پیر , 19 اگست 2019

مناسب سیاسی حل کے بغیر فلسطینی خوشحالی حاصل نہیں کر سکتے:جارڈ کشنر

منامہ (مانیٹرنگ ڈیسک)منگل اور بدھ کے روز بحرین میں منعقدہ ’معاشی ورکشاپ‘ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کے یہودی داماد کشنر نے کہا کہ مناسب سیاسی حل کے بغیر فلسطینی خوشحالی حاصل نہیں کر سکتے۔ معاشی ورکشاپ کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کو تقویت دینا ہے۔کشنر نے کہا کہ ’’معاشی لائحہ عمل پر اتفاق ضروری شرط ہے، تاکہ اس سے قبل ناقابل تصفیہ خیال کیے جانے والے سیاسی معاملات حل کیے جاسکیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’واضح طور پر فلسطینی عوام کی معاشی ترقی اور خوش حالی تب تک ممکن نہیں ہوگی جب تک تنازع کا کوئی پائیدار اور منصفانہ سیاسی حل نہ تلاش کیا جائے۔ایسا حل جس کے ذریعے اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دی جا سکے اور فلسطینی عوام کے وقار کا خیال رکھا جائے‘‘۔اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو امداد میں ۲۷ ارب ڈالر کی پیش کش کی گئی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ سعودی عرب کی قیادت میں امیر عرب ممالک دیں گے۔ ۲۳ ارب ڈالر اسرائیل کی سرحد کے ساتھ والے نسبتاً غریب عرب ملک برداشت کریں گے، جیسا کہ لبنان، اردن اور مصر۔

بحرین کانفرنس ایسے حال میں منعقد کی گئی کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی ملکوں کے علاوہ کسی بھی کلیدی ملک نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔فلسطینی اتھارٹی نے اس ورکشاپ کا بائیکاٹ کر دیا، اور کہا کہ یہ منصوبہ دھول جھونکنے کی ایک کوشش ہے،جس میں دم خم نہیں ہے۔فلسطینی عوام نے متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کر کے اس امریکی سازشی منصوبے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے ہرگز قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کا غزہ کی سرحد پر آئرن ڈوم سے تین میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کل جمعہ کی شام غزہ کی …