اتوار , 21 جولائی 2019

عوام سڑکوں پر نہ آجائیں

(ظہیر اختر بیدری) 

ہمارے غربا ، مزدور،کسانوں کی سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا کہ روتے ہیں پر آواز تک نہیں نکلتی۔ بعض موضوع اس قدر اہم ہوتے ہیں کہ ان پر بار بار لکھنا پڑتا ہے۔میں ایک عرصے بلکہ عرصہ دراز سے سوچ رہا ہوں کہ ہمارے غریب بھائیوں، مزدوروں، کسانوں کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ اہل خرد کہتے ہیں ’’عوام قوت کا سرچشمہ ہوتے ہیں‘‘ ظاہر ہے ہمارے غریب تعلیم سے بڑی حد تک نابلد عوام نہ قوت کو جانتے ہیں نہ قوت کے سرچشمے کا مطلب سمجھتے ہیں، پھر ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ملک اور معاشرے میں اپنی اہمیت اور طاقت کو محسوس کریں۔ چونکہ ہم نے اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے، سو اس حوالے سے ہم کچھ ایسی مثالیں پیش کریں گے جس سے عوام کی طاقت کا اندازہ ہوسکے۔

یہ 1968 کی بات ہے جب عوام ایوب خان کے خلاف سڑکوں پر آگئے تھے۔ ایوب خان کو یہ ’’اعزاز‘‘ حاصل ہے کہ یہ حضرت ملک کے پہلے بڑے آدمی تھے جن کے سر میں اقتدار حاصل کرنے کا سودا سمایا اور مرحوم نے بلا کسی خون خرابے کے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ قبضہ تو کرلیا لیکن انھیں خوف تھا کہ کہیں عوام ان کے خلاف سڑکوں پر نہ آجائیں، یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے اس آسانی کے ساتھ پاکستان جیسے بڑے ملک پر قبضہ کرلیا ہو۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک نان سویلین کے خلاف عوام سڑکوں پر کیوں نہیں آئے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ سول اشرافیہ نے ایسی حماقتیں کی تھیں کہ کسی بھی طاقتور کا دل اس موقع سے فائدہ اٹھانے کو چاہ سکتا ہے۔ سو ایوب خان نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔

ایوب خان نے اقتدار پر تو قبضہ کرلیا لیکن انھیں خوف تھا کہ کہیں سیاست دان ان کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ اس خوف سے نجات پانے کے لیے انھوں نے ایک اہم قدم اٹھایا۔ انھیں اپنے ذرایع سے یہ معلومات حاصل تھیں کہ سیاستدان ان کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں اور انھیں یہ بھی پتا تھا کہ سیاستدانوں کی اکثریت کا تعلق جاگیردار طبقے سے ہے، سو ایوب خان نے جاگیردار طبقے کو ڈرانے کے لیے زرعی اصلاحات کا اعلان کیا۔ یہ وار ایسا تگڑا تھا کہ جاگیرداروں پر مشتمل سیاستدان بری طرح گھبرا گئے اور ایوب خان کو یقین دلانے کے لیے کہ وہ ان کے خلاف نہیں ہیں، مسلم لیگ کو دو ٹکڑوں میں بانٹ کر ایک ٹکڑا کنونشن لیگ کے نام سے بنایا اور اس ٹکڑے یعنی کنونشن لیگ کو ایوب خان کے حوالے کردیا۔

سیاست کاروں کے اس اقدام سے ایوب خان اور مطمئن ہوگئے اور زرعی اصلاحات کے ذریعے حاصل کی گئی زمین میں سے بڑا حصہ ان سیاستدانوں کو واپس کردیا جن پر انھیں اعتماد تھا۔ہمارے سیاستدان ہمیشہ فوجی حکومتوں کے خلاف رہے ہیں یا فوجی حکومتوں کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں لیکن ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ جب بھی ملک میں فوجی حکومت آئی سیاستدان اس میں شامل ہوتے رہے، ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک دیکھیے ہر فوجی حکومت میں سیاستدان شامل رہے۔

ہم نے قوت کا سرچشمہ عوام کو کہا تھا جب ایوب خان اعتدال سے بڑھ کر عوام کے لیے مسئلہ بن گئے تو ملک کی ان ترقی پسند جماعتوں نے جو عوام کی نمایندہ تھیں ، ایوب خان کے لیے مسئلے کھڑے کرنے لگیں۔ ایوب خان کے معاہدہ تاشقند سے عوام بد دل تھے۔ ایوب خان ہی کی حکومت کے ایک وزیر بھٹو نے معاہدہ تاشقند کو ملک کا ایک بڑا مسئلہ بناکر اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا ، عوام کشمیر سے کراچی تک سڑکوں پر آگئے اور ایوب خان کی حکومت لرزنے لگی۔

عوام کو دبانے کی ایوب خان نے بہت کوشش کی لیکن عوام اپنی ضد پر قائم رہے کہ ایوب خان اقتدار چھوڑ دیں۔ آخر ایوب خان کی اپنی حکومت نے عوام کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور حکومت یحییٰ خان کے حوالے کردی، جہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ایوب خان کی حکومت کے دوران امریکا نے سوشل ازم سے خوف کھا کر پسماندہ ملکوں کو بھاری مالی امداد اس شرط پر دینا شروع کی کہ وہ مزدوروں کو خاص طور پر ترقی پسند ایلیمنٹ کو دبا کر رکھیں گے۔

سو ایوب حکومت نے حسن ناصر کو لاہور کے قلعے میں شدید تکلیفیں دے کر شہید کردیا۔ مزدور طبقے میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔ کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں مزدوروں، کسانوں، طالب علموں، سیاسی کارکنوں کو گرفتارکرلیا گیا، ملک کا بچہ بچہ گھروں سے باہر آگیا اور ایوب خان کی اپنی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ عوام نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی ’’قوت کا سرچشمہ‘‘ ہوتے ہیں۔ مرد، عورتیں، بوڑھے جوان سب سڑکوں پر آگئے یہی عوام کی قوت کا کرشمہ تھا۔

دوسری بار ہم نے عوام کو قوت کے سرچشمے کی حیثیت سے 1977 میں دیکھا جب عوام بھٹو صاحب کی وڈیرہ نوازی سے مایوس اور مشتعل ہوگئے، سارا ملک آرمی کے کنٹرول میں تھا عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت نے فوج کو بلا لیا تھا لیکن عوام کا غصہ تھمتا ہی نہیں تھا۔ اگرچہ بھٹو سے عوام ناراض تھے لیکن امریکا بھی عوام کو سڑکوں پر لانے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ امریکا بھٹو کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا چاہتا تھا لیکن بھٹو امریکا کا حکم ماننے کے لیے تیار نہ تھے، وجہ خواہ کچھ رہی ہو ہم نے یہی دیکھا کہ پورے پاکستان میں ہر طرف یہ ثابت ہو رہا تھا کہ قوت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

آج ہمارے بدنام زمانہ سیاستدان عوام کو سڑکوں پر آنے کی دہائی دے رہے ہیں اور عمران حکومت نے عوام کو ٹیکسوں اور مہنگائی میں دبا کر رکھ دیا ہے کہ 71 سال میں نہ کبھی اتنے ٹیکس لگے تھے نہ اتنی مہنگائی تھی لیکن عوام ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ اہل سیاست کی بے تحاشا لوٹ مار ہے اور موجودہ حکومت پر اعتبار ہے ، حکومت پر خواہ اشرافیائی سیاست کارکتنے ہی الزام لگائیں اس پرکرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے۔ یہی وہ فیکٹر ہے جو عوام کو سڑکوں پر آنے سے روک رہا ہے۔ حکومت کو اب مزدوروں، کسانوں، غریب عوام کی حمایت کی ضرورت ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام کو ٹیکسوں اور مہنگائی سے بچانے کے لیے ارب پتی اشرافیہ پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے اور مہنگائی روکنے کے لیے بیرونی امداد کو بھی استعمال کرے۔ ورنہ حالات 1968اور1977کی طرف چلے جائیں گے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …