پیر , 14 اکتوبر 2019

22 ۔ جولائی کی عمران، ٹرمپ ملاقات

(نصرت جاوید)

میری توقع کے عین مطابق بدھ کی رات وائٹ ہائوس سے ایک پریس ریلیز جاری ہوگئی۔اس کے ذریعے اس امر کی تصدیق کردی گئی کہ 22جولائی کے روز پاکستانی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ملاقات ہوگی۔

کئی دوستوں کا یہ خیال تھا کہ مذکورہ ملاقات نہیں ہوگی۔ ان کی سوچ کو تقویت امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے منگل کے دن پہنچائی۔اس سے جب عمران-ٹرمپ متوقع ملاقات کے ایجنڈے کی بابت پوچھا گیا تو اس نے ’’ملاقات‘‘ کے بارے ہی میں لاعلمی کا اظہار کیا۔وائٹ ہائوس سے رجوع کرنے کے وعدے کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اپنے ریمارکس سے جو ماحول بنایا اس کی روشنی میں وائٹ ہائوس کے لئے ضروری ہوگیا کہ وہ ایک ’’تصیحی‘‘ بیان دے۔

وہ بیان بدھ کی رات آگیا۔اسے ہمارے دوستوں نے غور سے پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی۔اگرچہ یہ بہت ہی مختصرپریس ریلیز ہے۔اسے توجہ سے پڑھ لیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ امریکی صدر پاکستانی وزیر اعظم سے 22جولائی کی ملاقات کے ذریعے کیا حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔اس کالم میں اگرچہ دہرائے چلاجاتا ہوں کہ ہم Post Truthعہد میں زندہ ہیں۔سوشل میڈیا نے ہمیں روایتی صحافت سے ’’آزاد‘‘ کردیا ہے۔ہاتھ میں سمارٹ فون تھامے ہر شہری اب اپنے تئیں صحافی بھی ہے۔وہ دُنیا کو انفرادی خواہشات اور تعصبات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے جب عمران- ٹرمپ ملاقات سے لاعلمی کا اظہار کیا تو عمران خان کی اندھی نفرت میں مبتلا افراد کو پاکستان کے وزیر اعظم کا مذاق اُڑانے کا ایک اور بہانہ مل گیا۔اس سے قبل عمران خان کے پرستاروں نے یہ ’’خبر‘‘ پھیلائی تھی کہ اس سال کے ستمبر میں پاکستانی وزیر اعظم کی روسی صدر سے ملاقات ہوگی۔روسی وزارت خارجہ نے مذکورہ ملاقات کی ماسکو سے ریلیز ہوئے ایک بیان کے ذریعے ’’تردید‘‘ کردی۔

عمران خان کے مخالفین نے دو جمع دو سے چاربنایا۔ یہ فرض کرلیا کہ ٹرمپ سے 22جولائی کو ہونے والی ملاقات کا دعویٰ بھی پیوٹن سے ’’طے شدہ‘‘ ملاقات کی طرح محض فسانہ طرازی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کے Image Buildingکی ایک بچگانہ کوشش جو بالآخر ہمارے ملک کی ’’بے عزتی‘‘ کا سبب ہوئی۔پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا رویہ بھی اس ضمن میں قابل افسوس حد تک غیر پیشہ وارانہ رہا۔

انہیں یاد ہی نہ رہا کہ صحافیوں کو چند روز قبل بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بذات خود 22جولائی کو ہونے والی ملاقات کا تذکرہ کیا تھا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب بھی اس ملاقات کی تصدیق کرتے رہے۔ کابینہ کے حالیہ اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے شفقت محمود صاحب نے یہ اطلاع بھی دی کہ ٹرمپ سے ملاقات کی خاطر واشنگٹن میں ان کا قیام کسی مہنگے ہوٹل میں نہیں ہوگا۔ سادگی اور بچت کے رویے پر ثابت قدم رہتے ہوئے وہ امریکی دارالحکومت میں موجود سفیرِ پاکستان کی سرکاری رہائش میں قیام کریں گے۔

ان تمام واقعات کے تناظر میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان افسر شاہی کی مخصوص رعونت کو بروئے کار لاتے ہوئے بدھ کی صبح یہ حکم صادر فرماتے رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کے دورئہ امریکہ کے بار ے میں ’’قیاس آرائیوں‘‘ سے گریز کیا جائے۔ اس ملاقات کا ’’مناسب موقعہ‘‘ پر اعلان ہوجائے گا۔قیاس آرائیوں سے اجنتاب کا حکم صادر فرمانے سے بہتر تھا کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مدبرانہ خاموشی اختیار کرتے۔

بدھ کی رات وائٹ ہائوس سے جاری ہوئے بیان کا انتظار فرمالیتے۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتا۔ رعونت مگر افسر شاہی کی جبلت کا حصہ ہوتی ہے۔ ’’لفافہ‘‘ ٹھہرائے جانے کے بعد ہم صحافیوں کی اکثریت اس رعونت کو خوئے غلامی سے برداشت کرنے کی عادی ہوچکی ہے۔عملی صحافت سے ریٹائر ہوئے مجھے کئی برس ہوگئے ہیں۔عمران خان صاحب کی ذات یا منصب کی ترجمانی میری ذمہ داری نہیں۔ دو ٹکے کا رپورٹر رہا ہوں۔اس کے باوجود بدھ کی صبح اُٹھتے ہی جو کالم لکھا اس کے آغاز میں پورے اعتماد سے دعویٰ کردیا کہ جمعرات کی صبح میرا کالم چھپنے تک وائٹ ہائوس عمران- ٹرمپ ملاقات کی تصدیق کردے گا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کو مجھ ایسا اعتماد بھی میسر نظر نہیں آیا۔عیاں ہوگیا کہ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی طرح وہ بھی اہم فیصلہ سازی کے ضمن میں انگریزی زبان والی Loopمیں نہیں ہیں۔پاک-امریکہ تعلقات کو انفرادی خواہشات وتعصبات کے برعکس منطقی انداز میں سمجھنے کی خواہش ہو تو بنیادی طورپر ٹرمپ کی شخصیت اور اندازِ کار پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

موجودہ امریکی صدر واشنگٹن کو ’’جوہڑ‘‘ قرار دیتا رہا۔ اس کا اصرار ہے کہ امریکی ریاست کی دائمی اشرافیہ جو وزارتِ خارجہ کے علاوہ سی آئی اے اور پینٹاگون پر مشتمل ہے اس کے ملک کو خواہ مخواہ کے ’’پنگوں‘‘ میں اُلجھائے رکھتی ہے۔وہ آج تک سمجھ نہیں پایا کہ امریکی افواج افغانستان میں کیوں موجود ہیں۔17سال سے افغانستان میں موجودگی کے سبب امریکی افواج پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔سینکڑوں امریکی طالبان کے ہاتھوں مارے گئے۔ہزاروں عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے۔ اس کے باوجود افغانستان ’’مستحکم‘‘ نہیں ہوا۔

ٹرمپ بضد ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کارِ زیاں ہے۔ ایک کاروباری شخص کی جبلت سے وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ افغانستان جیسے ملک میں فقط امریکی ’’رُعب د اب‘‘ برقرار رکھنے کے لئے جو اربوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں وہ امریکہ کو اپنے ملک میں روزگار کے امکانات بڑھانے کے لئے خرچ کرنا چاہئیں۔ اس کی یہ سوچ عام امریکی کو اپنی روزمرہ زندگی کے تناظر میں بہت معقول سنائی دیتی ہے۔

ٹرمپ خود کو دُنیا کا کامیاب ترین Deal Maker شمار کرتا ہے۔اسے گماں ہے کہ وہ جب کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت یا مملکت سے ملے تو اسے اپنی ’’معقول‘‘ باتوں سے ’’دھندے‘‘ کی راہ پر لگاسکتا ہے۔بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ وائٹ ہائوس پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ایک فون کیا تھا۔فون پر ہوئی یہ گفتگو بہت طولانی تھی۔سابقہ وزیر اعظم کے معاونین نے اس کے محض کچھ حصے میڈیا کے ساتھ Shareکئے تھے۔

ٹرمپ کا یہ خیال تھا کہ وہ اور نواز شریف مل کر افغانستان کا کوئی حل ڈھونڈسکتے ہیں۔ نواز شریف مگر پانامہ کی وجہ سے اقتدار ہی سے فارغ ہوگئے۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد ٹرمپ کئی مہینوں تک انتہائی بے ہودہ زبان میں لکھے ٹویٹ کے ذریعے پاکستان کو افغانستان میں امریکی مشکلات کا واحد سبب ٹھہراتا رہا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یکسو ہوکر اس کی ناگوار باتوں کو ٹھنڈے مزاج کے ساتھ نظرانداز کیا۔

بالآخر Backdoorسفارت کاری کا آغاز ہوا۔ اس سفارت کاری کے نتیجے میں زلمے خلیل زاد نمودار ہوا۔ دوحہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے۔ اس ضمن میں محاورے والا ہاتھی نکل چکا ہے مگر اس کی دُم باقی ہے۔ اس ’’دُم‘‘ کو نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کے مابین گفت وشنید ہو۔

تفصیلی گفتگو فقط براہِ راست ملاقات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ٹرمپ نے ہر صورت ستمبر2019 کے پہلے ہفتے میں افغانستان کا حل’’ڈھونڈ‘‘ لینے کا تہیہ کررکھا ہے۔ اسی باعث اس کی خواہش تھی کہ پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ اس کی ملاقات جون کے آخری ہفتے ہی میں طے پا جائے۔ عمران خان صاحب نے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے جولائی کی تاریخ مانگی۔ یہ تاریخ طے ہوگئی۔

خارجہ امور کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے میرا خیال ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے جون کے اواخر ہی میں ملاقات ہوجاتی تو شاید ہمیں IMF سے نسبتاََ ایک بہتر ڈیل حاصل کرنے میں آسانی ہوتی۔شاید مجھ سادہ لوح کو ان ٹھوس حقائق تک رسائی نہیں جنہیں ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان نے جون کے بجائے جولائی کی بات کی۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ 22جولائی کی ملاقات سے خود کو دُنیا کا حتمی Deal Maker تصور کرنے والا ٹرمپ کیا حاصل کرتا ہے۔اس کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم کیا وصول کرپائیں گے ۔بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

نجف تا کربلا، سفر عشق و شعور

توقیر کھرل امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں چند …