بدھ , 23 اکتوبر 2019

اسرائیل میں آزادی اظہار کا کھوکھلا دعویٰ: یروشلیم پوسٹ

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)صہیونی فوج نے “جانیٹن پولاک” کو تل ابیب سے گرفتار کر کے شدید زد و کوب کا نشانہ بنایا اور اس کے چہرے اور سر کو زخمی کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق پولاک مغربی کنارے میں ‘رکاوٹی دیوار’ بنانے کا مخالف اور بی ڈی ایس (BDS) تحریک کا حامی ہے۔خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر نے اسرائیلی نیوز ایجنسی “یروشلیم پوسٹ” سے نقل کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ تل ابیب میں سماجی سرگرم ایک یہودی جوان کو صہیونی فوج نے صرف اس جرم میں زد و کوب کیا کہ وہ بی ڈی ایس تحریک کا حامی ہے۔

صہیونی فوج نے “جانیٹن پولاک” کو تل ابیب سے گرفتار کر کے شدید زد و کوب کا نشانہ بنایا اور اس کے چہرے اور سر کو زخمی کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق پولاک مغربی کنارے میں ‘رکاوٹی دیوار’ بنانے کا مخالف اور بی ڈی ایس (BDS) تحریک کا حامی ہے۔پولاک کو اس سے قبل بھی اسرائیلی عدالت کے کٹہرے میں صرف اس وجہ سے کھڑا کیا گیا کہ اس نے مغربی کنارے میں صہیونی ریاست کے خلاف ایک مظاہرے میں شرکت کی تھی۔

پولاک ۱۹۸۲ میں تل ابیب میں پیدا ہوا، وہ ایک اشکنازی یہودی ہے۔ اس کا باپ ‘یوسی پولاک’ ایک فنکار اور اداکار تھا اس نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے منعقدہ ایک ‘شو’ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولاک کے نانا ‘نمرود ایشل’ کو صہیونی ریاست کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کے جرم میں ۱۹۵۰ میں قید کر دیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …