اتوار , 21 جولائی 2019

پاک امریکہ تعلقات، ایٹمی پروگرام اور ہمسایہ ممالک

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)

پاکستانی وزیراعظم اور امریکی صدر کے متعلق ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ عمران خان اور ٹرمپ بار بار یوٹرن لیتے ہیں، حالانکہ بالکل دونوں لیڈر زبردست ہٹ دھرم ہیں، حد سے زیادہ ہٹ دھرمی ہی ان کے یوٹرن کا باعث بنتی ہے۔ یہ ضد ہی ہے، جس کی وجہ سے موقف بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگتی، یہ فیصلوں سے پہلے سوچ بچار کی بجائے من پسندی اور سطحی انداز نظر کا نتیجہ ہے۔ جہاں ہٹ دھرمی قدر مشترک ہے، وہیں دونوں کی شخصیات میں فرق بھی بہت زیادہ ہے، ایک کامیاب کاروباری، جواری ہے، دوسرے کو کاروبار مملکت سمیت کسی بزنس کی سوجھ بوجھ نہیں، وہ سیاست پیشہ کاروباریوں کے رحم کرم پہ ہیں، عمران خان دوست ممالک کی چاپلوسی کرکے بھیک مانگتے ہیں، ٹرمپ ممالک کو ٹریپ کرکے لوٹتے ہیں، سعودی عرب کیساتھ دونوں لیڈروں کی ڈیلنگ ایک مثال ہے۔ خیر امریکہ ایک استعماری طاقت ہے، جو کاروبار بھی استحصال کی بنیاد پہ کرتے ہیں، جنگ بھی ان کا کاروبار ہے، پاکستان ایک عرصے تک اس کا شراکت دار رہا ہے، اب صورتحال بدل چکی ہے۔

اس بدلی ہوئی صورتحال میں پاکستان وزیراعظم امریکہ جا رہے ہیں، فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ دورہ مکمل کرکے آتے ہی عمران خان پاکستانی قوم کو بہت بڑی خوشخبری سنائیں گے۔ اللہ جانے کہ پاکستان خطے میں پھر کسی ملک کیخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے والا ہے، یا امریکہ سی پیک کا حصہ بننے والا ہے۔ جہاں تک عمران خان اور ٹرمپ کے درمیان مماثلت کی بات ہے، یہ موضوع بحث کا حصہ ہے، دورہ بھی اس سے متاثر ہوسکتا ہے، لیکن زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ہر پاکستانی وزیراعظم کی امریکی یاترہ کی طرح ہی اہمیت کا حامل ہے، عمران خان کی شخصیت سے اس کی انفرادیت کا کوئی تعلق نہیں۔ خیر دیکھنا یہ ہے کہ اس دفعہ امریکیوں کے پاس پاکستان کو دام میں پھنسانے کیلئے کیا لیوریج ہے، یا اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے، امریکہ کسی خاص تشویش میں مبتلا ہے، جس طرح مائیک پومپیو دوڑے دوڑے عمران خان کو مبارک باد دینے آئے تھے، یہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں پہلی بار تھا، اب جب عمران خان امریکہ جا رہے ہیں تو پتہ چلے گا کیا نیا ہے۔

امریکیوں نے اپنے طریقہ کار کے مطابق احساس دلانا شروع کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے دباؤ برقرار ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی امریکی نائب سیکرٹری ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی جوہری سرگرمیوں پر تحفظات ہیں۔ پاکستان اور امریکہ دونوں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے 2020ء کے بجٹ میں پاکستان کیلئے عسکری امدادی فنڈ شامل نہیں، تاہم امریکی بجٹ میں پاکستان سے متعلق سویلین امدادی پروگراموں پر توجہ ہوگی، جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ، انسداد دہشتگردی سے متعلق قوانین، پاک امریکہ تجارتی تعلقات اور امدادی پروگرام کے اہم نکات ہیں، پاکستان کیساتھ ہمارے تعلقات بہت پیچیدہ اور نتیجہ خیز رہے، جنوبی ایشیائی اسٹریٹجی کے تحت افغان امن عمل کیلئے پاکستان کا تعاون حاصل کرنے پر زور رہا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات میں پیچیدگی کے باوجود کامیابی سے امریکی مقاصد کی تکمیل کے دعوے کیساتھ انکا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشتگرد گروپوں اور انکے اثاثوں کو منجمد کرنے جیسے اہم اقدامات کئے ہیں، پاکستان ان اقدامات کو جاری رکھتے ہوئے منطقی انجام تک بھی پہنچائے، لشکر طیبہ اور جیش محمد تنظیمیں سرگرم رہیں تو دنیا کیلئے مستقل خطرات رہیں گی، جیش محمد کے سربراہ پر اقوام متحدہ کی پابندی سے دنیا کو پیغام ملا ہے کہ دنیا دہشتگردی برداشت نہیں کریگی، پاکستان سے عسکریت پسند گروپوں کیخلاف ناقابل واپسی اور مستحکم اقدامات کے خواہاں ہیں، خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان دہشتگرد گروپوں کیخلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ ان مطالبات کیساتھ پاکستان کیلئے تعریفی کلمات ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک مطالبات کی فہرست پیش کرنا نہیں بھولیں، جسے دنیا ڈومور کہتی ہے۔

ایک ہی سانس میں پاکستانی کردار کو سراہنے کے بعد کہا کہ افغانستان کو دہشتگردوں سے پاک پرامن ملک بنانے کیلئے ابھی بہت کام کرنا ہے، افغان امن عمل میں پاکستان سے تعمیری کردار جاری رکھنے کی توقع ہے، پاک امریکہ اچھے تعلقات علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کے ضامن ہیں، گذشتہ برس پاک امریکہ تجارتی حجم بلند ترین سطح 6 ارب ڈالر سے زائد پر پہنچا، پاک بھارت تعلقات کی تعمیر نو کیلئے دو نکات مفاہمت اور انسداد دہشتگردی بہت اہم ہونگے، چین اور ایران سے متصل جنوبی ایشیائی خطہ امریکی قومی سلامتی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جنوبی ایشیاء کو امریکی کمپنیوں کیلئے تجارتی اور سرمایہ کاری شعبوں میں بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہاں یہ قابل غور ہے کہ امریکی مطالبات کی فہرست پیش کیے جانے کیساتھ خطے میں امریکہ کے حریفوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو پاکستان آنیوالے کسی امریکی مندوب یا وفد نے اتنی صراحت سے کبھی نہیں کیا۔ اس دورے میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام، چین اور ایران جیسے ہمسایوں کیساتھ تعلقات بچانا ایک چیلنج ہے، دوسری طرف روس ہے، امید ہے کہ فیصل واوڈا اچھی خوشخبری دینگے، جو مشکل ہے۔

جہاں تک پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور پروگرام کی بات ہے، امریکہ نے مارچ میں کہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے خدشات ہیں، ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا انتظام ہر لحاظ سے عالمی معیار کا ہے، اس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں، بین الاقوامی ادارے اس پر رپورٹ بھی دے چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے پاکستان کے خلاف جو ایکشن لیے ہیں، ہم سے پہلے کسی حکومتی نے نہیں لیے۔ ابھی بھی یہ تناؤ برقرار ہے۔ بھارتی پائلٹ کو جب چھوڑا گیا تو اسرائیلی پائلٹ کی واپسی کا مطالبہ امریکہ نے کیا تھا، ساتھ ہی جنگ کی دھمکی دی تھی، اسوقت پاکستان نے شاہین تھری خاص طور پر اسرائیل کو جواب دینے کے لئے نصب کیا تھا۔ جس کی رینج میں اسرائیل کے تمام شہر بھی آتے ہیں، یہ بھارت کے ہر کونے سے لے کر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے کئی حصوں تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ کا موقف اب بھی وہی ہے، اس پر بات ہوگی، لیکن پاکستان اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتا، جس طرح ایران نے میزائل ٹیکنالوجی پر نہیں کیا۔

امریکی پروٹوکول کے مطابق آخری درجے ورکنگ وزٹ کی سطح کے حالیہ دورے سے پہلے امریکہ نے پلوچستان لبریشن آرمی کو اپنی طرف سے بنائی گئی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اسکی بنیاد یہ بتائی گئی کہ مذکورہ آرمی نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔ اس پابندی اور دہشت گرد قرار دیئے جانے کیساتھ جیش العدل نامی گروہ کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے، حالانکہ بظاہر چین اور ایران کی طرف سے اس بابت امریکہ کو نہیں کہا گیا، چونکہ بلوچستان لبریشن آرمی کا پہلا نشانہ سی پیک ہے اور جیش العدل نامی گروہ ایران کیخلاف کارروائیوں میں ملوث ہے۔ ان پابندیوں کا تعلق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کیساتھ ہے، افغانستان میں امریکی مفادات بھی اس سے جڑے ہیں۔ عمران خان کے دورے سے پہلے امریکی پابندیاں کوئی تحفہ نہیں، بلکہ پاکستان پہلے ہی حقانی نیٹ ورک، جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو محدود کرچکا ہے۔ اس سارے عمل میں چین نے عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا ہے، ایک اہم پہلو ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ کی حوالگی ہے، اگر یہ ممکن ہو جائے تو بھی امریکہ کا کوئی نقصان نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کیسے فائدہ اٹھاتا ہے، یا نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …