پیر , 9 دسمبر 2019

ریاست اور مافیاز کا ٹکراؤ

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

عجیب لوگ ہیں، ہم ریاست کے بجائے جتھوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ حکومت کسی پارٹی کی بھی ہو، مافیاز ہمیشہ حکومتوں کو نکیل ڈالے رکھتے ہیں۔ ہمیں تسلیم کر لینا چاہیئے کہ مختلف مافیاز کو سیاسی بازار میں سرگرم کرنے میں حکمران طبقات کا ہی کردار رہا یا یوں کہہ لیتے ہیں کہ حکمران طبقہ ہی مافیاز کا پشتی بان ہے۔ ایک مثال بالکل تازہ ہے، ناصر بٹ نامی شخص کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے مجھے قتل کے پانچ چھ مقدمات سے بچایا ہے، وہ میرے لیے بہت اہم ہیں، میں ان کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں۔ کوئی بھی سماج جب اپنے تجزیاتی مراحل سے گزرتا ہے، یعنی کوئی قلم کار جب کسی سماج کے رحجانات پر قلم اٹھاتا ہے تو اس سماج کے ماضی سے ہی اپنے تجزیئے کی بنیادیں اٹھاتا ہے۔ ہمارے ملک میں عدلیہ کا کردار ہمیشہ متنازعہ رہا۔ ہر مارشل لا کی توثیق اسی عدلیہ نے کی۔ بھٹو کی پھانسی عدلیہ کے دامن پر بد نما داغ ہے۔ اس چیز کو باقاعدہ رواج دیا گیا، سیاسی مخالفین پر جھوٹے پرچے درج کروائے جاتے ہیں۔ کبھی بھینس چوری کا، تو کبھی ٹائلوں کی سمگلنگ کا، کبھی کلاشنکوف لہرانے کا، تو کبھی کسی اور بہانے سے۔ یہ طریقہ واردات اس قدر مقبول ہوا کہ گراس روٹ لیول تک اس طریقہ واردات نے پذیرائی حاصل کی۔ نچلی عدالتوں میں آج کل پیشہ ور جھوٹے گواہ کیس کی نوعیت کے مطابق اپنی قیمت وصول کرکے گواہی دیتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ریاست نے اپنی رٹ کو بحال کرنے میں دیر کی اور قانون نے اپنی عمل داری قائم کرنے کے بجائے شخصیات کو اہمیت دی۔ آج بھی تھانوں میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے، اسی جماعت کے مقامی عہدیداران تھانے کچہری کے معاملات دیکھتے اور مال بٹورتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کے ایم اپی ایز اور ایم این ایز اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں اپنے وفادار ایس ایج اوز تعینات کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس حوالے سے نون لیگ سے تھوڑی سے نالائق ثابت ہوئی ہے، مگر وہ بھی تھانے کچہری کی سیاست پر انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ زرداری نے نئی مفاہمتی سیاست کو رواج دیا، مگر نون لیگ کا طریقہ ہائے واردات پاکستانی سیاست، سماج اور صحافت کے ہر طالبعلم کو معلوم ہے۔ جب کوئی طالب علم اس ساری سیاسی و عدالتی تاریخ کو دیکھتا ہے تو درد کے اس شعر کو ضرور یاد کرتا ہے کہ

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

نیا سکینڈل پاکستانی سیاسی و عدالتی تاریخ کو ایک فیصلہ کن اور نئے موڑ پر لے آیا ہے۔ جہاں معزز جج صاحب نے ہوش ربا انکشافات کیے ہیں۔ اپنے حلفیہ بیان میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے معزول جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے انہیں 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی پیشکش کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جمع کرائے گئے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے مزید کہا کہ فروری 2018ء میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 میں بطور جج تعینات ہونے کے بعد مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے رابطہ کیا اور ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں موجود بااثر شخصیت کو خصوصی اور ذاتی طور پر میرا نام تجویز کرنے کی وجہ سے مجھے احتساب عدالت نمبر 2 میں جج تعینات کیا گیا، اس حوالے سے ناصر جنجوعہ نے وہاں موجود ایک اور شخص سے کہا تھا کہ میں نے آپ کو چند ہفتے پہلے کہا تھا نا کہ محمد ارشد ملک احتساب عدالت میں جج تعینات ہوگا۔ بیان حلفی میں کہا گیا کہ اگست 2018ء میں فلیگ شپ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس کو احتساب عدالت نمبر 2 منتقل کیا گیا تھا اور ان ریفرنسز کے ٹرائل جاری تھے۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ مجھے مختلف مواقع پر مذکورہ ریفرنسز میں نواز شریف اور دیگر ملزمان کی رہائی کے لیے ان کے حامیوں نے پیشکش کی اور دھمکیاں بھی دیں۔

حلفیہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس مجھے دینے کے لیے 10 کروڑ روپے کے برابر نقد یورو فوری طور پر موجود ہیں، جن میں سے 2 کروڑ روپے اس وقت ان کی گاڑی میں تھے۔ بیان حلفی میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ناصر جنجوعہ نے مجھے اس بنیاد پر ورغلانے کی مزید کوشش کی کہ میں ایک تنخواہ دار شخص ہوں اور یہ میرے لیے اپنے مستقبل کو مالی طور پر محفوظ بنانے کا سنہری موقع تھا، تاہم میں نے رشوت کی پیش کش قبول نہیں کی اور میرٹ پر ڈٹا رہا۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ فروری 2019ء میں خرم بٹ اور ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران ناصر بٹ نے پوچھا کہ کیا ناصر جنجوعہ نے آپ کو "ملتان والی ویڈیو” دکھا دی، جس پر میں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ کس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ ناصر بٹ نے کہا کہ آپ کو چند دن میں ویڈیو دکھا دی جائے گی، بعد ازاں میاں طارق اور ان کے بیٹے نے مجھ سے ملاقات کی، جن سے میری جان پہچان اس وقت سے تھی، جب میں 2000ء سے 2003ء تک ملتان میں بطور ایڈیشنل اور سیشن جج تعینات تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میاں طارق نے مجھے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی غیر اخلاقی ویڈیو دکھائی اور کہا کہ یہ تم ہو، جب تم ملتان میں تھے، جو میرے لیے ایک دھچکا تھا، جس کے بعد ناصر جنجوعہ اور ناصر بٹ نے مجھے بلیک میل کرنا اور مجھ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ ناصر جنجوعہ نے مجھے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ تو ہوچکا ہے، اب صرف نواز شریف کو مطمئن کرنے کے لیے میں آڈیو پیغام ریکارڈ کرواؤں کہ میں نے یہ سب بااثر حلقوں کی جانب سے شدید دباؤ میں آکر کیا، جبکہ ان کے خلاف شواہد موجود نہیں تھے۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ میں نے شاید 6 اپریل 2019ء کو نواز شریف سے ناصر بٹ کے ہمراہ ملاقات کی تھی، جہاں ناصر بٹ نے گفتگو کا آغاز اس دعوے سے کیا کہ فیصلہ فوج اور عدلیہ کی جانب سے دباؤ کی وجہ سے دیا گیا تھا، تاہم جب میں نے بات کی تو یہ وضاحت دینے کی کوشش کی کہ العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ میرٹ پر دیا گیا اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف میرے جواب سے ناخوش ہوئے اور ملاقات ختم ہوگئی، تاہم جاتی امرا سے واپسی پر ناصر بٹ نے مجھے اپنی بات پر پورا نہ اترنے کا الزام عائد کیا اور مجھے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیل میں معاونت کرنے کا کہا۔

معزول جج ارشد ملک نے ایک طویل حلفی بیان جمع کرایا ہے، مگر اس کے چیدہ نکات کالم کا حصہ بنائے، تاکہ قارئین جان سکیں کہ ہماری ریاست اور ریاستی ادارے کس طرح مافیاز کے سامنے نرم روی اختیار کیے رہے، جس کا نتیجہ آج ہم بھگت چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جج صاحب کو بہت پہلے یہ سارا معاملہ اعلیٰ عدلیہ کے سامنے لانا چاہیئے تھا، لیکن اس کے باوجود اس مرحلے پر جبکہ مریم بی بی نے ناصر بٹ نامی کریمنل ریکارڈ کے حامل شخص کے ساتھ ان کی ویڈیو آڈیو جاری کی، جج ارشد ملک صاحب کا حلفیہ بیان مزید کئی پرتیں کھولے گا اور ہمیں یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ جسٹس ملک قیوم سے لے کر جسٹس ملک ارشد تک، کیسے کیسے اور کس طرح نون لیگ والے یا دیگر سیاسی کردار اپنے نمائندوں کے ذریعے دبائو ڈالتے رہے اور انہیں بلیک میل کرتے رہے۔

وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ "پاکستانی مافیا رشوت کی پیشکش کر رہا ہے جبکہ اداروں کے ساتھ بلیک میلنگ اور انہیں دھمکیاں دے رہا ہے۔” کیا ایسی صورت میں نئی قانون سازی کی طرف پیش قدمی کی جائے گی؟ کیا اس قانونی سقم کو دور کیا جائے گا، جس کے باعث مافیاز اپنے منفی مفادات کی خاظر فائدہ اٹھاتے ہیں؟ کیا اب ناصر بٹ نامی کریمنل ریکارڈ کے حامل شخص کا دوبارہ ٹرائل ہوگا؟ اور اس امر کی بھی تحقیق ہوگی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کیوں ایک قاتل کو ذاتی دلچسپی لے کر بچاتے رہے؟ مجھے بلاول بھٹو کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ معزول جج ارشد ملک کو اپنی صفائی کا پورا پورا موقع دیا جائے۔ یہ مگر معاملے کا ایک قانونی اور انسانی ہمدردی کا پہلو ہے۔ معزول جج صاحب کے حلفیہ بیان پر آئینی ماہرین مسلسل رائے زنی کر رہے ہیں، میرا سوال مگر وہی ہے کہ سابق وزیراعظم نے اپنے نمائندوں کے ذریعے ایک معزز جج کو جاتی امرا کیوں طلب کیا؟ ان آڈیوز ویڈیوز کا ایک مقصد فوج کو بدنام کرنا بھی ہے، لیکن شاید تیر پلٹ کر جاتی امرا کی طرف رخ کرچکا ہے۔ ممکن ہے کوئی نئی ایسی ویڈیو آجائے، جو سارے معاملے سے توجہ ہٹا دے اور ہم اپنے سماج کے اخلاقی زوال اور ریاست کی کمزوری پر نوحہ گری کرتے رہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …