اتوار , 21 جولائی 2019

اسرائیل اپنے جرائم کے ریکارڈ پر پردہ ڈال کر قانون سے فرار کیوں ؟

فلسطین میں صہیونی ریاست کےقیام نا مسعود کے71 سال گذرچکے ہیں۔ یہ اکہتر برس صہیونیوں کی سفاکیت، بے رحمی، دہشت گردی اور حیوانیت کے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔ صہیونی ریاست کےان ریاستی جرائم اور دہشت گردی کے واقعات کا ایک دبستان موجود ہےمگر صہیونی اپنے جرائم پر جزوی یا کلی طورپر پردہ ڈال کر اپنے ہی بنائے ہوئے قانون سے راہ فرار اختیار کررہا ہے۔

اگرچہ صہیونی ریاست نے اپنے بعض پرانے ریاستی جرائم اور دہشت گردی کےواقعات سے پردہ اٹھایا ہےتاکہ دنیا کے سامنے اپنی گرتی ساکھ کو بہتر بنایا جاسکے مگر یہ واقعات اصل واقعات کا عشرعشیر بھی نہیں۔ سنہ 1948ء کےقیام کے بعد اب تک صہیونی ریاست کی وزارت دفاع فوج، پولیس، یہودی اور صہیونی مسلح مافیائوں اور ملیشیائوں کے جرائم پرپردہ ڈالے ہوئے ہیں۔

عبرانی اخبار’ہارٹز’ نے اپنی رپورٹ میں‌بتایا ہےکہ سنہ 1948ء اور اس کےبعد صہیونی اجرتی قاتلوں اور ملیشیائوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ان گنت واقعات پردہ راز میں رکھے ہوئے ہیں۔ صہیونیوں‌ کی ریاستی دہشت گردی کے ان واقعات کو دانستہ طورپر دنیا کی آنکھوں سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعض واقعات جن کا تاریخی ریکارڈ میں تفصیل کئ ساتھ ذکر ملتا ہے ان میں 71 سال قبل کے ‘الصفصاف’ قتل عام بھی شامل ہے۔ حال ہی میں اس سنگین مجرمانہ واقعے سے پردہ اٹھایا گیا۔ ریاستی دہشت گردی کے واقعے میں 52 فلسطینیوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

قانون سے کھلواڑ
جامعہ النجاح کےعالمی قانون کے ماہرپروفیسر راید بدویہ نے ‘مرکزاطلاعات فلسطین’ سے بات کرتےہوئے کہا کہ جنگی جرائم کے واقعات پردہ ڈالنے کے صہیونی ریاستی حربے کے کئی پہلو اور محرکات ہیں۔ صہیونی ریاست اپنے ہاتھوں کیے گئے مظالم کوبے نقاب کرکرکےقانونی ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لیے اس نے ریاستی جرائم پر پردہ ڈالنے کی مجرمانہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔
انہوں‌نے مزید کہا کہ صہیونی ریاست کے اپنے قانون کے تحت ایسے جرائم جن کا ارتکاب صہیونی ریاست کے کسی ادارے کے ہاتھوں ہوا ہو کچھ عرصے کے بعد ان کی تفصیلات سامنے لانا ضروری ہے تاکہ محققین کو ان حقائق کا پتا چل سکے۔ تاہم اس باب میں‌ صہیونی ریاست انتہائی کم واقعات کو سامنے لاتی اور قانون کا سامناکرنے سےفرار اختیار کرتی ہے۔

بدویہ نے کہا کہ جنگی جرائم کی تفصیلات سےمتعلق نہ صرف غیرجانب دار مبصرین کوخبر نہیں‌دی جاتی بلکہ صہیونی ماہرین کو بھی ان کی بھنک نہیں پڑنے دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایسے واقعات پردہ راز میں جن میں‌صہیونی فوج اور دیگر ریاستی اداروں کو سخت قانونی باز پرس کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

فلسطینی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کے واقعات کوسامنےلانے کےسیاسی اثرات بھی مرتب ہوتےہیں۔ چونکہ اسرائیل مسلسل اپنے کیے گئے جنگی جرائم کی ذمہ داری قبول کرنےسے انکار کرتا رہا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قیام اسرائیل کے وقت فلسطینی رضاکارانہ طورپر اپنےگھر بار چھوڑ کر زمینیں، گھر اور جائیدادیں اسرائیلیوں کے حوالے کرگئے تھے۔

اگران واقعات سے پردہ اٹھایا جاتا ہے تو اسرائیل قانونی، سیاسی، مالی اور عالمی سطح پر جواب دہ ہوسکتا ہے۔ایسی صورت میں صہیونی ریاست کو سخت نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہاکہ عالمی قانون فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں واپسی کا حق دیتا ہے۔ یہ حق جنگ کے وقت بھی حاصل تھا۔ اگر فلسطینی سنہ 1948ء میں اپنے گھروں سےرضاکارانہ طورپر نکلے تھے تو انہیں آج واپس آنے سےکیوں روکا جا رہا ہے۔ ان پر ڈھانے جانےوالےمظالم پر پردہ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔چونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ عالمی قانون کی رو سے وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اس لیے اگرآج فلسطینیوں پرمظالم سامنے لائے جاتےہیں تو فلسطینیوں کے حق وپسی کا مقدمہ مضبوط اور اسرائیلی ریاست کم زور ہوگی۔

ماہرین قانون اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنگی جرائم کے واقعات پر پردہ ڈال کر اسرائیل یہ ثابت کررہا ہےکہ صہیونی مافیا اور ملیشیائوں نے فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ جنگی جرائم کا باربار ارتکاب کیا تھا۔

تاریخ مسخ کرنے کی کوشش
فلسطینی تجزیہ نگار حسام الدجنی کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قوم کی تاریخ اور اس کا تشخص مسخ کرنا چاہتی ہے۔ یہ تماشا ان دنوں عرب ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستی ٹرین چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عرب ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات دراصل صہیونی ریاست کی ساکھ بہتر بنانا اور فلسطینی تاریخ مسخ‌ کرنا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرائم کو بے نقاب کرنے کے سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کوئی ذی عقل یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ کوئی ریاست ہزاروں جنگی جرائم پر قائم ہوسکتی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …