جمعہ , 13 دسمبر 2019

فلسطینیوں سے یکجہتی کے طور پر مناما کانفرنس میں شرکت نہیں کی: کویت

کویت سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)کویت کے نائب وزیرخارجہ خالد الجار اللہ نے کہا ہےکہ جون کے آخری ہفتے میں خلیجی ریاست بحرین کی میزبانی میں ہونے والی عالمی اقتصادی ورکشاپ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر شرکت نہیں کی۔ بائیکاٹ کا مقصد قضیہ فلسطین کی اصولی حمایت اور فلسطینیوں‌ کے موقف کی تائید کرنا تھا۔

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انہوں‌ نے کہا کہ قضیہ فلسطین سے متعلق کویت کا موقف واضح اور مسلمہ ہے۔ کویت فلسطینی قوم اور فلسطینی اتھارٹی کی مدد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قضیہ فلسطین پوری مسلم امہ اور عرب دنیا کا مرکزی مسئلہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں‌ کیا جاسکتا۔

خالد الجار اللہ نے کہا کہ منامہ ورکشاپ میں کویت کی عدم شرکت قضیہ فلسطین کے حوالے سے کویت کے اصولی موقف کا اظہار ہے۔ کویت کی پارلیمنٹ "مجلس الامۃ’ نے متفقہ طورپر ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں مناما کانفرنس کے بائیکاٹ کی سفارش کی گئی تھی۔خالد الجار اللہ نے کہا کہ کویت عالمی طاقتوں پر زور دیتا رہے کہ وہ قضیہ فلسطین کے حوالے سے عالمی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے طے کردہ طریقہ کار کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کے امن فارمولے پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔

خیال رہے کہ 25 اور 26 جون کو مناما میں ‘امن برائے خوش حالی’ کے عنوان سے ایک اقتصادی کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس میں بعض عرب اور دوسرے ملکوں نے شرکت کی۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی اور کئی عرب ملکوں میں اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بائیکاٹ کرنے والے ملکوں میں‌ کویت بھی شامل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی وزیر اعظم کے وکیل پر بھی کرپشن کے الزامات عائد

تل ابیب : کرپشن، خیانت اور دھوکہ جیسے سنگین الزامات میں گھرے سخت گیر اسرائیلی …