جمعہ , 15 نومبر 2019

لال مسجد کے خطیب کو ہٹادیا گیا، مولانا عبدالعزیز کے داخلے پر بھی پابندی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کیپیٹل ایڈمنسٹریشن نے لال مسجد کے خطیب کو ہٹاتے ہوئے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے مسجد میں داخلے پر بھی 3 ماہ کی پابندی لگا دی۔یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مفتی رئیس ایوبی اور گلگت بلتستان سے قاضی نثار سمیت علما کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا۔خیال رہے کہ مدرسے کے لیے الاٹ کیے گئے پلاٹ کی منسوخی کے بعد مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسام 80 طلبا سمیت جامعہ حفصہ کی سابق انتظامیہ لال مسجد آئی تھی۔

تاہم حکام کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے ہفتہ وار بازار سے متصل مسجد کی حدود کے 8 کمروں میں رہنا شروع کردیا تھا اور تعلیمی سرگرمیوں کا بھی آغاز کردیا تھا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے دوران علما سے درخواست کی کہ وہ ان کمروں کو خالی کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس پر علما نے شہری انتظامیہ اور مسجد کی سابق انتظامیہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جامعہ حفصہ کے اساتذہ اور طلبا اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے جبکہ اسی عرصے کے دوران کیپیٹل ایڈمنسٹریشن جامعہ حفصہ کو الاٹ پلاٹ کی منسوخی کا معاملہ حل کرے گی تاکہ انہیں وہاں منتقل کیا جاسکے۔اس حوالے سے جب شہری انتظامیہ کے افسران سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس پیش رفت کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور کہا کہ اب تک نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

تاہم ایک عہدیدار نے نجی چینل کو تصدیق کی کہ مسجد کے خطیب کو ان کی اپنی مرضی پر منتقل کیا گیا۔تمام معاملے پر پیش رفت کے بعد کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اور پولیس نے مسجد روڈ کو کھول دیا، جسے کچھ دن قبل بند کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب لال مسجد کی سابق انتظامیہ سے قریبی تعلق رکھنے والے احتشام احمد نےنجی چینل کو بتایا کہ اجلاس کے بعد محکمہ اوقاف نے خطیب عامر صدیقی کو معطل کردیا تھا جبکہ کشمیر اور گلگت کے علما نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’3 ماہ بعد نئے خطیب کی تقرری تک لال مسجد کے دارالافتا سے 10 مفتیان نماز کی امامت کریں گے‘۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اجلاس کے دوران یہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مولانا عبدالعزیز بھی 3 ماہ کے لیے مسجد میں داخل نہیں ہوں گے۔

احتشام احمد کا کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کو الاٹ پلاٹ کی منسوخی سے متعلق بھی معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مدرسے کے اساتذہ اور طلبا اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے لیکن کسی نئے طالب علم کا داخلہ نہیں ہوگا۔یاد رہے کہ مولانا عبدالعزیز 1998 سے 2004 تک لال مسجد کے خطیب رہے تھے اور انہیں 2007 میں لال مسجد آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں عارضی بنیاد پر مولانا عبدالغفار کو خطیب اور عامر صدیقی کو نائب خطیب مقرر کیا گیا تھا، تاہم 2009 میں مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے بعد مولانا عبدالغفار نے مسجد چھوڑ دی تھی، جس کے بعد 2014 تک اس وقت مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد میں نماز کی امامت کی تھی جب تک ان پر پابندی نہیں لگی تھی۔اس کے بعد عامر صدیقی نماز پڑھانے لگے تھے اور 3 ماہ قبل انہیں مسجد کا خطیب بنایا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین و قدس عالم اسلام کا اہم ترین موضوع ہے: حسن روحانی

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے فلسطین و قدس کو عالم اسلام کا اہم …