جمعرات , 22 اگست 2019

ایران کے وزیر خارجہ کے دورہ نیویارک پر امریکی تشویش

اسلامی جمہوریہ ایران  کے وزیر خارجہ کے دورے نیویارک کے موقع پر ان کی آمد و رفت کے لئے امریکی حکومت  کی جانب سے دباؤ ڈالنے والے ہتھکنڈے بعض میڈیا کی شہ سرخی بن گئی ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی حکام جواد ظریف کی سفارتکاری کی طاقت، ان کے انٹرویو اور تھنک ٹینک میں ان کی موجودگی سے خوفزدہ ہیں.

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے اعتراف کیا ہے کہ وہ امریکی اور عالمی رائے عامہ پر جوادظریف کے دورے سے پڑنے والے اثرات سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

پمپیو نے کہا کہ محمد جواد ظریف کواقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر اور نیویارک میں ایرانی سفیر کی رہائشگاہ تک محدود کیا جائیگا۔

پمپیو نے ظریف کی امریکی میڈیا اور تھنک ٹینک کے ساتھ بات چیت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ امریکہ کے دورے سے اس موقع کو امریکہ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں.

امریکہ اور اقوام متحدہ کے مابین غیرملکی سفارتکاروں کے دورہ نیویارک میں سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اتوار کے روز اقوام متحدہ کی سماجی اور اقتصادی کونسل کی سالانہ نشست میں شرکت کرنے کیلئے نیویارک پہنچ گئے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران یک طرفہ طور پر ایٹمی معاہدے کی پابندی کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا، صدر حسن روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت حسن روحانی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی …