اتوار , 21 جولائی 2019

‘سرنگیں’ قبلہ اول کی بنیادیں‌ کمزور کرنے کا خطرناک صہیونی ہتھکنڈا!

مسجد اقصیٰ کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے سرگرم عالمی صہیونی لابی، صہیونی ریاست اور انتہا پسند یہودی گروپ دن رات اپنے مذموم مقاصد کو آگےبڑھا رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے صہیونیوں کے ہاتھ میں دیگر حربوں‌کے ساتھ مسجد کی بنیادوں تلے سرنگیں کھودنے کا ہتھکنڈہ بھی شامل ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ کی بنیادوں تلے اب تک 15 سرنگیں کھودی جا چکی ہیں۔ سرنگوں کا یہ جال جہاں‌پرانے بیت المقدس کی تاریخی دیواروں کے لیے خطرناک ہے وہیں مسجد اقصیٰ‌کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ان سرنگوں‌کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ اور پرانے بیت المقدس کی دیواریں جزوی یا کلی طورپر منہدم ہوسکتی ہیں اور ایسا کسی بھی وقت ممکن ہے۔

مسجد اقصیٰ کے جنوب میں‌واقع سلوان ٹائون میں‌حال ہی میں یہودیوں‌نے ایک نئی سرنگ کاافتتاح کیا۔اس سرنگ کے بعد مسجد اقصیٰ کی جنوبی دیوار ہوا میں معلق ہوچکی ہے اور اس کے نیچے کوئی سہارا نہیں‌ رہا ہے۔ یہ خلاء کسی بھی وقت دیوار کے انہدام کا موجب بن سکتا ہے۔ کھدائیوں کا یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ برسوں سے جاری ہے اور ان سرنگوں کی کھدائی کا مقصد مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کمزور کرکے اسےشہید کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

چند روز قبل صہیونی بلدیہ اور اسرائیلی حکومت نے امریکا کے تعاون سے اور سرپرستی سے ‘حجاج روڈ’ کے عنوان سے ایک نئی سرنگ کا افتتاح کیا۔ یہ سرنگ’العاد’ نامی ایک یہودی گروپ کی طرف سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ تنظیم فلسطین میں‌یہودی آباد کاری کی مکروہ سرگرمیوں‌میں پیش پیش ہے۔ نئی سرنگ کا افتتاح اسرائیل میں‌متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین نے کیا جب کہ مشرق وسطیٰ‌کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بیلٹ اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موقع پرموجود تھے۔

ڈیوڈ فریڈ مین نے اپنے ہاتھ سے ہتھوڑے کی مدد سے سرنگ کا افتتاح کیا۔ بیت المقدس کو یہودیانے کی کسی تقریب یا سرگرمی میں کسی امریکی سفیرکی باقاعدہ شرکت کا یہ پہلا موقع ہے۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ امریکا فلسطین میں یہودی آباد کاری ، توسیع پسند اور مقدس مقامات کو یہودیانے کے لیے اسرائیل کی عملی سرپرستی کررہا ہے۔

سلوان میں دفاعی اراضی کمیٹی کے رکن فخری ابو ذیاب نے بتایا کہ نئے تہویدی منصوبے کا مقصد مسجد اقصیٰ کے اہم حصوں‌ کی مسماری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں‌نے بتایا کہ ‘حجاج روڈ’ نامی سرنگ کا منصوبہ سنہ 2005ء میں‌پیش کیاگیا اور سنہ 2010ء میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس پرکام شروع کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ اس کے بعد اس سرنگ کی کھدائی کا سلسلہ جاری تھا جو حال ہی میں مکمل ہوا ہے۔

فخری ابو ذیاب نے اخبار’فلسطین’ کو بتایا کہ اس تہویدی منصوبے کا اگلہ مرحلہ بیت المقدس میں مزید کھدائیوں کی اور شہر غاصبانہ صہیونی قبضے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

مذکورہ سرنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخری ابو ذیاب نے کہا کہ ‘حجاج روڈ’ سرنگ سلوان میں واقع ‘ڈیوڈ سٹی’ نامی یہودی کالونی سے مسجداقصیٰ سے متصل دیوار براق تک پھیلی ہوئی ہے۔ یوں‌یہ سرنگ 700 میٹر لمبی ہے۔ یہ سرنگ پرانے بیت المقدس،سلوان قصبے بالخصوص مسجد اقصیٰ کے جنوب میں‌موجود تاریخی اموی محلات کو یہودیت میں‌تبدیل کرکے اسے توراتی پارک کا حصہ بنانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فخری ابو ذیاب کا کہنا تھا کہ ‘حجاج روڈ’ سرنگ سلوان فلسطینیوں کےکئی گھروں کے نیچے سے گذر رہی ہے۔ اس سرنگ کی کھدائی کے بعد اس کے اوپر آنے والے فلسطینیوں کے مکانات کی دیواریں بیٹھ رہی ہیں اور گھروں‌کی دیواروں‌میں دراڑیں پڑ‌رہی ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ حجاج روڈ سرنگ اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند یہودی تنظیموں کا مشترکہ منصوبہ جس کا مقصد سلوان میں البراق صحن اور قبۃ الصخرۃ تک یہودی آبادکاروں کو براہ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔

ابو ذیاب کا کہنا تھاکہ امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین اور مشرق وسطیٰ‌کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بیلٹ کی سرنگ کی افتتاحی تقریب میں‌موجودگی اس بات کاواضح‌ثبوت ہے کہ امریکا کے انجیلی مسیحی پرانے بیت المقدس کو یہودیانے کےلیے دامے درمے سخنے صہیونی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور عملا ان مکروہ اور مجرمانہ افعال میں شامل ہیں۔

انہوں‌نے مسجد اقصیٰ کی بنیادوں تلے کھدائیوں پرعرب ممالک اور عالم اسلام کی طرف سے اختیار کردہ مجرمانہ خاموشی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صہیونی ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کے خلاف سرگرم ہیں اور عالم اسلام کی طرف سے دانستہ اور مجرمانہ لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔

مسجد اقصیٰ تلے 15 سرنگوں کا جال
بیت المقدس میں اوقاف کے ڈائریکٹر الشیخ ناجح بکیرات نے بتایا کہ اب تک صہیونی حکام مسجد اقصیٰ کی بنیادوں تلے 15 سرنگیں‌مکمل کرچکے ہیں۔ انہوں‌نے کہا کہ ان سرنگوں کی مسجد اقصیٰ کے عین نیچے اور اس کے اطراف میں موجود مقامات کو ہوا میں معلق کردیا ہے۔ ان مقامات کے نیچے کوئی مضبوط سہارا نہیں رہا ہے جس کے باعث یہاں‌کسی بھی زمین بیٹھ سکتی اور مسجد اقصیٰ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ناجح بکیرات نے کہا کہ صہیونی طاقتیں مل کر بیت المقدس کے ماضی اور حال کو تباہ کرنے اور مسجد اقصیٰ کے وجود کے لیے خطرہ بن کر مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

انہوں‌نے بتایا کہ حال ہی میں جس سرنگ کا افتتاح کیا گیا اس کا پہلا حصہ 545 میٹر ہے۔ اسرائیلی ریاست مسجد اقصیٰ کی جنوبی سمت میں مزید سرنگیں‌کھود کر مسجد کی دیواروں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست سنہ 1967ءکی جنگ کے بعد مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے اور نام نہاد آثار قدیمہ کی تلاش کے لیے کھدائیاں کررہا ہے مگر آج تک اسے وہاں پر کسی یہودی تاریخی عمارت کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کی دیواریں کے نیچے پہلی سرنگ سنہ 1996ء میں مکمل کی گئی۔ یہ سرنگ مسجد کی مغربی سمت میں کھودی گئی تھی جو مدرسہ العمریہ سے مجاھدین روڈ سے ہوئے دیوار براق کے مقام تک پہنچتی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …