جمعرات , 12 دسمبر 2019

ایرانی آئل ٹینکر کے اسٹاف کی ضمانت پر رہائی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)جبل الطارق کے علاقے کے حکام نے کل روکے جانے والے ایرانی آئیل ٹینکر کے اسٹاف کو ضمانت پر رہا کر دیا۔فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی میرین نے جمعرات 4 جولائی کو ایرانی آئیل ٹینکرکوامریکہ کے کہنے پرجبل الطارق میں روکا تھا۔ برطانوی میرین کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف برطانیہ کے سفیر کو 4 جولائی کو ایران کی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور برطانیہ کے اس غیر قانونی اقدام پر احتجاج کیا گیا اور امریکی دباو پر ایرانی آئیل ٹینکر کو روکے جانے کی مذمت کی گئی اور فوری طور پرایرانی آئیل ٹینکر اور عملے کے افراد کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے لبنان کے المیادین ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی آئیل ٹینکر کو روک لینے کا برطانوی اقدام سمندری ڈکیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکام کو چاہئے کہ وہ کھل کر اور سرکاری طور پر اس بات کا اب اعلان کردیں کہ وہ امریکا کے غلام ہیں اور امریکا کا ہر حکم ماننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکیوں نے برطانیہ کی جانب سے دوستی کا حق ادا کئے جانے کے عوض واشنگٹن میں برطانوی سفیر، برطانوی وزیراعظم اور برطانوی حکومت کی توہین کی۔

واضح رہے کہ برطانوی بحریہ نے 4 جولائی کو جبل الطارق کے علاقے میں ایک ایرانی آئیل ٹینکر کو روک لیا – برطانوی حکومت نے اس کے لئے یہ بہانہ کیا کہ ایران نے شام کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے – ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے لندن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد سے جلد ایرانی آئل ٹینکر کو چھوڑ دے اور اس کو اپنا راستہ طے کرنے دے۔

برطانوی حکومت نے ایرانی آئل ٹینکر کو ایک ایسے وقت روکا ہے جب اس بحری جہاز نے بحری سفر کے کسی بھی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی آئل ٹینکر کو صرف اور صرف سیاسی بنیادوں پر روکا گیا ہے اور اس پورے واقعے میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ امریکا نے اپنے داخلی قوانین کو سرحدوں سے باہر بھی نافذ کرنے کے لئے برطانیہ کو حکم دیا کہ وہ ایرانی آئیل ٹینکرکو جبل الطارق میں روک لے۔

اسپین کے وزیرخارجہ جوزف بورل نے اسی وقت جب ایرانی آئل ٹینکر کوروکا گیا تھا یہ واضح کردیا تھا کہ برطانوی میرین نے ایرانی آئیل ٹینکرکو امریکا کہنے پر روکا ہے۔ یہ آئل ٹینکر بدستور برطانوی بحریہ کے قبضے میں ہے ۔

برطانوی حکومت کا یہ سیاسی کھیل ثابت کرتا ہے کہ برطانیہ جواب یورپی یونین سے الگ ہونے والا ہے پہلے سے بھی زیادہ امریکا سے وابستہ ہوگیا ہے۔ سرحدوں امریکی پابندیوں کے قوانین کا نفاذ جس کی یورپی یونین مخالفت کرتی رہی ہے اب اس کو برطانوی حکومت یقینی بنارہی ہے اور غیر قانونی امریکی پابندیوں کے قانون کو مسلط کرنے میں واشنگٹن کا ساتھ دے رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

افغان امن عمل میں اغیار کی مداخلت قابل قبول نہیں : جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ نے افغانستان کے ٹیلی ویژن چینل ایک سے گفتگو کرتے ہوئے …