اتوار , 21 جولائی 2019

لیبیا کی خانہ جنگی: یہ میزائل جنرل ہفتر تک کیسے پہنچے؟

فرانس نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے باغی لیڈر، جنرل خلیفہ ہفتر کے ہاتھوں استعمال ہونے والے ‘جیویلین میزائل’ فرانسیسی فوج کے ہیں اور مبینہ طور پر ناقص ہونے کی وجہ سے انھیں تباہ کیا جانا تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے یہ خبر دی تھی کہ جنرل ہفتر جو اس وقت لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کے کیمپ سے اقوام متحدہ کے دستوں نے چار ‘جیویلین میزائل’ جون کے مہینے میں برآمد کیے ہیں۔جنرل ہفتر کی طرابلس پر چڑھائی کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی اس تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پناہ گزینوں کے کیمپ پر بمباری کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم فرانس کی وزارتِ دفاع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ میزائل فرانس نے کسی دوسرے کو فروخت کیے تھے۔ اگر فرانس نے یہ میزائل فروخت کیے ہیں تو اقوامِ متحدہ کی لیبیا پر عائد پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔

فرانس کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی کے تیار کردہ ‘ناقابلِ استعمال’ جیویلین میزائل کو کبھی بھی کسی اور کو یا کسی گروہ سپلائی نہیں کیا جانا تھا اور ان کو تلف کیا جانا تھا۔فرانس نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ہتھیار جو کے ٹینک کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، فرانس کے پاس تھے۔وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ‘یہ ہتھیار لیبیا میں انٹیلیجینس اور انسدادِ دہشت گردی کرنے والے مشنز کی حفاظت کے لیے تھے۔’

ترجمان کے نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ میزائل ’خراب تھے اور ناقابلِ استعمال’ تھے اور انھیں عارضی طور پر وہاں ایک کیمپ میں تلف کیے جانے سے پہلے رکھا گیا تھا۔فرانس کئی بار اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ جنرل ہفتر کو مسلح کر رہا ہے تاہم فرانس جنرل ہفتر کو سفارتی سطح پر سہولتیں مہیا کرتا ہے۔

فرانسیسی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق ‘فرانس لیبیا میں، طرابلس کے نواحی علاقوں میں اور ملک کے مشرقی حصے سمیت افریقہ کے اس پورے علاقے میں اُن تمام طاقتوں کی حمایت رکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔”اس اسلحہ اور گولہ بارود کو لیبیا میں کسی گروہ کو فروخت کرنے، استعمال کے لیے دینے یا ان کو سپلائی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔’

لیبیا میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟
سنہ 2011 میں کرنل قذافی کی حکومت کے الٹائے جانے کے بعد سے لیبیا میں طویل خانہ جنگی جاری ہے۔اس وقت کسی بھی گروہ کو ملک پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے اور یہ ملک شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ طاقت کے کئی مراکز ہیں کچھ فوجی نوعیت کے ہیں اور کچھ سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ان میں سے دو اہم ہیں، ایک اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ وزیر اعظم فیض مصطایٰ السراج کی حکومت اور دوسرا جنرل ہفتر کی لیبیائی قومی فوج۔

جنرل ہفتر لیبیا کی سیاست میں چار دہائیوں سے بہت فعال رہے ہیں اور سنہ اسی تک وہ کرنل قذافی کے ساتھی رہے۔ اس کے بعد ان کے درمیان تنازعے کی وجہ سے وہ امریکہ جلاوطن ہوگئے تھے۔

کون کس کا حامی ہے؟
دونوں دھڑوں کے بین الاقوامی سطح پر حامی موجود ہیں۔ جنرل ہفتر کے ساتھ مصر اور متحدہ عرب امارات کافی عرصے سے ہیں۔ لیکن اب ان کے حامیوں میں روس اور سعودی عرب کا بھی شمار ہورہا ہے۔ایک موقعے پر جب یہ نظر آرہا تھا کہ جنرل ہفتر بڑی آسانی کے ساتھ طرابلس پر قبضہ کرنے والے ہیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انھیں فون کرکے مبارک باد دی تھی۔ لیکن اس کے بعد ان دونوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری ہو گئی ہے۔

دوسرے دھڑے، یعنی وزیر اعظم فیض کی حکومت کے حامیوں میں ترکی اور قطر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اکثر مغربی طاقتیں اسی حکومت کی حمایت کرتی ہیں۔طرابلس پر جنرل ہفتر کی چڑھائی کے بعد اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپین یونین فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس سے نے تکینیکی طور پر مصالحت کرانے کا کردار اپنایا ہے۔ تاہم شک کیا جاتا ہے کہ فراس جنرل ہفتر کی حمایت کرتا ہے۔

فرانسیسی صدر امانیوئل میکراں وہ پہلے مغربی رہنما تھے جنھوں نے جنرل خلیفہ ہفتر کو امن مذاکرات کے لیے یورپ آنے کی دعوت دی تھی۔ فرانس نے جنرل ہفتر کی حمایت میں فروری میں فضائی بمباری بھی کی تھی۔فرانسیسی فضائیہ نے کینیڈا کے ان دستوں پر بمباری کی تھی جو وزیر اعظم کی حکومت کے دفاع میں ملک کے جنوبی حصے میں تعینات تھیں۔

مبصرین اور تجزیہ نگاران کہتے ہیں کہ فرانس کی جنرل ہفتر کی حمایت کا تعلق اُن عسکریت پسندوں سے لڑنا ہے جو اس پورے خطے میں سے فرانس کے لیے اس کے تیل کے مفادات کی وجہ سے خطرہ بن سکتے ہیں۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

دور حاضر کے نئے صدام

سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و …