اتوار , 21 جولائی 2019

بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے غداران وطن!

آج 25 جون کو خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی دعوت پر اقتصادی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد فلسطینی قوم کے حقوق غصب کرنے ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کا غاصبانہ قبضہ کرانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

فلسطینی قوم کے بہ حیثیت مجموعی اس کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ کیا ہے۔ تاہم اس کانفرنس میں بعض ایسے غداران وطن اور ننگ ملت دشمن کے ایجنٹ فلسطینیوں کی طرف سے نمائندگی کی برائے نام کوشش کریں گے۔ یہ وہ ایجنٹ ہیں جنہیں فلسطینی قوم پہلے ہی مسترد کر چکی ہے اوران کی کوئی بات قابل قبول نہیں ہوگی۔

امریکا کے مڈل ایسٹ الائنس فارپیس کے چیئرمین جونی لینڈون نے ایک پریس بریفنگ میں‌ کہا کہ اشرف الجعبری نامی فلسطینی 50 لاکھ فلسطینیوں‌ کی نمائندگی کرے گا۔ اشرف الجعبری کون ہے۔ اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں زیادہ معلومات نہیں آئیں۔ اس لیے وہ ایک گم نام شخص ہے۔ فلسطینی قوم کی طرف سے بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کے بعد امریکا اور اسرائیلیوں کو صرف اشرف الجعبری جیسے ننگ آدمیت ہی ملے ہیں جو فلسطینی قوم کی نمائندگی کا دم بھرتے ہیں۔

الجعبری کا آبائی تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل سے ہے مگراس پر یہودی آبادکاروں‌ کے ساتھ روابط کا الزام ہے۔ اشرف الجعبری ‘یہودا اور سامرہ’ ایوان صنعت وتجارت کا رکن ہے۔ یہ ایک غیرسرکاری تنطیم ہے جو فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کی ترویج میں ملوث ہے۔ اشرف الجعبری فلسطین کا سابق سیکیورٹی افسر ہے جس نے ‘اصلاح و ترقی’ کےنام سے ایک جماعت قائم کی ہے۔ اشرف الجعبری کو اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کا دوست سمجھا جاتا ہے۔ فریڈ مین غرب اردن کو اسرائیل کا حصہ قراردینے کی سازشوں میں پیش پیش ہے۔

مشکوک شخصیات

بحرین کانفرنس میں شرکت کرنے والے نام نہاد فلسطینی لیڈروں میں اشرف الجعبری کے بعد ایک اور نام محمد عارف مساد کا ہے۔ محمد عارف مساد غرب اردن کے شمالی شہر جنین کے برقین قصبے سے ہے، جسے 20 سال قبل اس کے خاندان نے صہیونیوں کے ساتھ ساز باز اور گٹھ جوڑ کے الزام میں گھر سے نکال دیا تھا۔ اس کےبعد وہ شمالی فلسطین کے شہر”حیفا” میں قیام پذیر ہے۔

دو روز قبل ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ عارف مساد کو منامہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس نے فلسطینی علاقوں میں ایک ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔

عارف مساد کی بحرین کانفرنس میں شرکت کی خبر سامنے آنے کے بعد برقین میں موجود اس کے خاندان نے مساد سے مکمل طور پر اعلان برات کیا۔ اس کے خاندان نے کہا کہ وہ فلسطینی قوم کے شہداء کے ساتھ کسی صورت میں غداری نہیں کرے گا۔ عارف مساد صرف اپنی ذات کی نمائندگی تو کر سکتا ہے وہ فلسطینی قوم یا خاندان کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

مساد خاندان کا کہنا ہے کہ عارف مساد کا فلسطینی قوم کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ گذشتہ بیس سال کے اس کے ساتھ خاندان کا کوئی رابطہ نہیں۔ اگر وہ اپنے طور پر کسی مشکوک اور نام نہاد کانفرنس میں شرکت کرتا ہے تو اس میں ہونے والے فیصلوں کو فلسطینی قوم قبول نہیں کرے گی۔

بحرین کانفرنس ناکام بنانے کے لیے سرگرم فلسطینی سماجی کار کن معروف الرفاعی نے کہا کہ مشکوک کانفرنسوں میں کوئی فلسطینی لیڈر شریک نہیں ہو رہا ہے۔ جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں اور وہ فلسطینی ہونے کا دم بھرتے ہیں وہ دشمن کے ایجنٹ ہیں اور ان کے فیصلے فلسطینی قوم پر مسلط نہیں کیے جاسکتے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

وڈیو اسکینڈل:عدلیہ کی ساکھ کیسے بحال ہو؟

(محمد بلال غوری) چیستاں میں لپٹے وڈیو اسکینڈل کی پرتیں کھلنے پر یوں محسوس ہو …