جمعہ , 15 نومبر 2019

بحرین کانفرنس اور ارض مقدس کی نیلامی

صدی کی ڈیل کی سازش کو اگر ایک عمارت سے تشبیہ دی جائے تو بحرین کانفرنس اس کا دروازہ قرار دی جا سکتی ہے۔ اس سازش کے ذریعے وطن عزیز فلسطین کو فلسطینی قوم سے چھین کرغاصب صہیونیوں کے حوالے کرنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ قضیہ فلسطین کو اقتصادی اور مالی منصوبوں کے ذریعے جس ساز کی آڑ میں دبانے کی کوشش کر رہی ہے میڈیا میں اسے ‘صدی کی ڈیل’ کا نام دیا جاتا ہے۔ دراصل امریکی انتظامیہ اسرائیلی ریاست کے جرائم اور مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کی سازشوں میں سرگرم ہے جس کی ایک تازہ کوشش ‘منامہ کانفرنس’ کی شکل میں‌ دیکھی جاسکتی ہے۔

یہ کانفرنس کل ۲۵ اور پرسوں ۲۶ جون کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس میں‌ بعض عرب ممالک اور فلسطینیوں نے بائیکاٹ کیا ہے جب کہ متعدد عرب ممالک اس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی، اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ اور دیگر تمام فلسطینی دھڑوں نے منامہ کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ امریکا اس کانفرنس کی آڑ فلسطینی قوم کی سودے بازی کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ فی الوقت فلسطینیوں کی سرزمین اور ان کے دیرینہ حقوق کی قیمت ۵۰ ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔ امریکا نے اس مذموم مشن کے لیے ایک عالمی سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد فلسطینی اتھارٹی کی معیشت بہتر کرنے کے ساتھ تین عرب ممالک اردن، مصر اور لبنان کی معیشت میں بھی مدد فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

صدی کی ڈیل کی سازش کو اگر ایک عمارت سے تشبیہ دی جائے تو بحرین کانفرنس اس کا دروازہ قرار دی جا سکتی ہے۔ اس سازش کے ذریعے وطن عزیز فلسطین کو فلسطینی قوم سے چھین کرغاصب صہیونیوں کے حوالے کرنا ہے۔

فلسطینی مقدمات سے فلسطینی قوم سے سلب کر کے یہودی آباد کاروں کو دینا جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کر چکے ہیں۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ کو یہودی اشرار کی ریشہ دوانیوں کے لیے کھلا چھوڑنا۔ القدس کے ساتھ وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ قرار دینا اور اب غرب اردن کو بھی صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی سازش کرنا ہے۔

فلسطینیوں کی قیمت

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کوشنر نے انکشاف کیا ہے کہ ‘صدی کی ڈیل’ منصوبے کا پہلا مرحلہ رواں ہفتے بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس ہے جس کے ذریعے فلسطینی اراضی کی خراب معیشت کو سنبھالا دینے کے ساتھ ساتھ تین پڑوسی عرب ملکوں کے لیے مجموعی طور پر ۵۰ ارب ڈالرکی رقم کی تجویز پیش کی جائے گی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہائوس میں ایک بیان میں جیرڈ کوشنر نے ‘اقتصادی ویژن’ کے بعض حقائق اور پہلوئوں سے پردہ اٹھایا۔ انہوں‌ نے کہا کہ توقع ہے کہ ۲۵ اور ۲۶ جون کو منامہ میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں ان کی پیش کردہ تجاویز کو غیر معمولی حمایت حاصل ہو گی۔

انہوں‌ نے کہا کہ اقتصادی منصوبے کے تحت کل ۵۰ ارب ڈالر جمع کیے جائیں گے۔ ان میں سے فلسطینی اراضی کے لیے ۲۸ ارب ڈالر کی رقم رکھی جائے گی۔ جو غرب اردن اور غزہ میں معیشت کی بہتری پر صرف ہوگی جب کہ اردن کے لیے ساڑھے سات ارب، مصر کے لیے نو اور لبنان کے لیے ۶ ارب ڈالر خرچ کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ خلیجی ممالک اس منصوبے میں سب سے زیادہ مالی مدد فراہم کریں گے۔

جیرڈ کوشنر کا کہنا ہے کہ امریکا بھی اس منصوبے میں معاونت پرغور کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ۱۵ ارب ڈالر براہ راست مدد، ۲۵ ارب ڈالر قرض اور ۱۱ ارب ڈالر سود کی شکل میں ادا ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت فلسطین اور دوسرے ملکوں میں ۱۷۹ اقتصادی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ان میں سے ۱۴۷ غرب اردن اور غزہ، ۱۵ اردن، ۱۲ مصر اور پانچ منصوبے اردن میں شروع کیے جائیں‌ گے۔

امریکا کے نام نہاد اقتصادی منصوبے کے تحت مصر، اردن اور لبنان کو براہ راست فلسطینی علاقوں غزہ اور غرب اردن میں سرمایہ کاری کے منصوبوں، صنعتی کارخانوں کے قیام اور دیگر منصوبوں‌ کی اجازت ہوگی۔غزہ اور جزیرہ سیناء میں بنیادی ڈھانچے، تجارت اور مواصلاتی سروسز کے لیے دسیوں ملین ڈالر کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

غزہ اور مصر کے درمیان بجلی کی لائنیں بچھانے کے ساتھ مصر کو غرب اردن، غزہ اور اسرائیل میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی جائے گی۔

مصر کو اس کے تجارتی مراکز، بندرگاہوں اور نہر سویز کی توسیع کی مد میں مدد کی جائے گی۔ جبکہ بحر الاحمر میں سیاحتی منصوبوں کے لیے مصر کو سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔فلسطینی علاقوں میں عالمی سیاحتی منصوبوں کے لیے ۹۰ کروڑ ۵۰ لاکھ ڈالر کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

مصر اور اردن کی شرکت

ہفتے کے روز مصر اور اردن نے بحرین میں ہونے والی امریکی اقتصادی ورکشاپ میں شرکت کرنے کا سرکاری سطح پراعلان کیا ہے۔ اس اعلان کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں عرب ملکوں‌ نے امریکا کے صدی کی ڈیل کے سازشی منصوبے کو غیر اعلانیہ طور پر قبول کر لیا ہے۔

اردنی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کے نائب وزیر خارجہ کی قیادت میں ان کا وفد منامہ کانفرنس میں شرکت کرے گا۔مصری حکومت کے مطابق نائب وزیر خارجہ کی قیادت میں ایک وفد کو منامہ اقتصادی کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔

مشکوک معاہدے ناقابل قبول: حماس

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے منامہ اقتصادی کانفرنس کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم منامہ کانفرنس میں ہونے والی مشکوک ڈیلوں کو قبول نہیں کرے گی۔

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کوشنر نے منامہ کانفرنس کے اہداف خود بتا دیے ہیں۔

ایک بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد نے فلسطینی قوم کے حقوق کے مسئلے کو انسانی اور اقتصادی مسئلے میں تبدیل کر کے ‘صدی کی ڈیل’ کو آگے بڑھانے کے منصوبے کا انکشاف کر دیا ہے تاہم فلسطینی قوم اپنی مشترکہ جدو جہد کے ذریعے صدی کی ڈیل اور اس سے ملحقہ سازشوں کو پوری جرات سے ناکام بنائیں گے۔

محمود عباس کی پہلے سیاسی تنازعات کے حل کی تجویز

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں سیاسی تنازعات اور دوسرے مرحلے میں فلسطینیوں کے معاشی مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

ایک بیان میں صدر عباس نے کہا کہ ہم موجودہ حالات میں منامہ اقتصادی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں‌ گے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ پہلے فلسطینیوں‌کے سیاسی حقوق کو تسلیم کیا جائے اور اسرائیل کے ساتھ جاری سیاسی تنازعات کو حل کیا جائے۔ جب تک سیاسی مسائل حل نہیں ہوتے اس وقت تک اقتصادی منصوبے شروع نہیں‌ کیے جا سکتے۔

فلسطین کی دوسری قیادت نے بھی منامہ کانفرنس اور صدی کی ڈیل کی سازشیں مسترد کر دی ہیں۔ اسلامی جہاد، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور جمہوری محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق کی سودے بازی کے لیے ہونے والی کسی بھی عالمی سازش کو مسترد کر دیا ہے۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

بھارتی علماء کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہیں؟

  تنویر قیصر شاہد پہلے تو مجھے ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن ‘‘ کے نائب مدیر …