہادی کی حمایت کے نام پر متحدہ عرب امارات میدان میں کودا تھا، وہ خود ہمیشہ کے لیے ریاض اور یمن کو خیر باد کہ کے امریکا میں جا بسا ہے۔

یہاں پر الفجیرہ میں لنگر انداز سات تیل بردار جہازوں کی تباہی کا معاملہ بہت سوال انگیز ہے۔ اس کا الزام امریکا اور سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کارروائی یمنی مزاحمت کا حصہ ہے۔ البتہ اس کے لیے ابھی تک شواہد پیش نہیں کیے جاسکے۔ دوسری طرف یہ امر تعجب خیز ہے کہ اس حادثے سے ایک روز پہلے امریکا کے سمندری امور کے ادارے نے اعلان کیا تھا کہ ممکن ہے کہ ایران امریکی تجارتی جہازوں جن میں تیل بردار جہاز بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنائے۔ اس اعلان کے اگلے روز اس حادثے کا پیش آنا تجزیہ کاروں کے نزدیک بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایران نے اس حادثے کے بعد اعلان کیا تھا کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونا چاہئیں۔ ہماری رائے میں ان بحری جہازوں کو خود امریکا نے نقصان پہنچایا ہو یا کسی اور نے، بہرحال یہ حادثہ یو اے ای کے لیے ایک انتباہ ضرور ہے کہ اگر وہ آتش جنگ میں شریک رہا تو اس کے الائو خود اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ظاہر ہے یو اے ای سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ امریکا کے خلاف کوئی بیان دے، لیکن اس جنگ سے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے کی ایک راہ اس کے پاس موجود ہے۔

یو اے ای کا مسئلہ بہت واضح ہے اور خطے پر سرسری نظر رکھنے والا تجزیہ کار بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر یمن کی طرف سے ویسے چند بلاسٹک اور کروز میزائل ابوظہبی اور دبئی پر پھینک دیئے جائیں، جیسے سعودی عرب کی مختلف تنصیبات پر پھینکے گئے ہیں تو اس کی اکانومی اس طرح سے زمین بوس ہو جائے گی، جیسے 11 ستمبر کے واقعے میں نیویارک کے Twin Towersہوگئے تھے۔ یو اے ای میں موجود سرمایہ کار تیز رفتاری سے اسے چھوڑ کر اڑ جائیں گے اور یو اے ای کے پاس اس کے علاوہ ہے بھی کچھ نہیں۔ یو اے ای جو کچھ کر رہا ہے، ایک سمجھدار سرمایہ دار اور تاجر کو ایسا ہی کرنا چاہیئے، البتہ کیا امریکا اور سعودی عرب اس کو گھیر کر کہیں اور تو نہیں پہنچا دیں گے؟ یاد رہے کہ قطر پہلے ہی اس محاذ سے جدا ہو کر محفوظ ہوچکا ہے، یہ تجربہ ضرور یو اے ای کے سامنے ہوگا۔

البتہ امریکا بظاہر اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ یمنیوں کا پلڑا رفتہ رفتہ اس جنگ میں بھاری ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو امریکا زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھنا چاہے گا۔ اس کے لیے ہمیں 2006ء میں لبنان پر اسرائیلی جارحیت کا تجربہ سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکا نے شروع میں کوشش کی کہ اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جائے، یہاں تک کہ وہ حزب اللہ کو تباہ کر دے اور بعد میں اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی قرارداد منظور کروائے، لیکن جب حزب اللہ کو شکست دینے کے امکانات ختم ہونے لگے اور اسرائیل کی شکست کے آثار نمایاں ہونے لگے تو امریکا نے اس جنگ کو بند کروانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیئے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ نے حال ہی میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی قیادت میں جاری جنگ میں فوجی تعاون سے ہاتھ کھینچ لے۔ ان دنوں اقوام متحدہ بھی جنگ بندی کے لیے سرگرم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ سب کچھ واضح کر رہا ہے کہ اب ’’انسانیت کے ہمدرد‘‘ آتش جنگ کو بجھانے کے لیے ’’پورے جذبے‘‘ سے میدان میں آنے والے ہیں اور انسانیت کی حمایت میں واویلا شروع کرنے والے ہیں۔ البتہ متحدہ عرب امارات نے پہلے ہی صورتحال کا بہتر اندازہ لگا کر ایک راستہ اختیار کر لیا ہے، اگرچہ یہ سب کچھ چپکے چپکے ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …