اتوار , 20 اکتوبر 2019

یہودی کالونیوں کو اکھاڑ پھینکنے کی تحریک جاری رکھیں گے:حماس

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی ریاست کی توسیع پسندانہ پالیسی میں تیزی آنے کے بعد رام اللہ اتھارٹی کی طرف سے دشمن ریاست کےساتھ سیکیورٹی تعاون ختم کردینا چاہیے۔ حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوتوں کی طرف سے مسلح مزاحمت ہی دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام ونامراد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں‌کہا کہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری میں اضافے سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا بیان اس امرکا واضح ثبوت اور اظہار ہے کہ اسرائیل غرب اردن میں یہودی آباد کاری میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کی لیڈرشپ کے بیانات کے بیانات کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل سے تعلقات اور سیکیورٹی تعاون فی الفور ختم کر دینا چاہیے۔ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے نام نہاد سیکیورٹی ادارے غرب اردن میں فلسطینی مزاحمتی قوتوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔

حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینی قوم اور حماس جس طرح غزہ سے یہودی آبادکاروں کو بے دخل کیا اسی طرح غرب اردن سے بے دخل کرنے کی انقلابی تحریک جاری رکھے گی۔خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کی ایک نئی اسکیم کی منظوری کا اعلان کیا ہے جس کے تحت القدس میں ‘گیلو’ یہودی کالونی میں 216 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

اعلیٰ تربیتی معیار پر پاک فوج کو فخر ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

کراچی: سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے …