جمعرات , 22 اگست 2019

13 جولائی 1931ء، روداد چمن

(تحریر: جے اے رضوی)

13 جولائی 1931ء کا دن کشمیر کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرہ استبداد کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ تحریک آزادی کشمیر میں 13 جولائی 1931ء کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 22 کشمیری اذان کی تکمیل کرتے کرتے جام شہادت نوش کرگئے تھے۔ بلاشبہ تاریخ میں شعائر اسلام کے ساتھ محبت کا یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ 13 جولائی کے دن سرینگر جیل کے سامنے لاکھوں کا مجمع تھا، اتنے میں اذان کا وقت ہوگیا، ایک نوجوان اذان کہنے کے لئے دیوار پر چڑھا، ابھی اس نے اذان کا پہلا ہی کلمہ ’’اللہ اکبر‘‘ ادا کیا تھا کہ فوجی نے بغیر کسی انتباہ کے نشانہ باندھ کر اس کے سینے پر گولی ماری۔ جوان گولی کھا کر نیچے گر پڑا، تڑپنے لگا اور جام شہادت نوش کر گیا۔ پھر اسی دیوار پر ایک دوسرا نوجوان اچھل کر کھڑا ہوا اور پہلے نے جہاں سے اذان چھوڑی تھی، اس سے آگے شروع کر دی۔ فوجی نے اسے بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا اور وہ بھی شہید ہوگیا۔ چنانچہ یکے بعد دیگرے 22 لوگ شہید ہوئے، لیکن برستی گولیوں اور میدان کارزار میں بھی اذان مکمل کی۔ اذان کی تکمیل کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں میں 19 سال کے بچے سے لے کر 75 سال کے بزرگ کشمیری شامل تھے۔

13 جولائی کی بازگشت ریاست جموں و کشمیر کے علاوہ پورے ہندوستان میں سنائی دینے لگی۔ تاریخ کے مطابق یہ پہلا موقعہ تھا کہ جب ہندوستان بھر کے مسلمان اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، چنانچہ 25 جولائی 1931ء کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کانفرنس طلب کی گئی، جس میں حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال (رہ)، خواجہ سلیم اللہ، نواب آف ڈھاکہ، مولانا ابوالکلام آزاد، خواجہ حسن نظامی، نواب سر ذوالفقار علی خان، میاں نظام الدین، مولانا شوکت علی خان، مولانا عبدالمجید سالک، سید حبیب شاہ، مولانا اسماعیل غزنوی، مرزا بشیر الدین، اے آر ساغر، مولانا عبدالرحیم درد اور ان جیسے بیسیوں زعماء نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور 14 اگست 1931ء کو اظہار یکجہتی کشمیر کا دن منایا گیا۔ اگرچہ کشمیر کمیٹی زیادہ عرصہ نہ چل سکی، مگر اس کے اثرات بہت دیرپا ثابت ہوئے اور پورے ہندوستان کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔

13 جولائی کے شہداء کی قربانیوں نے پہلی دفعہ مہاراجہ کو مسلمانوں کے سامنے جھکنے اور دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے پہلے ریاست جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر تھی۔ 13 جولائی کی قربانیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو انسان تسلیم کیا گیا اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔ امر واقع یہ ہے کہ ڈوگرہ راج کے ظلم کا سیاہ دور 13 جولائی کے شہداء کی قربانیوں کی بدولت غروب ہوا اور کشمیر کا ایک خطہ انہی شہداء کی قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا ہے۔ اگرچہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا سفر ابھی ادھورا ہے، ڈوگروں کے بعد بھارتی استعمار مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوا، یہ دن آج بھی کشمیری قوم کے لئے سنگ میل اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریز اور ہندو مورخین کے مطابق 13 جولائی کو جتنے بھی شہید ہوئے، سب کے سینوں پر گولیاں لگی تھیں۔ کشمیری قوم آج بھی یہ دن بڑے جذبے، جوش، عقیدت و احترام سے مناتی ہے اور اس دن شہداء کے مشن کی تکمیل اور حق خودارادیت کے حصول کا عہد کیا جاتا ہے۔

آج اس ساںحہ کو پورے اٹھاسی برس گزر گئے ہیں۔ آج ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی مزاحمتی جماعتوں اور دینی تنظیموں نے 13 جولائی 1931ء کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری ملت کے لئے یہ قربانیاں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جموں و کشمیر تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے 13 جولائی کے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ انصاف اور آزادی کے لئے جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد بہت پرانی ہے جو ہنوز جاری ہے۔ اشرف صحرائی نے کہا کہ ان شہداء تاریخ اسلام اور تاریخ کشمیر کے ہیرو ہیں، جنہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کو شخصی حکومت کے ظالموں اور جابروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شخصی راج سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ساری قوم ان شہداء کی مرہون منت ہے، جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے اپنا گرم گرم خون بہایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ جدوجہد 13 جولائی کے شہداء کی تاریخ کا تسلسل ہے۔ اس دوران جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ کشمیری قوم ان شہداء کی ہمیشہ مرہون منت رہے گی، جن کی قربانیوں کے طفیل اس قوم کو ڈوگرہ راج کے انسانیت سوز مظالم سے نجات ملی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …