جمعرات , 22 اگست 2019

وفاق کی ڈکشنری میں گلگت بلتستان کی تلاش

(تحریر: لیاقت علی انجم)

معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک گلگت بلتستان کے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ملتی، وہاں کے عوام میں موجود احساس محرومی ختم نہیں ہوگا، جی بی کا مسئلہ جذبات اور احساسات کا ہے، وہاں کے لوگ پڑھے لکھے ہیں، معاشی صورتحال بھی ملک کے کئی دیگر صوبوں کی نسبت بہتر ہے، لیکن عوام کا مسئلہ معاشی نہیں سیاسی اور نمائندگی کا ہے۔ جی بی کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر نمائندگی دینا ملک کے مفاد میں ہے، گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن اور دلیر ہیں، وہاں ملک کے آئین میں شامل ہونے کی تحریک چل رہی ہے، وہاں کے لوگ پرامن ہیں اور وہ ڈوگرہ راج سے خود آزادی حاصل کرکے ملک میں شامل ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کشمیریوں کو اپنے ایوانوں میں نمائندگی دی ہے، بالکل اسی طرح گلگت بلتستان کو بھی مسئلہ کشمیر کو متاثر کئے بغیر قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ جی بی کے مسائل کے حل کی کنجی قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی ہے، کیونکہ جب تک ان اداروں میں نمائندگی نہیں ہوگی، مرکز میں آنے والی کوئی حکومت وہاں دلچسپی نہیں لے گی، سیاست ایک بے رحم کھیل ہے، سیاستدانوں کو گلگت بلتستان سے کوئی ووٹ نہیں ملتا، اس لئے اس خطے کے لوگوں کو سیاسی حکومتوں سے ہمیشہ شکوہ رہا ہے۔ قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی کے بعد مرکزی سیاستدانوں کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ ووٹ کے لالچ میں اس علاقے میں دلچسپی لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری اداروں میں گلگت بلتستان کی بھرپور نمائندگی ہے اور یہ نمائندگی کرگل کی جنگ کے بعد مزید موثر ہوئی ہے، اس جنگ کے بعد این ایل آئی جو پہلے نیم فوج تھی، مکمل طور پر رجمنٹ بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گلگت بلتستان میں ڈیوٹی کی ہے، وہاں کے لوگ محبت کرنے والے ہیں، جب سی پیک اور دیگر میگا منصوبوں کا جی بی سے آغاز ہوا تو دشمن طاقتوں نے اس خطے میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور اس بات پر وہاں کے عوام کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں میرے کئی دوست ہیں، وہ مجھے مسیجز میں وہاں کی زمینوں کو اونے پونے خریدنے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، گلگت بلتستان کی زمینوں کے تحفظ کیلئے میں نے آرمی چیف سے بات کی ہے اور وہاں کے فورس کمانڈر کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا ہے، حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کی زمینوں کو اونے پونے خریدنے والوں سے بچائیں۔ جی بی میں پانی کے بڑے ذخائر ہیں، اسے استعمال میں لاکر وہاں کے لوگوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہمارے دیس کا المیہ ہے کہ جب تک شورش نہیں ہوتی، ہم کسی کی نہیں سنتے، گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی یہی صورتحال ہے، قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی دینے میں دیر کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا فریق ضرور ہے، لیکن جی بی کے حقوق متنازعہ نہیں ہوسکتے۔

تقریباً ڈیڑھ سال قبل اسی امجد شعیب نے ایک اور ٹی وی پروگرام میں گلگت بلتستان میں "را” کے ایجنٹوں کے حوالے سے ایک متنازعہ گفتگو کی تھی، جس کے بعد پورے گلگت بلتستان میں شور اٹھا اور ان کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بعد میں امجد شعیب نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے معافی بھی مانگی، جس کے بعد جا کر ان کی جان خلاصی ہوئی۔ امجد شعیب پاک فوج میں تھری سٹار جنرل رہ چکے ہیں، وہ کئی اہم حقائق اور رموز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ تاریخی اور زمینی حقائق سامنے ہونے اور صورتحال الارمنگ ہونے کے باؤجود ایسا لگتا ہے کہ وفاق کی ڈکشنری میں اس وقت گلگت بلتستان سرے سے ہی موجود نہیں۔ تحریک انصاف کی تبدیلی والی حکومت کو ایک سال ہونے کو ہے، اس دورانیے میں کہیں پر کسی بھی فورم پر جی بی کو ایک آدھ مرتبہ بھی جگہ نہیں مل سکی، حالانکہ پی ٹی آئی کے انتخابی منشور میں واضح طور پر گلگت بلتستان کے احساس محرومی کا ادراک کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے منشور میں گلگت بلتستان کا ذکر کچھ اس طرح ہے۔

”پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے عوام کی پاکستان کیساتھ وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جو کہ مثالی اور قربانیوں کی تاریخ سے عبارت ہے، ہم گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی و معاشی حقوق کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ گلگت بلتستان کو گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے، جن میں معاشی ترقی کا فقدان، راہداری منصوبے میں محدود شرکت، مرکزیت کی حامل نوکر شاہی اور پہلے ہی سے قدرے بے اختیار قانون ساز اسمبلی جیسے مسائل شامل ہیں، یہ مسائل گلگت بلتستان کے عوام کیلئے ان کی قدرتی اہلیت و قابلیت اور وسائل کے مناسب استعمال کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہم قانون ساز اسمبلی کو خود مختاری دے کر گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیار بنائیں گے۔ ہم سیاحت، معدنیات اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے ذریعے خطے میں بڑی معاشی سرگرمی کی راہ ہموار کرینگے۔ ہم سیاحت راہداری منصوبے میں مقامی آبادی کی شمولیت کیساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو منصوبے سے مستفید ہونے کے ٹھوس مواقع بھی فراہم کرینگے۔”

منشور پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے، پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال ہونے کو ہے، اس دوران کسی ایک وزیر نے بھی جی بی کا دورہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، تاہم صرف صدر مملکت ضرور جاتے ہیں، وہ بھی چھٹیاں منانے کیلئے۔ حد تو یہ ہے کہ اس وقت جی بی میں تحریک انصاف کا کوئی اسٹرکچر ہی موجود نہیں، پارٹی کے سابق صدر راجہ جلال حسین مقپون کے گورنر بننے کے بعد پارٹی کے لئے نئے صدر ہی کا تقرر نہ ہوسکا اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف جی بی کے اندر کئی اور تحریک انصاف وجود میں آچکی ہیں اور وہ سب کے سب ایک دوسرے کیخلاف مورچہ زن ہیں، دوسری طرف گورنر کیخلاف بھی پارٹی میں بغاوت شروع ہوچکی ہے۔ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کو ابھی مشکل سے ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے، اس کے باؤجود عمران خان کی توجہ سرے سے ہی موجود نہیں، نہ ہی پارٹی کے حوالے سے اور نہ ہی خطے کے حوالے سے۔ امجد شعیب کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ جب تک شورش نہ ہو، تب تک توجہ نہیں دی جاتی، یہاں وفاق کو کسی شورش کا انتظار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …