جمعہ , 15 نومبر 2019

ایران کے خلاف مائیک پمپیو کے نئے مشن کا آغاز

(تحریر: علی احمدی)

ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تناو عروج پر پہنچنے کے چند دن بعد امریکہ کے سیکرٹری امور خارجہ مائیک پمپیو پیر 24 جون کی شام سعودی عرب پہنچ گئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا اور ولیعہد سے ملاقات کے بعد متحدہ عرب امارات جانا ہے اور اس کے بعد وہ انڈیا جائیں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ان دوروں کا بنیادی مقصد ایران کے بارے میں بات چیت ہے۔ مائیک پمپیو نے سعودی عرب پرواز کرنے سے پہلے واشنگٹن کے اینڈروز ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا کہ ایران کی جانب سے مار گرایا جانے والا امریکی گلوبل ہاک ڈرون طیارہ بین الاقوامی پانیوں پر پرواز کر رہا تھا۔ اسی طرح مائیک پمپیو نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ حالیہ دوروں کا مقصد امریکہ کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اسٹریٹجک ہم آہنگی کو یقینی بناتے ہوئے ایران کے خلاف ایک عالمی اتحاد تشکیل دینا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے جمعرات کے دن ایران نے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے والے ایک امریکی بغیر پائلٹ ڈرون کو مار گرایا تھا۔ یہ ڈرون ایم کیو 4 تھا، جس کی قیمت 200 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ وائٹ ہاوس نے ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی، لیکن بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر پر پیغام دیا کہ انہوں نے آخری لمحات میں ایران کے خلاف ایکشن روک دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ ان کی کابینہ میں بعض ایسے افراد موجود ہیں، جو امریکہ اور ایران میں جنگ شروع کروانے کے درپے ہیں۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کے باعث سیکرٹری خارجہ سمیت دیگر امریکی حکام متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پمپیو، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور سی آئی اے کی سربراہ جینا ہاسپل ایران کے خلاف جنگ کی حامی تھیں۔ یہ افراد اب ایران کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں مصروف ہوچکے ہیں۔

مائیک پمپیو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "ہم ان (سعودی اور اماراتی حکام) سے بات کریں گے اور جائزہ لیں گے کہ آپس میں اسٹریٹجک ہم آہنگی برقرار رکھنے کا یقین کیسے حاصل کرسکتے اور ایک عالمی اتحاد کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔ ایسا اتحاد جس میں نہ صرف خلیجی ممالک شامل ہوں بلکہ ایشیاء اور یورپ کے ممالک بھی اس میں شامل ہوں، تاکہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی حامی حکومت کا مقابلہ کیا جا سکے۔” دوسری طرف مائیک پمپیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کی حمایت کرتے ہوئے کہا: "وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہم انہیں کہاں مل سکتے ہیں۔” اس سے پہلے مائیک پمپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ فی الحال ایران سے مذاکرات کیلئے مناسب وقت نہیں آیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب مناسب وقت آئے گا، ہم مذاکرات کیلئے قدم اٹھائیں گے۔

امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف اتحاد تشکیل دینے کی کوششیں ایک بڑی پالیسی کے تحت انجام پا رہی ہیں۔ مئی کے شروع سے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے خام تیل خریدنے والے چند محدود ممالک کو مزید استثنیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا تو بحیرہ اومان میں انرجی کی مصنوعات کے تجارتی خطوط پر بدامنی پھیلائی جانے لگی۔ ایک مہینے کے اندر اندر کم از کم 6 آئل ٹینکرز پر حملے کئے گئے۔ ایک بار متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ اور دوسری بار بحیرہ اومان میں ان آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دونوں واقعات کے بعد امریکہ نے ایران پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ جمعرات کے روز ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں تناو بڑھ گیا۔ یہ ایسی چیز تھی جس نے امریکہ اور اس کے یورپی اور ایشیائی اتحادیوں کو پریشان کر دیا۔ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے رویئے سے راضی نہیں ہیں۔ یہ تمام ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی تجارت میں خلل پڑنے سے پریشان ہیں۔ امریکہ اسی پریشانی کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کیلئے کوشاں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی علماء کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہیں؟

  تنویر قیصر شاہد پہلے تو مجھے ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن ‘‘ کے نائب مدیر …