پیر , 14 اکتوبر 2019

الاعیان من آل رضا علیہ السلام(2)

(تحریر: سید اسد عباس)

امام رضا علیہ السلام کے ماہ ولادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر

تعارف:
امام رضا علیہ السلام کی نسل پاک دنیا کے گوش و کنار میں آباد ہے، امام رضا علیہ السلام کی شخصیت اور اس کی دنیا کے لیے فیوض و برکات تو اپنی جگہ، ان کی نسل پاک کے افراد کی انسانیت اور عالم اسلام کیلئے خدمات بھی کسی معجزہ سے کم نہیں ہیں۔ اس نسل کے افراد کا معاشرہ کیلئے فیض رساں ہونا سورۃ کوثر میں کیے گئے دعویٰ پروردگار کی حقانیت پر ایک دلیل ہے۔ ہم نے آپکو خیر کثیر عطا کیا۔ نسل کوثر میں سے امام رضا علیہ السلام کے اعقاب میں نمایاں شخصیات میں سے چند کا تعارف درج ذیل مقالہ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر اگرچہ اس موضوع کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر ہے، تاہم اہل علم اور محققین کیلئے تحقیق کے ایک نئے دریچے کی جانب نشاندہی ضرور کرتی ہے۔

گذشتہ سے پیوستہ
ائمہ عسکرین کے اصحاب اور شاگرد
ائمہ عسکرین کا زیادہ وقت دور افتادہ شہر سامرہ کے قید خانوں میں حکومتی کارندوں کی کڑی نگرانی میں گزرا، اس گھٹن والے ماحول اور محدودیت کے باوجود یہ ائمہ قدآور شخصیت اور بافضیلت لوگوں کی تربیت میں کامیاب رہے، شیخ طوسی نے ان لوگوں کی تعداد جو امام علی النقی (ع) سے روایت کرتے تھے، 185 بتائی ہے۔ چند نمایاں افراد کے نام درج ذیل ہیں۔
1۔ حسین بن سعید الاہوازی، 30 کتابوں کے مصنف
2۔ حسن بن سعید 50 کتابوں کے مصنف
3۔ ابو ہاشم جعفر، امام رضا (ع) سے امام زمانہ تک کی خدمت میں رہے۔
4۔ عبدالعظیم بن عبداﷲ بن علی، اکابر محدثین اور علماء میں شمار ہوتے ہیں۔
5۔ ابن السکیت بن یعقوب بن اسحٰق، امام جواد اور امام ہادی کے مخصوص اصحاب میں تھے۔

امام حسن عسکری (ع) کے چند اصحاب:
1۔ ابو علی احمد بن اسحٰق بن عبداﷲ الاشعری، موثق اور معتبر امام کے سفیر اور وکیل۔
2۔ احمد بن محمد بن مطہر، اتنے معتبر کہ امام نے اپنی والدہ کے حج میں ان کو سفر کا نگراں رکھا۔
3۔ ابو سہل، بغداد کے بزرگ ترین علمائے علم کلام میں سے تھے۔ الانوار فی تاریخ الائمہ والا طہار کے مصنف کی حیثیت سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔(۵)

امام مہدی علیہ السلام
آخری حجت خدا جن کی آمد کی نوید رسالت مابؐ نے بھی بیان فرمائی، یعنی مہدی دوراں کا تعلق بھی آل رضا علیہ السلام سے ہی ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حسب ذیل ہے۔ محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی رضا علیہ السلام بن موسیٰ بن جعفر بن باقر بن علی بن حسین شہید کربلا بن علی بن ابی طالب علیھم السلام۔
اللھم عجل فرجہ الشریف
آپ ہی اس دنیا کو ایسے عدل سے پر کر دیں گے، جیسے یہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔ آپ ہی کی اقتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز ادا کریں گے۔ آپ ہی اللہ کا وہ وعدہ ہیں، جن کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: بقیۃ اللہ خیر الکم ان کنتم مومنین۔۔۔(۶) یہی وہ وعدہ الہیٰ ہیں، جس کے بارے میں رب کائنات نے فرمایا: "ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین پر عنایت کریں اور انھیں امام اور وارث قرار دیں۔”(۷) مہدی دوراں نسل امام رضا علیہ السلام کا وہ فرد ہیں، جن کا وعدہ گذشتہ اقوام سے کیا گیا ہے۔ بدھوں کا میتریا، آتش پرستوں کا سوشیانت، ہندؤں کا کالکی اوتار، بائبل والوں کا مسیحا، شمالی امریکہ کے باسیوں کا سچا انسان اور مسلمانوں کا مہدی ایک ہی شخصیت ہے، جس کا تعلق امام رضا علیہ السلام کے اعقاب سے ہے۔

موسیٰ مبرقع بن امام محمد تقی علیہ السلام
آپ امام رضا علیہ السلام کے پوتے ہیں، تقوی سادات کا نسب آپ کے واسطے سے امام محمد تقی علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے۔ آپ کوفہ سے قم تشریف لائے، تاریخ قم میں آپ کی قم آمد کا احوال تفصیل سے درج ہے۔ موسیٰ مبرقع صاحب علم و فضل اور کرامت تھے۔ آپ ہی کی نسبت سے امام محمد تقی علیہ السلام کی اولاد برقعی کہلاتی ہے۔ موسیٰ مبرقع کا شمار اہل حدیث و درایہ میں ہوتا ہے اور آپ راویان حدیث میں سے ہیں۔ شیخ طوسی نے اپنی کتاب تہذیب(۸) میں، شیخ مفید نے اپنی کتاب الاختصاص(۹) میں اور اسی طرح سے ابن شعبہ حرانی نے اپنی مشہور کتاب تحف العقول میں(۱۰) آپ سے حدیث نقل کی ہے۔ اپنے زمانے کے معروف فقیہ یحییٰ بن اکثم نے بھی آپ کو خط لکھا ہے اور آپ سے بعض مسائل کے سلسلہ میں رائے لی ہے۔(۱۱) آپ کا مزار قم میں ہے۔

سید محمد بن امام علی نقی علیہ السلام
آپ امام محمد تقی علیہ السلام کے پوتے اور امام علی رضا علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ابو جعفر سید محمد بیحد بلند اخلاق اور ادب کے حامل تھے اور یہ خوبیاں انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کا یہ ماننا تھا کہ منصب امامت امام علی نقی علیہ السلام کے بعد ان تک پہچے گا۔ الکلانی ان کی شخصیت کے بارے میں اس طرح سے کہتے ہیں: "میں ابو جعفر سید محمد کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت وہ عوائل شباب کی منزل میں تھے۔ میں ان سے زیادہ باوقار، بزرگوار، جلیل القدر اور پاکیزہ نفس کسی کو نہیں پایا۔” سید محمد نے سن 252 ھجری قمری میں خانہ خدا کی زیارت کے لئے سفر کا ارادہ کیا۔ جس وقت آپ بلد نامی قریہ کے پاس پہچے، آپ کی طبیعت خراب ہوگئی اور 29 جمادی الثانیۃ میں آپ نے وفات پائی۔

آپ کی وفات کے بعد امام علی نقی (ع) نے آپ کے لئے مجلس ختم منعقد کی اور بعض بنی ہاشم جن میں حسن بن حسن افسط بھی شامل ہیں، نے نقل کیا ہے:
"سید محمد کی وفات کے روز جب ہم امام علی نقی (ع) کے بیت الشرف میں گئے تو دیکھا کہ صحن خانہ میں فرش بچھا ہوا ہے اور حلقہ بنائے ہوئے بیٹھے ہیں، ہم نے جمعیت کا اندازہ لگایا تو غلاموں اور دوسرے افراد کے علاوہ 150 لوگ آل ابی طالب، بنی ہاشم اور قریش سے موجود اور شریک تھے کہ اچانک امام حسن عسکری (ع) جن کا گریبان اپنے بھائی کی موت کی وجہ سے چاک تھا، وہاں وارد ہوئے اور اپنے والد ماجد کے پاس کھڑے ہوگئے، ہم حضرت کو نہیں پہچانتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد امام علی نقی (ع) نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: "یا بنی احدث للہ شکرا فقد احدث فیک امرا۔” (اے بیٹا اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے یہ امر تمہارے سپرد کیا) امام حسن عسکری (ع) نے گریہ کیا اور فرمایا: "الحمد اللہ رب العالمین، ایاہ نشکر نعمہ علینا و انا للہ و انا الیہ راجعون۔” (تمام حمد عالمین کے پروردگار کے لئے ہے، جو نعمتیں اس نے ہمیں عطا فرمائی ہیں، ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور بیشک اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔) میں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ جواب ملا وہ امام علی نقی (ع) کے بیٹے حسن عسکری ہیں۔ اس وقت ان کا سن 20 سال کے قریب معلوم ہو رہا تھا تو ہم نے سمجھ لیا کہ اپنے والد امام علی نقی (ع) کے بعد وہ ہمارے امام ہوں گے۔(۱۲)

سید محمد صاحب کرامت امام زادے ہیں۔ میرزا حسین نوری نے اپنی کتاب النجم الثاقب میں تحریر کیا ہے: "سید محمد، صاحب کرامات متواتر ہیں۔ حتی وہ اہل سنت کے یہاں بھی شہرت رکھتے ہیں۔ عراق کے لوگ حتی بادیہ نشین ان کے نام کی قسم کھانے سے ڈرتے ہیں۔ اگر ان پر مال کی چوری کا الزام لگایا جائے تو وہ مال تو واپس کر دیتے ہیں لیکن سید محمد کی قسم نہیں کھاتے۔” بعض علماء نے سید محمد کی کرامات کے سلسلہ میں کتابیں تالیف کی ہیں؛ منجملہ ان میں سے ایک فارسی کتاب رسالہ ای در کرامات سید محمد بن علی الہادی کے عنوان سے ہے، جس کے مولف مہدی آل عبد الغفار کشمیری ہیں۔ علامہ سید میرزا ہادی خراسانی، سید حسن آل خوجہ سے جو امامین عسکریین کے روضہ کے خادم تھے، نقل کرتے ہیں: "وہ کہتے ہیں کہ میں ایک روز ابو جعفر سید محمد کے روضہ مبارک کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا کہ متوجہ ہوا کہ ایک عرب شخص جس نے اپنا ایک ہاتھ اپنی گردن کے پیچھے کی طرف کیا ہوا تھا، روضہ میں وارد ہوا تو میں اس کے نزدیک گیا اور اس سے اس کی بیماری کی علت کے بارے میں دریافت کیا۔

اس نے کہا کہ میں گذشتہ سال ایک روز اپنی بہن کے گھر گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے صحن میں ایک گوسفند بندھا ہوا ہے، میں نے چاہا کہ اسے ذبح کرکے کھایا جائے۔ میری بہن ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ یہ گوسفند سید محمد کی نذر ہے۔ میں نے اس کی باتوں پر توجہ نہیں دی اور اسے ذبح کر ڈالا۔ تین دن کے بعد سے میرے ہاتھ میں فالج کے آثار نمایاں ہونے لگے اور دن بہ دن وہ بڑھنے لگا، میں اس کی علت کی طرف متوجہ نہیں تھا، یہاں تک کہ ادھر میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور میں پشمیان ہوں اور شفا کے لئے یہاں سید محمد کے روضہ پر آیا ہوں۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روضہ میں داخل ہوا اور گریہ و زاری کرنے لگا، تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں حرکت پیدا ہوگئی ہے۔ اس نے سجدہ شکر ادا کیا اور اس نے نذر مانی کہ ہر سال ایک گوسفند لا کر سید محمد کی طرف سے اسے ذبح کرے گا۔(۱۳)

جعفر بن امام علی نقی علیہ السلام
آپ جعفر کذاب اور بعد میں جعفر تواب نیز جعفر زکی کے عنوان سے معروف ہوئے۔ نقوی، بخاری سادات کے شجرے آپ کے واسطے سے امام علی نقی علیہ السلام بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام علی رضا علیہ السلام الی الاخر تک پہنچتے ہیں۔

سید محمد علی الاعرج
آپ سید احمد بن موسیٰ مبرقع بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام رضا علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ابو علی سید محمد الاعرج دوسرے شخص ہیں، جو اپنے دادا کے بعد قم تشریف لائے، آپ کے والد عراق میں مدفون ہیں۔ ابو علی الاعرج صاحب عز و شرف تھے۔ آپ تاریخ قم کے مولف کے زمانے میں قم مقیم تھے۔(۱۴)

ابی عبداللہ احمد نقیب قم
ویسے تو اس نسل پاک کا ہر بچہ صاحب فضل و کرامت و سیادت ہے، تاہم بعض افراد کے نام تاریخ نے خصوصی طور پر تذکرہ کیے ہیں، جن میں ایک نام احمد نقیب قم کا بھی ہے، جن کا امام رضا علیہ السلام تک سلسلہ کچھ یوں ہے۔ احمد بن محمد بن احمد بن موسیٰ بن محمد بن علی رضا علیہ السلام احمد نقیب قم، شہر قم میں سادات کے نقیب تھے اور حکومت کی جانب سے اموال کو سادات میں تقسیم کرنے کے ذمہ دار تھے۔ آپ صاحب شرف و کرامت تھے، آپ کے انتقال پر قم میں سوگ منایا گیا۔ آپ اپنے والد اور پڑداد کے ہمراہ قم میں دفن ہیں۔(۱۵)

ابو الفتح عبیداللہ ذوالمناقب
آپ موسیٰ بن احمد بن محمد بن احمد بن موسیٰ بن امام محمد تقی بن امام علی رضا علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ فقہا میں سے تھے، کتاب حلال و حرام، کتاب الادیان و الملل کے علاوہ انساب پر ایک کتاب انساب آل رسول و اولاد بتول تحریر کی تحریر کی(۱۶)
ماخوذ ازhttp://alhassanain.org/urdu/?com=content&id=177 ۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۶۔ القرآن :ھود 86
۷۔ القرآن : القصص 5
۸۔ طوسی، تهذیب الکلام، ۱۴۰۶ق، ج۹، ص۳۵۵.
۹۔ مفید، الإختصاص، ۱۴۱۳ق، ص ۹۱
۱۰۔ مفید، الإختصاص، ۱۴۱۳ق، ص ۹۱
۱۱۔ طوسی، تهذیب الکلام، ۱۴۰۶ق، ج۹، ص۳۵۵.
۱۲۔ مجلسی، بحار الأنوار، ج‏۵۰، ص ۲۴۶
۱۳ احسان مقدس، ص۳۰۲.
۱۴۔ حسن اشعری، تاریخ قم، ص ۷۲۰ ،ناشر کتابخانہ آیت اللہ شھاب الدین مرعشی،ط قم ۱۲۸۵ش
۱۵۔ ایضاً
۱۶۔ منیۃ الراغبین ص ۲۰۸،۲۰۹، فہرست اسمائے علمائے شیعہ مصنفھم ص۱۱۱،۱۱۲

یہ بھی دیکھیں

نجف تا کربلا، سفر عشق و شعور

توقیر کھرل امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں چند …