جمعہ , 6 دسمبر 2019

برطانیہ کی شام کو تیل نہ دینے کی شرط پر ایرانی جہاز چھوڑنے کی پیشکش

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے کہا ہے کہ اگر لندن کو یقین دہانی کرائی جائے کہ جنگ زدہ ملک شام کو تیل فراہم نہیں کیا جائے گا تو زیر تحویل ایرانی تیل بردار جہاز کو چھوڑ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ برطانوی رائل میرینز نے ایرانی تیل بردار جہاز کو ممکنہ طور پر یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کو توڑنے کی پاداش میں 4 جولائی کو تحویل میں لے لیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ کا اقدام ’مداخلت‘ ہے۔جس پر برطانیہ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جہاز نے برطانوی تیل بردار جہاز کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق تہران کے ساتھ ’مثبت‘ مذاکرات کے بعد برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا کہ ’ایران کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں رکھتا جو حوصلہ افزا بات ہے‘۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہم نے ایران کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ تیل کس جگہ پہنچایا جائے گا یہ ہمارے لیے باعث تشویش ہے‘۔جیریمی ہنٹ نے کہا کہ اگر ہمیں یقین دلایا جائے کہ تیل شام نہیں پہنچایا جائے گا تو برطانیہ یقیناً ایرانی جہاز کو چھوڑنے میں تعاون کرے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور ’کشیدگی کے خواہاں‘ نہیں ہیں۔خیال رہے کہ برطانیہ کی رائل میرینز نے ‘جبل الطارق’ کے نزدیک تیل بردار ایرانی جہاز اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

جس کے بعد ایران نے دھمکی دی تھی کہ وہ بھی بدلے میں برطانوی تیل بردار جہاز کو اپنی تحویل میں لے گا۔علاوہ ازیں تہران نے واضح کیا تھا کہ شام کو تیل کی فراہمی کا کوئی ارادہ نہیں۔ایران نے برطانیہ سے فوری طور پر زیر تحویل جہاز چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا تھا کہ ’اس طرح کا کھیل خطرناک ہوسکتا ہے‘۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوجی آپریشن کی تیاریوں میں ہے: پوٹین روسی صدر ولادیمیر پوٹین

روسی صدر ولادیمیر پوٹین   نے کہا ہےکہ   امریکہ اب خلا سے  عسکری  آپریشن کرنے کی  …