جمعہ , 20 ستمبر 2019

جے یو آئی (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کثیرالجماعتی کانفرنس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)  جمعیت علما اسلام (جے یو آئی-ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کثیرالجماعتی کانفرنس وفاقی دارالحکومت میں ہورہی ہے، جس میں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وفود شریک ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور پر حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو ایک پلیٹ فارم سے شروع کرنے، بجٹ کی منظوری رکوانے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کثیرالجماعتی کانفرنس ہورہی ہے۔

بجٹ پر ووٹنگ کے عمل کے دوران اپنے اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی یقینی بنانے کے نقطہ نظر کے ساتھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جے یو آئی ف کی میزبانی میں مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کررہی ہیں, کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے وفد کی قیادت شہباز شریف کر رہے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اس میں شرکت کریں گے۔

خیال رہے کہ کانفرنس سے قبل قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہوا تھا، جس کی صدارت قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کی، اس اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، مولانا اسعد محمود اور دیگر شریک ہوئے تھے، ان اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کا کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

کثیرالجماعتی کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما بھی شریک ہیں، تاہم اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے والی جماعت اسلامی نے پہلے ہی خود کو اس کثیر الجماعتی کانفرنس سے دور کرلیا تھا جبکہ اسی طرح حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کے باوجود اپوزیشن اجلاسوں میں شریک رہنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کانفرنس میں شرکت سے متعلق تذبذب کا شکار تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کانفرنس میں جو اہم رہنما شریک ہیں ان میں مسلم لیگ (ن) سے شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور راجا ظفر اللہ ہیں، پیپلزپارٹی کے اہم رہنماؤں میں یوسف رضا گیلانی، شیری رحمٰن، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر ہیں، اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی سے اسفند یار ولی خان، میاں افتخار اور امیر حیدر خان ہوتی ہیں جبکہ نیشنل پارٹی سے ان کے صدر میر حاصل خان بزنجو، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیرپاؤ و دیگر شامل ہیں۔

شہباز شریف کی رہبر کمیٹی کے قیام کی تجویز
کانفرنس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’رہبر کمیٹی‘ کے قیام کی تجویز دی، جو میثاق معیشت اور قومی چاٹر تیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں موجودہ بجٹ سے زیادہ بدترین بجٹ نہیں دیکھا، حکومت کے ہاتھ روکنے کے لیے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

فضل الرحمٰن نے اجتماعی استعفوں کی تجویز دے دی
اس دوران جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائیاں جانبدارانہ ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم یک زبان ہو کر فیصلے کریں۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے کانفرنس میں اجتماعی استعفوں کی تجویز دی گئی اور کہا گیا کہ اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔

اے این پی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا مطالبہ سامنے لے آئی
ذرائع نے مزید بتایا کہ کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس پر اے این پی نے انہیں ہٹانے کی تجویز دی۔مذکورہ ذرائع کے مطابق اسفندیار ولی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کیا جانا چاہیے، اپوزیشن نے یہ اقدام نہ اٹھایا تو عوام اعتماد نہیں کرے گی۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قیادت میں ان کی جماعت کا وفد کثیرالجماعتی کانفرنس میں شریک ہوگا جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کانفرنس کے لیے 5 رکنی وفد کو نامزد کیا تھا۔

وفد کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کانفرنس میں شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کا وفد مریم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، پارٹی چیئرمین راجا ظفر الحق، سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور تمام صوبائی صدور پر مشتمل ہوگا۔اسی طرح پیپلزپارٹی کے وفد کی نمائندگی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اور نیئر بخاری، شیری رحمٰن اور فرحت اللہ بابر کو دی تھی۔

تاہم پی پی رہنما شیریٰ رحمٰن نے ڈان کو بتایا تھا کہ کانفرنس کے آغاز سے قبل وفد میں تبدیلی ہوسکتی ہے کیونکہ بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کا ایک اجلاس طلب کیا، جس میں پارٹی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی کہ کس طرح قومی اسمبلی میں بجٹ کو مسترد کیا جائے۔

علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ اگر اپوزیشن حکومت مخالف تحریک شروع کرنےمیں سنجیدہ ہے تو اسے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی چاہیے۔تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)، اس مطالبے کو ماننے سے گریزاں نظر آئی تھیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ حتمی فیصلہ کثیر الجماعتی کانفرنس میں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ماہرین کا نمرتا چندانی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل شعبے کے ماہرین اور حکام نے …