جمعہ , 15 نومبر 2019

یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو

(تحریر: صابر ابو مریم)

حکیم امت اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی نظم کا یہ شعر اس لئے یاد آگیا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کو میڈیا پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ افغانستان میں داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان، مغربی ممالک اور خاص طور سے نیٹو اور یورپ کا موقف ایک ہے۔ اس گفتگو کو کرتے وقت شاہ صاحب کا انداز بیاں انتہائی فخریہ تھا، ایسا لگتا تھا کہ شاید پاکستان نے کشمیر فتح کر لیا ہے یا پھر اس سے بھی بڑا معرکہ کوئی سر کیا ہے۔ نقطہ جو بیان کرنے کا مقصد ہے، وہ صرف یہی ہے کہ ہمارا طرز بیان اور نہ جانے امریکہ کی غلامی کا طوق گردن میں ڈالنے پر اتنا فخریہ کیوں ہوتا ہے، خیر یہ بھی ایک طویل بحث ہے ہم مدعا کی بات کرتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور یورپ کے موقف کو اس طرح فخریہ انداز میں بیان کیا ہے، جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ لیکن شاہ صاحب کی خدمت میں صرف یہی عرض کیا جائے گا کہ جس داعش کی افغانستان میں موجودگی کے عنوان سے آپ نے بات کی ہے، آپ کو علم ہونا چاہیئے کہ شام و عراق سے ذلیل و رسوا ہونے کے بعد داعش کو اب افغانستان پہنچانے میں آپ کے یہی امریکہ و یورپی ممالک ہی ہیں، جو داعش کو افغانستان میں گذشتہ ایک برس سے لا کر آباد کر رہے ہیں۔ روس کے اعلیٰ عہدیدار اور سفارتی ذرائع اس عنوان سے کئی ایک رپورٹس شیئر کرچکے ہیں اور عالمی ذرائع ابلاغ پر کئی مرتبہ ایسے شواہد پیش کئے جاتے رہے ہیں کہ جن سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی مدد سے ہی داعش کو شام و عراق میں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد نکال کر افغانستان ٹرانسپورٹ کرنے میں امریکہ اور یورپی ممالک سرفہرست ہیں۔

ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں وزیر خارجہ صاحب کی خدمت میں ادب سے ایک سوال پیش کر رہا ہوں۔ سوال انتہائی سادہ ہے کہ جب دنیا جانتی ہے کہ شام اور عراق میں داعش کو وجود بخشنے اور داعش کی مالی مسلح مدد کرنے میں امریکہ اور یہی یورپی ممالک شامل تھے تو پھر اب افغانستان میں بھی یہ شیطانی قوتیں داعش کو مسحکم کرنے کی کوشش مین مصروف ہیں تو ایسے حالات میں آپ کا یہ بیان دیا جانا کہ پاکستان اور یورپ اور نیٹو کا موقف ایک ہی ہے، یہ کیا معنی رکھتا ہے "کہیں آپ یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ امریکہ و یورپ جو کر رہے ہیں، خطے میں پاکستان بھی اس کا ایک حصہ ہے” اگر ایسا ہے تو یقیناً پاکستان کی عظیم و غیور ملت کی تضحیک و ہزیمت ہے۔ اس بارے میں خود وزیراعظم عمران خان صاحب اور صدر مملکت عارف علوی صاحب کو غور و فکر کرنا ہوگا۔

قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ داعش جس کو شام اور عراق میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا اور سات برس تک معصوم انسانوں کا قتل عام کرنے والی داعش کا عوامی رضاکار قوتوں اور شام و عراق کی افواج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نیست و نابود کیا ہے۔ ایسے حالات میں بھاگ جانے والے اور روپوش ہونے والے داعشی دہشتگردوں کو ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کے ذریعے نکال کر افغانستان پہنچانے والے کوئی اور نہیں وزیر خارجہ صاحب کے با اعتماد ساتھی نیٹو اور یورپی ممالک ہی ہیں۔ افغانستان میں داعش کا وجود لانے کا امریکہ اور یورپی ممالک کا ہدف بہت ہی واضح ہے۔ یہان وسطی ایشیاء میں موجود قدرتی وسائل پر مکمل قبضہ کرنا امریکہ اور شیطانی یورپی قوتوں کا ایک مقصد ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرحدوں میں پاکستان اور ایران جیسے دو مسلم اور مضبوط قسم کے ممالک موجود ہیں اور داعش کو یہاں ٹراسپورٹ کرنے کا ایک شیطانی ہدف یہی ہے کہ دونوں ممالک یعنی ایران اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا نیا جال بچھایا جائے اور سرحدوں کو غیر محفوظ کیا جائے۔

اسی تناظر میں پاکستان میں پہلے ہی کچھ ایسی تحریکوں کو جنم دیا گیا ہے کہ جن کا مقصد افواج پاکستان کو عالمی صہیونی ایجنڈا کے تحت کمزور کرنا ہے اور داعش کی افغانستان سے براہ راست پاکستان ٹرانسپورٹیشن کو یقینی بنانا ہے۔ آج جو پاکستان میں افواج پاکستان کے خلاف قبائلی علاقوں میں نفرت آمیز اور دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں، یہ سب کی سب براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر اسی تناظر میں ہیں کہ افغانستان کے راستے سے پاکستان کی طرف داعش کے لئے راستے ہموار کئے جائیں۔ لیکن ہمارے ہاں تو صورتحال ہی کچھ اور ہے، ہمارے انتہائی قابل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تو داعش کی بانی قوتوں اور پاکستان کے موقف کو ایک ہی قرار دیتے ہوئے فخر محسوس کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید پاکستان کا نام روشن کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو ان نازک حالات میں یہ بات سمجھ جانی چاہیئے کہ جب افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی گھنائونی سازشیں جنم لے رہی ہیں تو ان سازشوں کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں۔ آج ہر ذی شعور اس بات کو سمجھ رہا ہے کہ عالمی صہیونزم کا ایجنڈا یہی ہے کہ مسلمان ممالک کی افواج کو کمزور کرو اور داعش جیسی دہشت گرد قوتوں کو ان ممالک میں داخل کرو اور پھر انفرا اسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ ساتھ انسانوں کا قتل عام اور انارکی پھیلائی جائے۔ البتہ پاکستان میں یورپی اور نیٹو ممالک کی قوتیں ابھی تک اس سازش میں تاحال ناکام رہی ہیں، لیکن اس کام کو ایسی تحریکوں کے ذریعے انجام دے رہے ہیں، جن تحریکوں کی حمایت براہ راست امریکہ اور اسرائیل سے کی جا رہی ہے۔ اس لئے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو یہ باور کرنا ہوگا کہ امریکہ و یورپ کی غلامی یا دوستی میں کوئی عزت ہے اور نہ کوئی فخر بلکہ جس کسی نے بھی امریکہ اور یورپ کا سہارا لیا، وہ ذلیل و خوار ہوا۔

خود داعش جو امریکہ و یورپ کی پیداوار تھی، جب اللہ کے مجاہدوں کا سامنا ہوا تو ذلت کے اس درجہ کو پہنچی کہ گند کی گٹر لائینوں میں پناہ گاہیں بنانے پر مجبور ہوئی اور ان کو وہاں سے نکال نکال کر ذلیل و رسوا کیا گیا۔ یہ ہے امریکہ اور یورپ کی دوستی کا نتیجہ۔ اسی طرح اگر ہم ریاستوں کے تعلقات کا مطالعہ کریں تو ایسی تمام ریاستیں جو امریکہ و یورپ کو اپنا دوست بتانے میں فخر کرتی ہیں، سب سے زیادہ مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اندر موجود بہت سارے مسائل اور مشکلات کی جڑ بھی امریکہ اور اس سے ہماری دوستی اور اس پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔

ایسے حالات میں شاہ محمود قریشی کو تو یورپ کا سہارا اور غلامی اختیار کرنے پر فخر محسوس ہوتا ہوگا لیکن پاکستان کے عوام دنیا کی ان تمام شیطانی قوتوں بشمول امریکہ، یورپ اور ان کے آلہ کار چاہے وہ داعش کی شکل میں ہوں یا پھر داعش کے حمایتی ہوں یا پھر کسی بھی نام سے ایسی تحریکیں ہوں، جن کا مقصد پاکستان کی افواج کو کمزور کرنا اور داعش کے لئے راہ ہموار کرنا ہو، ایسے تمام معاملات مسترد کرتے ہیں۔ اقبال واقعی ایک حکیم تھے کہ جنہوں نے اپنی شاعری میں ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آپ کے اشعار آج بھی ایسے موقعوں پر رہنمائی کرتے ہیں، جب کچھ وزراء یا حکومتی افراد ملکی و اجتماعی مفاد کے بجائے امریکہ و یورپ کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کی کوششیں کرتے نہیں تھکتے۔

اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
معلوم کسے کہ ہند کی تقدیر کہ اب تک
بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے

یعنی کچھ معلوم نہیں کہ ہندوستان کی قسمت میں کیا لکھا ہے اور بیچارے تو اب تک انگریز سرکار کے تاج کے چمکتے ہوئے موتی ہیں۔

دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمین ہے

یعنی اس ملک کے دہقان کو دیکھو، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ابھی ابھی کسی قبر نے مردہ اگل کر زیر زمین سے بالائے زمین پھینک دیا ہو، لیکن اس کا کفن زمین کے اندر ہی رہ گیا ہو۔

جاں بھی کرو غیر اور بدن بھی کرو غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے،نہ مکیں ہے

یعنی اقبال کہتے ہیں کہ انسانوں کی حالت زار ایسی کہ نہ ان کو کچھ کھانے کو ملتا ہے اور نہ پہننے کو۔ اس کی جان اور جسم غیر کے پاس گروی رکھے ہوئے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ نہ مکان باقی رہا اور نہ ہی مکین۔

یورپ کی غلامی پہ ہوا رضامند تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں!

یورپ کی غلامی پہ تو اے میرے ہم وطن تو رضامند ہوا ہے، سو میرا شکوہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ حکومت کو امریکہ اور یورپ کی غلامی اور امریکہ و یورپ کے موقف کے ساتھ پاکستانی موقف کو جوڑنے کے بجائے آزاد اور خود مختار موقف اپنایا جائے، جو نہ تو یورپ کا محتاج ہو اور نہ دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ کا محتاج ہو۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی علماء کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہیں؟

  تنویر قیصر شاہد پہلے تو مجھے ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن ‘‘ کے نائب مدیر …