جمعہ , 19 جولائی 2019

ایران پابندیوں کے سائے میں امریکہ سے مذاکرات نہیں کرےگا؛ کاظم غریب آبادی

ویانا(مانیٹرنگ ڈیسک)ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے موجودہ صورتحال میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے کل ویانا میں جرمنی کے ویکلی جریدے ڈی زایٹ Die Zeit سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے ممکنہ فوجی تقابل پر کہا کہ تہران جنگ نہیں چاہتا تاہم امریکہ کو ایران کی طاقت کا علم ہے اور اسے معلوم ہے کہ ایران کے پاس کس قسم کے ہتھیار اور آلات ہیں۔

کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ایران کی پابندیوں اور زیادہ خواہی کی وجہ سے ایران کی جانب سے تجارت اور تعاون بہت دشوار ہو گیا ہے اور اس قسم کی صورتحال ایران کیلئے قبال قبول نہیں ہے۔

اس سے قبل ارنا سے گفتگو کرتے ہوئےعالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں امریکہ اور اس کے 3 اتحادیوں اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ دیگر تمام ممالک نےجوہری معاہدے اور اس کے تحفظ اور اسی طرح ھمہ جانبہ دلچسپی کے امور کی حمایت کی۔

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے تمام مندوبین نے جوہری معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر انخلاء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی جوہری معاہدے پر عمل در آمد سے متعلق بحث کیلئے مناسب فورم نہیں ہےاس لئے کہ اس قسم کے موضوعات عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے زمرے میں نہیں آتے اس کیلئے جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن میں غور و خوض ہونا چاہئیے۔

کاظم غریب آبادی نے بدھ کے روز ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں ایران سے متعلق ہونے والے اجلاس میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنر کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی، دہری اور تضادات سے بھر پور ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے ایرانی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے گورنرز بورڈ سے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے بدھ کے روز امریکی درخواست کے رد عمل میں کہاتھا کہ واشنگٹن کا یہ اقدام، ایک مضحکہ خیز کہانی ہے کیونکہ انہوں نے اس عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اس کے اس اقدام کے لئے کوئی ہنگامی نشست منعقد نہیں کی گئی تھی۔

صدر روحانی نےایرانی جوہری وعدوں کے کچھ حصے پر عمل درآمد کو روکنے پر یورپی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو ایرانی فیصلوں پر تشویش کے بجائے امریکہ کے اقدامات پر فکرمند ہونا چاہئیے کیونکہ اس نے جوہری معاہدے اور تمام عالمی وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نےامریکا کیساتھ بات چیت کا امکان مسترد کردیا

اقوام متحدہ میں ایرانی ترجمان علی رضا میر یوسفی کا کہنا ہے کہ  امریکا کیساتھ …