اتوار , 21 جولائی 2019

ٹرمپ ،میکیاول ازم سے انسانیت کی جانب

’’واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی بھی پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے‘‘ یہ جملہ گذشتہ ایک ماہ میں آدھے درجن سے زیادہ مرتبہ امریکی صدر ٹرمپ دہراچکا ہے ۔لیکن ایرانی ہر بار کہتے ہیں کہ امریکی صدر ایسے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا اعتبار کھو چکا ہے ،ایرانی ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ٹرمپ کو کسی بھی قسم کے پیغام کے تبادلے کے لائق ہی نہیں سمجھتے ۔

حال ہی میں ایران کی جانب سے گرائے جانے والے امریکی ڈرون طیارے کے بعد جو صورتحال دیکھائی دے رہی ہے اس کے بارے میں اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ضرور ہے لیکن لگتا ہے کہ دونوں ملک جنگ نہیں چاہتے گرچہ بظاہر اس ساری صورتحال میں ایران کا پلڑہ بھاری دیکھائی دیتا ہے ۔

ڈرون طیارے کے گرائے جانے کے بعد ٹرمپ کے بیانات کو دیکھاجائے تو واضح شکل میں دیکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گذار رہا ہے اس وقت امریکی بالادستی کا خواب مسلسل مشرق وسطی میں چکناچور ہورہا ہے ۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنا ہے ’’حملے کا منصوبہ تیاراورصرف میری تصدیق کےانتظار میں تھا ،میں نے جرنیلوں سے پوچھا کہ شروع کرنے سے پہلے ایک چیز جاننا چاہتا ہوں اس حملے میں کتنے ایرانی مارے جاینگے جرنیل نے کہا تقریبا 150ایرانی ۔

میں نے کچھ سکینڈ سوچا اور پھر کہا کہ آپ جانتے ہیں انہوں نے کس چیز کو مار گرایا ہے ؟انہوں نے بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون طیارہ گرایا ہے اور آدھے گھنٹے میں 150لوگ مرینگے یہ مجھے پسند نہیں اور نہیں لگتا کہ یہ کوئی مناسب اقدام ہو‘‘اس سے پہلے ٹرمپ اپنے ٹیوٹر ہینڈل میں کہہ چکا تھا کہ صرف دس منٹ پہلے میں نے حملے کو روک دیا ۔

تو اصل کہانی کیا ہے ؟
اگر ہم اس مفروضے کو ماننے کہ حملہ ایران میں جانوں کے ضیاع کے سبب روکا گیا تو اس بھونڈی بات اور کوئی اس سال کی نہیں ہوسکتی ۔غزہ سے لیکر یمن تک مسلسل روزانہ ی بنیادوں پر درجنوں افراد مارے جارہے ہیں جو صدر ٹرمپ کی ہی تائید ،اسلحہ اور مدد کے زریعے سے ہی مارے جارہے ہیں

امریکہ اب تک دنیا میں 30 سے زیادہ جنگیں کرچکا ہے کہ جس میں لاکھوں بے گناہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ،صرف ویتنام پر مسلط کردہ امریکی سولہ سال طویل جنگ میں 30لاکھ ویتنامی مارے گئے

افغانستان میں سن 2001سے لیکر 2014کے درمیان چالیس ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں امریکی پالیسی میں انسانی جانوں کی کبھی کوئی حیثیت نہیں رہی ہے بلکہ وہ تو مشہور اطاوی سیاسی فلسفی اور شاعر میکاولی Machiavelliکے نظریے کے مطابق اپنے اہداف کے لئے ہزاروں انسانوں کے قتل کو اچھا اور مثبت قدم سمجھتے ہیں ۔

ٹرمپ اس وقت انسانیت کے پردے کی آڑ میں میکیاولیسٹ پالیسی کو چھپانےکی کوشش میں ہے اور وہ امریکی مسلط کردہ جنگوں کی تاریخ کو الٹی کرکے سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور اپنا ایک انسان دوست چہرہ دیکھانا چاہتا ہے ۔

تو اصل کہانی کیا ہے ؟
الف:خطے میں امریکی پوزیشن ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی جنگ میں کودنے کی غلطی کرے امریکہ اب تک اپنی تمام جنگیں کمزور اور تباہ ملکوں کیخلاف لڑ کر فاتح کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔

بـ:امریکہ جانتا ہے کہ ایران کوئی ترنوالہ نہیں ہے ایران اسلحے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور اسے استعمال کرنے کی قوت و جرات بھی جس کے واضح نمونے وہ دے چکا ہے ۔

ج:امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ جہاں 150ایرانی مارے جاینگے وہی پر اس سے کئی گنا زیادہ امریکی فوجی مارے جاینگے اور جنگ کا دائرہ بڑھنے کی شکل میں امریکہ کے کئی اڈے تباہ و برباد ہو جاینگے ۔

د:ایسی کسی بھی جنگ کا نتیجہ پورے خطے کی نئی جغرافیائی،سیاسی تشکیل کی شکل میں نکلے گا کہ جہاں امریکہ کے لئے تھوڑی سے بھی گنجائش نہیں ہوگی ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

وڈیو اسکینڈل:عدلیہ کی ساکھ کیسے بحال ہو؟

(محمد بلال غوری) چیستاں میں لپٹے وڈیو اسکینڈل کی پرتیں کھلنے پر یوں محسوس ہو …