پیر , 19 اگست 2019
تازہ ترین

لیبیا کے دارلحکومت ٹریپولی میں حالیہ فسادات میں کن عرب اور مغربی ممالک کا ہاتھ ہے؟

ٹریپولی (لیبیا)(مانیٹرنگ ڈیسک)  سابق آرمی جرنیل خلیفہ ہفتار جس کی پشت پناہی سعودی عرب ۔ متحدہ عرب امارات ۔ مصر ۔ امریکہ اور فرانس کر رہے ہیں, نے تین ماہ قبل لیبیا کے دارلحکومت پر قبضہ کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ ہفتار کے قبضہ میں ہے اور اب اس کا اگلا ہدف دارلحکومت ٹریپولی ہے۔ دوسری طرف ترکی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ سول حکومت کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

لیبیا کے دارلحکومت ٹریپولی میں حالیہ فسادات میں کن عرب اور مغربی ممالک کا ہاتھ ہے؟ جانیے اس وڈیو رپورٹ میں۔

لیبیا کے دارلحکومت ٹریپولی میں حالیہ فسادات میں کن عرب اور مغربی ممالک کا ہاتھ ہے؟ جانیے اس وڈیو رپورٹ میں۔

Gepostet von Iblagh News am Montag, 1. Juli 2019

حالیہ ایام میں ہفتار نے ترک بحری جہازوں اور چند باشندوں کو یرغمال بنالیا جس پر ترک حکومت نے ہفتار کو خبردار کرتے ہوئے یرغمالیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ خلیفہ ہفتار نے یرغمالی رہا کر دیے ہیں تاہم لیبیا کے دارلحکومت پر قبضہ کی مہم ختم نہیں ہوئی۔ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ہفتار کے زیر استعمال اسلحہ متحدہ عرب امارات فراہم کر رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس نے اس اسلحہ کی باقاعدہ وڈیو جاری کی ہے جس پر متحدہ عرب امارات کی مہر ثبت ہے۔ تین ماہ قبل ٹریپولی پر خلیفہ ہفتار کے قبضہ کے معاملہ پر امریکی سعودی اماراتی اور مصری قیادتوں میں مواصلاتی رابطے ہوئے اور ملاقاتیں بھی کی گئیں۔ عرب ممالک میں سعودی عرب ۔ مصر اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں جو مشرق وسطی کے سیاسی عدم استحکام میں براہ راست ملوث اور مغربی طاقتوں کے مفاد کے لئے سرگرم ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دنیا بھر کے حریت پسندوں کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے: مرجع تقلید نوری ہمدانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کے حریت پسندوں کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش …