اتوار , 21 جولائی 2019

امریکا ایران کشیدگی اور ممکنہ نقصانات

(چوہدری ذوالقرنین ہندل)

یوں تو امریکا اور ایران کے درمیان تنازعات برسوں سے چلے آرہے ہیں۔ جس کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب بھی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے خراب تعلقات سے کون واقف نہیں۔ اسی چیز کو بنیاد بنا کر امریکا اپنا مفاداتی کھیل، کھیلنے کی تگ و دو میں ہے۔ تاہم گزشتہ چند دنوں سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ دنوں خلیج اومان میں عربوں کے آئل سے بھرے بحری ٹینکروں پر زیر آب بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا۔ امریکا اور سعودی عرب نے براہ راست ایران پر حملوں کا الزام عائد کیا۔ لیکن اس کے برعکس ایران ایسا ماننے سے انکاری ہے۔ اسی کشمکش میں، ایران کی جانب سے امریکی جاسوس ڈرون گرانے کی خبر ملی۔ امریکا نے ایران پر الزام عائد کیا کہ ان کا ڈرون بین الاقوامی حدود میں گرایا گیا۔ تاہم ایران نے اپنے جواب میں کہا کہ امریکی ڈرون ایرانی حدود میں داخل ہوا، جو ہماری دفاعی پالیسی کی مخالفت ہے، اور ہم اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹ میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اڈوں کا نشانہ لیا ہوا تھا، عین حملے کے وقت انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کےلیے ارادہ ترک کیا گیا۔ لیکن امریکی اخباروں کے مطابق جب امریکی صدر نے ایران پر فضائی حملے سے روکا، اس کے بعد جمعرات کو امریکا نے ایران کے ہتھیاروں کے نظام پر سائبر حملہ کیا۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائبر حملے سے ایران کے راکٹ لانچر کے نظام کو روکا گیا۔ یوں کشیدگی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: امریکی فورسز کا ایران کے میزائل سسٹم پر سائبر حملہ

بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ کشیدگی کسی بھی وقت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ میرے نزدیک جنگ کے امکانات بہت کم ہیں۔ تاہم چھوٹی سی غلطی کچھ بھی کروا سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا ایک بہت بڑی دفاعی طاقت ہے۔ اس کی افواج دنیا بھر میں نمبر ون ہے۔ لیکن امریکا پہلے ہی اتنے محاذوں پر الجھا ہوا ہے کہ نیا محاذ اس کےلیے درد سر بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کے پاس سوویت یونین کی مثال بھی موجود ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکا کا خطے میں کردار بدل جائے گا۔ خدانخواستہ اگر دونوں ملک جنگ کی طرف گئے تو اس سے پورے خطے کا نقصان ہوگا۔

ایران ماضی میں بیان دے چکا ہے کہ جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز کا راستہ بند کردیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ اور شمالی امریکا سے ملاتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج اومان کے درمیان واقع ہے۔ جس کے ایک طرف امریکی اتحادی متحدہ عرب امارات، اومان، قطر، سعودی عرب وغیرہ ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران ہے۔ اور یہ صرف خلیج فارس کی طرف سے سمندر میں راہداری فراہم کرتا ہے، جو دنیا کی تیل کے لحاظ سے اہم ترین آبی گزرگاہ ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کا بیس فیصد کے قریب تیل گزرتا ہے۔ ماضی میں ایران، عراق جنگ کے دوران بھی آبنائے ہرمز تصادم کا شکار رہا تھا۔ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران آبنائے ہرمز پر دوبارہ تصادم برپا کرسکتا ہے۔ جس سے نہ صرف تیل کی ترسیل بند ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیشت بھی غیر مستحکم ہوگی۔ جو خطے میں بے یقینی اور افراتفری کو فروغ دینے کےلیے کافی ہوگا۔

امریکا نے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایران کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ تاہم 2015 میں امریکا اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے ایران سے ایٹمی معاہدہ کیا۔ جس کے تحت ایران نے اپنی ایٹمی سرگرمیاں ترک کیں۔ اس کے بدلے ایران پر عائد تجارتی پابندیوں کو نرم کیا گیا۔ اور ایران نے تیل کی آزادانہ فروخت شروع کی، جو ایران کی معیشت کےلیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ امریکا نے گزشتہ برس خود کو اس معاہدے سے یہ کہہ کر علیحدہ کرلیا کہ ایران پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ جس کے جواب میں ایران نے بھی خود کو معاہدے سے بالاتر سمجھ کر اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو بڑھانے کا عندیہ دیا۔ جس کے بعد سے کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔

امریکا ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا ہے، جس کے ضمن میں امریکا نے بھارت پر ایرانی تیل کی خرید ترک کرنے کا دبائو ڈالا ہے۔ چائنا کے بعد بھارت ایران کے تیل کا دوسرا بڑا خریدار ہے۔ اور بھارت کےلیے یہ تیل سستا ترین ہے۔ بھارت کے ایران کے ساتھ مراسم کافی اچھے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت چاہ بہار بندرگاہ بھی چلانا چاہتا ہے۔ بھارت کے امریکا کو ٹال مٹول کی بدولت صدر ٹرمپ نے بھارت کا جی ایس پی کا درجہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت امریکا تجارتی تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔

پاکستان کو ایسے حالات میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ پاکستان سے لاکھوں شیعہ زیارت کےلیے ہر سال ایران جاتے ہیں۔ ہماری طرف سے کسی بھی قسم کی کوتاہی اندرونی و بیرونی انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران امریکا جنگ میں افغان طالبان کا کیا کردار ہوگا؟ پاکستان کا جنگ کی صورت میں کیا موقف ہونا چاہئے؟ ایسے مزید سوالات کے جواب بھی پاکستانی انتظامیہ کے ذہنوں میں ہونے چاہئیں۔ جنگ کا خطرہ بظاہر تو نظر نہیں آرہا۔ فریقین امن چاہتے ہیں۔ تاہم اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ جنگ کی تلوار پورے خطے کے سر پر لٹک رہی ہے۔ بڑی ریاستوں کو حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امن کی خاطر معاملات کو حل کرنا ہوگا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …