جمعہ , 30 اکتوبر 2020

مریم نواز کی پیش کردہ مبینہ ویڈیو؛ کیا حقیقت کیا فسانہ

پاکستان کے سیاسی حالات نے ایک اور کروٹ بدلی ہے جس کا اثر اس بار عدلیہ پر بھی ہوا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی ایکخفیہ کیمرے سے بنائی گئی ویڈیو لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران پیش کی جس میں جج ارشد ملک ناصر بٹ نامی شخص سے بات چیت کررہے ہیں۔

مریم نواز کے مطابق احتساب عدالت کےجج کے ساتھ بیٹھا شخص نواز شریف کا چاہنے والا ہے جس نے ویڈیو انہیں دی ہے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کے مطابق جج صاحب نے ناصر بٹ کو فون کرکے گھر پر بلایا جن سے ان کی پرانی جان پہنچان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جج صاحب نے کہا کہ نواز شریف کو سزا سناکر میرا ضمیر ملامت کررہا ہے اور ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔

مریم نواز نے بتایا کہ جج نے لیگی رکن ناصر کو بتایا کہ نواز شریف پر نہ کوئی الزام نہ ہی کوئی ثبوت ہے. جج نے ناصر بٹ کو بتایا کہ نواز شریف پر کوئی بدعنوانی یا کک بیک کا الزام نہیں تھا اور اس حوالے سے ثبوت بھی نہیں ملے۔ جج نے بتایا کہ کوئی شہادت نہیں ملی کہ جائیداد نواز شریف کے پیسوں سے خریدی گئی۔

مریم نواز کے مطابق جج صاحب نے کہا کہ کوئی ثبوت نہیں کہ پیسہ پاکستان سے باہر منتقل ہوا جبکہ کسی بھی محکمے سے پیسے لینے کا ثبوت بھی نہیں ملا۔ مریم نواز کے مطابق جج نے کہا حسین نواز پاکستان کا شہری نہیں اور یہاں سےکچھ باہر لےکر نہیں گیا۔ جج ارشد ملک کا مبینہ طور پر کہنا تھا کہ حسین نواز کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پیسے سعودی عرب بھجوائے گئے۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ سزا دینے والے نے کہہ دیا فیصلہ کیا نہیں، کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ نواز شریف کو قید میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

مریم نواز نے خبردار کیا کہ کسی نے شرارت کرنےکی کوشش کی تو میرےپاس اس سے بھی بڑے ثبوت ہیں۔

مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کےخلاف احتساب نہیں ہے انتقام لیا جارہاہے۔ تین دفعہ کے منتخب وزیر اعظم 70سال کی عمر میں جیل میں قید ہیں۔

مریم نواز کی پریس کانفرنس سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ آج کی پریس بریفنگ کا مقصد ملک کے تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف کو ٹرائل کورٹ میں سزا کے حوالے سے نا انصافی بارے شواہد پیش کرنا ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کی بے گناہی کے بارے ناقابل تردید ثبوت مل گئے ہیں، ان شواہد کے بعد مجھے یقین ہے کہ مقتدر حلقے میرے بھائی کو انصاف ضرور دلائیں گے۔

اس زمرے میں حامد میر نے کہا کہ عمران خان اس وقت حزب اختلاف سے ڈرے ہوئے ہیں اور وہ اب ان کو جلسہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے۔ جج ارشد ملک پر اب یہ فرض ہو گیا ہے کہ وہ سامنے آکر اپنی ویڈیو کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ حکومت اس وقت سے ڈرے جب مریم نواز دوسری ٹیپ چلائیں گی اور اس سے بڑا طوفان آئے گا۔ مریم نواز کے بعد اس سے بڑی ویڈیو موجود ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار کاشف عباسی نے کہا کہ اتنی بڑی آڈیو ویڈیو ٹیپ جاری کرنے کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ نون کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور وہ اب کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسلم لیگ نون ہر جلسہ اور پریس کانفرنس میں یہ مسئلہ اٹھائے گی کہ جج پر دباو ڈالا گیا۔ کاشف عباسی نے کہا کہ لیگی رہنماوں کو یہ سمجھ آگیا ہے کہ اب اگر مقابلہ نہیں کیا گیا تو سب کو گرفتار کیا جائے گا۔ اب اس ویڈیو ٹیپ پر سیاست کی جائے گی۔

دوسری جانب ملک کے معروف قانون دان بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ قانون بہت واضح ہے، سوئس بینک کے فیصلے میں بھی ایک ٹیپ آیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اگر جج دباؤ میں آکر فیصلہ کرے گا تو کیس دوبارہ چل سکتا ہے۔ مریم نواز کی جانب سے جاری کردہ وڈیو ویڈیو ٹیپ کا ابھی اصل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اس وڈیو کی تحقیقات کرائے۔ جج ارشد ملک کا اپنی ویڈیو پر بیان سامنے آنا چاہیے ورنہ اس ویڈیو کو حقیقت سمجھا جائے گا۔

اسی طرح ماہر قانون ایڈووکیٹ راجہ عامر عباس نے مریم نواز کی جانب سے جاری کردہ آڈیو ویڈیو ٹیپ پر چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ٹیپ سچ پر مبنی ہے تو مقدمات ارشد ملک سے لے کر جج محمد بشیر کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ویڈیو کا نوٹس لیں۔ ہم اس ویڈیو کو بطور شہادت عدالت میں پیش کریں گے۔ اگر بات ناصر بٹ کے کنڈکٹ پر آتی ہے تو بات کو ویڈیو تک رکھا جائے ، اس ویڈیو کے بعد جج صاحب کے کنڈکٹ پر سوال اٹھانا چاہئے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عوام جانتی ہے اور جج صاحب بھی خود تسلیم کررہے ہیں کہ نواز شریف پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی، اگر یہ ثابت ہوجائے کہ یہ ویڈیو ٹھیک ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کواس کا نوٹس لیکر اس کی تحقیقات کروانی چاہئے اوراگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی ہے تو اس کے بعد نواز شریف کو جو تین مرتبہ اس ملک کے وزیر اعظم رہے اور اس وقت وہ جیل کی کوٹھری میں ہیں تو اس کا جواب کون دیگا؟ ان کا کہنا تھا کہ جب دودھ کے ڈبوں پر سوموٹو لیا جاتاہے تو یہ تین دفعہ منتخب وزیر اعظم کا معاملہ ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں حسین نواز نے کہا ہے کہ اگر فرانزک کی ضرورت پڑی تو ہم پورا تعاون کریں گے۔ اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس کئی ثبوت اور گواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ ہمارے پاس اور بھی بہت کچھ ہے۔ ہم نے مختلف دائرہ کار اور وجوہات کی بنا پر مزید معلومات کو سنبھالےرکھا ہے۔

اس حوالے سے حکومت کا موقف معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی زبانی منظر عام پر آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے ہمدردیاں سمیٹنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹیپ لیکر مارکیٹ میں بیچنے کی کوشش کی۔ آڈیو ٹیپ کو ٹمپر کرنے والے جعلساز ٹولے کا سرغنہ جیل میں ہے۔ ناصربٹ 20سال مفروررہا اور لندن میں نواز شریف کا باڈی گارڈ رہا۔ ناصر بٹ مشہور زمانہ قاتل، مفرور، منشیات فروش ہے۔ ٹیپ کے پیچھے اسی شخص نے یہ حرکت کی۔ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرائیں گے۔

مریم نواز کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ویڈیو کی ریکارڈنگ غیر قانونی ہے۔ مریم نواز شریف نے قوم کو گمراہ کرنیکی کوشش کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ویڈیو اس وقت کہاں تھی جب آپ ہائیکورٹ میں گئے۔ آپ نے اس ویڈیو سے ن لیگ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن آپ ہر بار ناکام ہوں گے۔

انہوں نے اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک جج پر نہیں بلکہ پوری عدلیہ پر حملہ کیا ہے۔ آپ نے انصاف دینے والے اداروں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اور ان پر انگلیاں اٹھا دیں۔ انہوں نے مذکورہ ویڈیو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جج سے ملاقات کرنے والا ناصر بٹ مسلم لیگ ن کا آدمی ہے۔

واضح رہے کہ پیمرا نے مریم نواز کی پریس کانفرنس دکھانے پر ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ پیمرا کے مطابق ٹی وی چینلز کی جانب سے عدلیہ اور ریاستی اداروں کے خلاف پریس کانفرنس براہ راست دکھائی گئی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ایسی کانفرنس دکھانا پیمرا قوانین کیخلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پریس کانفرنس میں ایک مبینہ ویڈیو دکھائی گئی تھی جس میں احتساب عدالت کے جج اور لیگی کارکن ناصر بٹ کو گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مریم نواز نے الزام لگایا ہے کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج کو بلیک میل کیا گیا۔ مبینہ ویڈیو اور آڈیو ثبوت دکھاتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سزا دینے والا خود بول اُٹھا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہوئی ہے۔

اس معاملے میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ اس کا جواب تو ویڈیو کی فرانزک ٹیسٹ رپورٹ ہی کرے گی البتہ اس وقت ملکی سیاست میں ایک نئی گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے جس کی آنچ عدلیہ پر بھی آ رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

’اسلام آباد کی طاقتور ایلیٹ قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی براہ راست ذمہ دار ہے‘

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد سے …