جمعہ , 15 نومبر 2019

عرب ملکوں کو فلسطین کا سودا کرنے کا کوئی حق نہیں: خالد مشعل

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد مشعل نے فلسطینی قوم، عرب اقوام اور مسلم امہ کےنام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کی جماعت ‘صدی کی ڈیل’ کی امریکی۔ صہیونی سازش’ اور بحرین کانفرنس کو کامیاب نہیں‌ ہونے دیا جائے گا۔

ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب میں خالد مشعل نے کہا کہ صدی کی ڈیل کی طرز کی مشکوک اسکیموں کا مقصد قضیہ فلسطین کا تصفیہ کرنا ہے۔ ہم اسے مسترد کرنے پر متفق ہیں اور اسے کسی صورت میں کامیاب نہیں‌ ہونے دیں گے۔خالد مشعل نے کہا کہ ‘سنچری ڈیل’ کا کوئی مستقبل نہیں اور اللہ کے حکم سے یہ سازش ناکام ہوگی۔ فلسطینی قوم کے حقوق اور دیرینہ مطالبات سرخ لکیر ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں‌ کیا جائے گا۔

خالد مشعل نے کہا کہ منامہ کانفرنس قضیہ فلسطین کےحل کے لیے گاجر اور چھڑی کی پالیسی کے مترادف ہے اور اس زہرآلود گاجر سے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق کو دبایا جا رہا ہے۔ امریکا خطے کے عرب ممالک کی جیبوں‌ سے رقم نکال کر فلسطینیوں کو رشوت دے کر انہیں خریدنا چاہتا ہے۔

خالد مشعل نے کہا کہ ہم تمام عرب ممالک سے منامہ کانفرنس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جس نے بائیکاٹ کیا اسے خراج تحسین پیش کرتےہیں۔ میں پوری صراحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں‌ کہ بعض عرب ممالک کے اندرونی مسائل اور مخصوص ایجنڈا ہے اور وہ فلسطین کوقربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔ امریکا کی خوش نودی کے لیے فلسطین کو قربان کرنے والے مجرم اور خطاکار ہوں گے۔ اگر کوئی سودے بازی کرتا ہے تو وہ اس چیز کی سودے بازی کرے جو اس کے پاس ہے۔ فلسطین صرف فلسطینی قوم کا ہے جس کا فیصلہ خود فلسطینی کریں گے۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ اسرائیل نہ تو مسئلے کے حل کا حصہ ہے اور نہ ہی خطے کا حصہ ہے۔ اسرائیل پوری مسلم امہ اور ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے۔ فلسطینی قوم اپنے خواہشات کے مطابق اپنے حقوق کے حصول پر قادر ہے جن کہ اسرائیل کا کوئی مستقبل نہیں۔ زوال اس کا مقدر ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین و قدس عالم اسلام کا اہم ترین موضوع ہے: حسن روحانی

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے فلسطین و قدس کو عالم اسلام کا اہم …