پیر , 19 اگست 2019

چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی مؤخر ہوسکتی ہے؟

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کیلئے حکومت اور متحدہ اپوزیشن نے اپنی اپنی حکمت عملی کیلئے مشاورتی عمل تیز کر دیا ہے، وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین سینیٹ کے درمیان ملاقات کے بعد صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے (ن) لیگی سینیٹرز کا اجلاس 15 جولائی کو طلب کرلیا ہے جس کے اگلے روز اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس متوقع ہے۔ (ن) لیگی سینیٹرز کی کڑی نگرانی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ 2018 میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں راجہ ظفرالحق کو متوقع ووٹ نہ ملنے والی گیم دوبارہ ممکن نہ رہے۔

رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کی تبدیلی کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد اور اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرا رکھی ہے، ریکوزیشن اجلاس بلانے اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے آئینی قانونی پوزیشن کچھ اس طرح ہے ریکوزیشن اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاسکتی ہے یا نہیں، اس بارے قانون خاموش ہے، سینیٹ کے رولز 243 کے تحت جہاں کوئی آئینی نکتہ، سوال وضاحت طلب ہو تو اس کی تشریح چیئرمین سینیٹ خود کریں گے، ان کی رولنگ، فیصلہ حتمی ہو گا جسے کسی آئینی قانونی پلیٹ فارم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا، یہ آئینی رائے یہ بھی ہے کہ ریکوزیشن اجلاس بلانے کیلئے ایجنڈا دینا ضروری ہوتا ہے جس میں آئٹم نمبر کا تعین کیا جاتا ہے۔

ریکوزیشن پر اجلاس ملک میں کسی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر بلایا جاتا ہے یا مفادعامہ کا کوئی معاملہ ہو جس سے حکومت صرف نظر کر رہی ہو، اپوزیشن ریکوزیشن پر اجلاس بلاسکتی ہے تاہم چیئرمین سینیٹ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، صدر مملکت کی عدم موجودگی میں چیئرمین سینیٹ سربراہ مملکت ہوتا ہے، آئینی عہدہ پر فائز شخصیت کو ہٹانے کیلئے ریگولر اجلاس بلایا جاتا ہے جس کیلئے وزارت قانون کی طرف سے صدر مملکت کو سمری بھجوائی جاتی ہے، صدر مملکت کے احکامات پر بلائے گئے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد ایوان میں لائی جاسکتی ہے اس آئینی، قانونی نکتہ پر حکومت اور اپوزیشن ماہرین سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، اپوزیشن نے اجلاس بلانے کیساتھ ایجنڈا نہیں دیا تو اس بنیاد پر چیئرمین سینیٹ دوبارہ ریکوزیشن جمع کرانے کی ہدایت کرسکتا ہے۔

ایک پہلو سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کی رولنگ کی شکل میں موجود ہے کہ چیئرمین سینیٹ اپوزیشن کے ایجنڈے کو بلڈوز کر سکتا ہے یعنی چیئرمین کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپوزیشن ایجنڈے سے صرف نظر کر دے، دوسری صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی درخواست پر صدرمملکت سینیٹ اجلاس کب بلاتے ہیں، سینیٹ کے اجلاس سے دوسرے اجلاس میں 120 دنوں کے وقفہ کی گنجائش موجود ہے، سینیٹ اجلاس 24 جون کو ختم ہوا تھا، 120 دنوں کے وقفہ کے بعد سینیٹ اجلاس کے انعقاد کی تاریخ 14 اکتوبر بنتی ہے، اس طرح حکومت چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا معاملہ تقریباً 4 ماہ تک مؤخر کرسکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو لندن میں انڈے؛انڈے برسانے والا شخص فرار

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر ریلوے شیخ رشید احمدکو لندن میں انڈے مارے گئے،ان پر انڈے برسانے …