پیر , 14 اکتوبر 2019

بڑا منصف ہے امریکہ

(شین شوکت) 

کون سچا ہے کون جھوٹا، کون چور ہے کون کوتوال، پاکستان کی بائیس کروڑ عوام کیا جانیں، وہ تو حیران ہیں کہ کیا اس ہی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ان سے ووٹ مانگا گیا تھا کہ ہمارے ووٹوں کے بل بوتے پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچنے والے ہمارے منتخب نمائندے قوم کے بہترین مفاد میں قانون سازی کرنے کی بجائے توتکار کا مچھلی بازار گرم کر دیں، ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے لگیں، ایک دوسرے پر بہتان تراشی کی بارش کردیں، تہمتیں اور الزام لگانے میں حد سے آگے نکل جائیں، ان کو کیا معلوم تھا کہ جس قیادت کو چن کر وہ پاکستان کی قانون ساز اسمبلیوں میں بھیج رہے ہیں، وہ بظاہر تو غربت اور مہنگائی کو مٹانے کے نعرے لگا رہے ہیں لیکن وہ بباطن ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جنگ لڑنے کیلئے پارلیمنٹ نامی اکھاڑے میں اُترے ہیں۔ عوام ایک دوسرے پر کیچڑ اور گندگی اچھالنے کے منظرنامہ سے ہر گھڑی آگاہ ہوتے رہتے ہیں کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس دنیا کو گلوبل ویلیج بنا دیا ہے۔ وہ آن واحد میں جہاں بھر کی خبروں سے آگاہ ہو سکتے ہیں تو اپنے تراشے ہوئے بتوں کے حالات وواقعات سے کیسے بے خبر رہ سکتے ہیں۔ انہیں نے تو منتخب کیا تھا اسمبلیوں میں جاکر اپنے دل کی دھڑکنوں کی ترجمانی کرنے والوں کو، اپنے ادھورے خوابوں کے تعبیر گروں کو مگر یہ کیا وہ جو کہتے تھے ہم ملک اور قوم کی تقدیر بدل دیں گے، آپس میں مشت وگریباں ہوگئے، ایک دوسرے کو چور چکار چوروں کے سردار اور غدار غدار کہنے لگے

اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل
وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی

کوئی ملک اور قوم اس وقت تک تعمیر اور ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی جب تک اس ملک یا قوم کے افراد کے مابین امن اور سکون کا بول بالا نہ ہو۔ پر یہاں تو گنگا ہی اُلٹی بہہ رہی ہے۔ ہر روز نت نیا چور یا ڈاکو چوری اور سینہ زوری کے الزام میں گرفتار ہوکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ چور ڈاکو، قاتل، غاصب اور اس قبیل کے دیگر مجرم اپنا جرم کبھی بھی تسلیم نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کیلئے اپنی جانب اُٹھنے والی ہر اُنگلی کو کاٹ دینا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے وہ ہر اک حربہ استعمال کرنے کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں مریم نواز نے نواز شریف کو بے گناہ ثابت کرنے کے جو آڈیو اور ویڈیوز جاری کیں ان کی صحت کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ کچھ تو ہے جسے پیش کر دیا گیا کسی مجرم کے بے گناہ ہونے کے ثبوت میں۔ اس ویڈیو میں کیچڑ اُچھالا گیا عدالت عالیہ کے ایک جج پر جس کے جواب میں جج موصوف نے اپنے دفاع میں یہ بات کہہ دی کہ وہ ویڈیو جعلی اور جھوٹے مواد پر مشتمل تھی، مریم نواز اور فضیلت مآب جج کے درمیان ہونے والی اس توتکار کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کے متعلق ہم کچھ عرض کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہم بھی ان قسمت جلے لوگوں کی صف میں کھڑے ہیں جو یہ طرفہ تماشا دیکھ کر حیران بھی ہیں اور پریشان بھی اور ہاتھیوں کی اس لڑائی میں گھاس پھونس کی طرح کچلے جارہے ہیں۔ یہ لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے کو تاخت وتاراج کرنیوالے ہر پانچ سال بعد اپنے پیداکردہ حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کے پاس آکر جمہوریت کے نام پر ان سے ان کے ووٹوں کی بھیک مانگتے ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، ووٹ ایک قومی امانت ہے، ووٹ ایک قیمتی اثاثہ ہے، لوٹ لے جاتے ہیں یہ قیمتی اثاثہ چکنی چپڑی باتیں کرکے، لچھے دار تقریریں کرکے جھوٹے سچے خواب دکھا کر اور پھر جب اختیاردار بن کر اسمبلیوں کی نشستوں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے گریباں چاک کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھتے۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا جو اب ہورہا ہے۔ کہتے ہیں ایک دن چور کا ہوتا ہے اور سو دن سعد کے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ بیت جانے والے دن چور کے تھے اور اب جو صبح نو طلوع ہونے آئی ہے وہ ایک دن سعد کا لیکر آئی ہے لیکن سعد بے چارہ ثابت کیسے کرے گا چور کی چوری کیونکہ وہ اپنے دفاع میں ہر وہ ہتھ کنڈہ استعمال کرنے پر مصر ہے جو اسے سچا ثابت کر سکے۔

ہمیں تو مریم نواز کی ویڈیو کے بارے میں جان کر موردالزام ٹھہرائے جانے والے جج کے پیشہ تقدس کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ جس دیس میں بیٹھے بٹھائے بے گناہ لوگوں پر ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اور وہ مقدمے پہ مقدمہ بھگتتا رہ جاتا ہے اس دیس میں ہمیں اس بات کا خوف ستا رہا ہے کہ کہیں چور سعد نہ ثابت ہوجائے اور سعد کو چوری کے الزام میں دھر نہ لیا جائے مگر ’الٹاچور کوتوال کو ڈانٹے‘ کا محاورہ جپنے والے یہ بھی تو کہا کرتے ہیں کہ ’جس کی لاٹھی ہو بھینس اسی کی ہوتی ہے‘۔ اسلئے ہم عدالت عالیہ کے فاضل جج کو بڑے احترام سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ریاست مدینہ کی تقلید وتعبیر میں اپنے آپ کو عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ثابت ہونے کے بعد حق اور انصاف کا بول بالا ہوجائے اور ہتک عزت کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

نجف تا کربلا، سفر عشق و شعور

توقیر کھرل امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں چند …