پیر , 9 دسمبر 2019

سعودی عرب رات میں ابہا ایرپورٹ بند رکھنے پر مجبور

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر یمن کے مسلسل ڈرون حملوں کے بعد ریاض کی حکومت نے رات کے وقت ابہا ہوائی اڈے کو بند رکھے جانے کا حکم دے دیا۔ سعودی حکومت نے اسی کے ساتھ اسٹاک ہوم جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الحدیدہ کے رہائشی علاقوں پر وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

سعودی عرب کی آل سعود خاندان سے متعلق لیک ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ یمنی عوام پر سعودی اتحاد کی جاری جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے کئے جانے والے جوابی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کہ جس کے تحت ابہا ایرپورٹ کو بارہا نشانہ بنایا گیا، سعودی حکام نے ابہا ایرپورٹ کو رات میں بند رکھے جانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

مجتہد نامی سوشل میڈیا کے ایک صارف نے ٹویٹ کیا ہے کہ سعودی فضائیہ کا اینٹی ایرکرافٹ یونٹ جب یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے جوابی حملوں کو روکنے میں ناکام ہو گیا تو سرکولر جاری کر دیا گیا کہ جنوبی سعودی عرب کے ابہا ایرپورٹ کو رات بارہ بجے سے صبح چھے بجے تک بند رکھا جائے۔

یمنی فوج نے جب ایرپورٹ کے بدلے ایرپورٹ کے فارمولے کو پیش کیا اور اس پر تاکید کی اور سعودی اتحاد نے نظرانداز کرتے ہوئے جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا تو سعودی اتحاد کی فوجی جارحیت بند کرانے اور دشمن کو مجبور کرنے کے لئے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے دس سے زائد بار جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں منجملہ ابہا۔ نجران اور جیزان کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

اسی کے ساتھ یمن کے المسیرہ ٹی وی نے خبر دی ہے کہ مغربی یمن کے صوبے الحدیدہ کے رہائشی علاقوں پر سعودی اتحاد نے ایک بار پھر مارٹر گولوں سے حملہ کیا ہے۔ یمن کے المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے فوجیوں نے صوبے الحدیدہ کے علاقوں الزعفران اور اور الشیخ کے رہائشی علاقوں کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔ ابھی ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ جارح سعودی اتحاد نے جمعرات کے دن بھی فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے الحدیدہ کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔

تیرہ دسمبر دو ہزار اٹھارہ کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ہونے والے مذاکرات میں فریقین نے صوبہ الحدیدہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن سعودی اتحاد نے آج تک اس معاہدے کی پابندی کی ہے۔

چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ یمن کے خاتمے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر متعدد کوشش کی جا چکی ہیں لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی رخنہ اندازی اور خلاف ورزی کے نتیجے میں ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، امریکا اور کئی دیگر ملکوں کی حمایت سے چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ کو یمن پر وحشیانہ جارحیت کا آغاز کیا تھا۔

اس عرصے میں یمن کے دسیوں ہزار بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ یمن کی بنیادی شہری تنصیبات پوری طرح تباہ ہو چکی ہیں۔ جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں کی وجہ سے دسیوں لاکھ یمنی شہری بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ یمنی عوام کو دواؤں اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی بنا پر لاکھوں یمنی بچے موت کے خطروں سے دوچار ہیں۔سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن کے خلاف تمام تر وحشیانہ جارحیت کے باوجود اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران وعمان نے کی معاشی تعلقات کے فروغ پر تاکید

  ایران کے دورے پر آئے ہوئے علی بن مسعود السنیدی اتوار کے روزمحمد جواد …