پیر , 9 دسمبر 2019

ریکوڈک پر لگنے والے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کو تقریباً 6 ارب ڈالر جرمانے کا فیصلہ سنایا ہے جس پر پاکستان میں حسبِ روایت ایک کمیشن بنا دیا گیا ہے۔ یہ کمیشن ناکامی کی وجوہات اور ذمے داروں کے تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی چھان بین بھی کرے گا کہ کس وجہ سے ملک کو اتنا بڑا نقصان ہوا۔

بلوچستان کے ضلع دالبندین میں چاغی کے قریب ایک بے آباد اور صحرائی علاقے کا نام ریکوڈک ہے۔ بلوچی زبان میں ریکوڈک کا مطلب ریت کی پہاڑی ہے۔ یہ علاقہ ٹیتھیان میگمیٹک آرک کا حصہ ہے، جو ماہرینِ ارضیات کے مطابق افریقی، عرب، انڈین اور یوریشین ارضیاتی پلیٹوں کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔ یہ میگمیٹک آرک رومانیہ سے ترکی، ایران، پاکستان اور افغانستان سے ہوتی ہوئی پاپوا نیو گنی تک پھیلی ہوئی ہے۔

یہاں اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں اور گرمی انتہا کی ہوتی ہے۔ یہاں دُور دُور تک آبادی ہے اور نہ پینے کا پانی۔ میگمیٹک آرک کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں معدنیات کی موجودگی کا یقین تھا۔

نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو معین قریشی کو بیرونِ ملک سے بلا کر وزیرِاعظم بنایا گیا اور نصیر مینگل بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ مقرر ہوئے۔ اس نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ ایک آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کو دے دیا۔

بلوچستان حکومت نے بی ایچ پی کے ساتھ اشتراک کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ریکوڈک سے ملنے والی معدنیات میں 75 فیصد بی ایچ پی کا حصہ طے پایا، جبکہ 25 فیصد حصہ بلوچستان حکومت کو ملنا تھا اور اسے اس منصوبے میں کچھ بھی سرمایہ کاری نہیں کرنا تھی۔

اس منصوبے کو اس وقت کے نگرانوں نے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کا شاہکار قرار دیا اور ان نگرانوں کو مسلط کرنے والے بھی اس منصوبے پر معترض نہ ہوئے۔

اگلے 10 برسوں میں اس منصوبے کی ملکیت بدلتی چلی گئی۔ 2000ء میں بی ایچ پی نے ایک اور فرم مائن کور کو اس منصوبے میں شامل کرلیا۔ جس کے بعد اس منصوبے کو آسٹریلیا میں ہی بنائی گئی ایک اور کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی ٹی سی) کو منتقل کردیا گیا۔ بعد میں ٹی ٹی سی پاکستان میں رجسٹرڈ کروائی گئی۔ 2006ء میں کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگستا نے ٹیتھیان خرید لی۔ ریکوڈک میں ایک سائٹ ای ایل فائیو میں تلاش کا لائسنس 2002ء میں 3 سال کے لیے دیا گیا اور 2011ء تک 2 بار اس میں توسیع کروائی گئی۔

نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہونے کے بعد نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی کو دے دیا۔

2006ء میں بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگسٹا نے چارج لیا تو تلاش کے کچھ ہی عرصے بعد زیرِ زمین اربوں روپے کے ذخائر کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ 2009ء میں بلوچستان میں نئی صوبائی حکومت بنی۔ اگست 2010ء میں ٹی ٹی سی پاکستان نے فزیبیلٹی اسٹڈی جمع کروائی اور فروری 2011ء میں کان کنی کی درخواست دی گئی۔ بس اس کے ساتھ ہی اس منصوبے میں کرپشن کی کہانیوں اور معدنی ذخائر کی لوٹ مار کے اسکینڈلز نے سر اٹھانا شروع کردیے۔ پہلے سے دائر درخواستوں کے علاوہ بلوچستان کے معدنی ذخائر کی حفاظت کے نئے دعویدار بھی عدالتوں میں پہنچے ۔

مئی 2011ء میں سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ ٹی ٹی سی پاکستان کی جانب سے دی گئی کان کنی کی درخواست پر ‘منصفانہ اور شفاف’ کارروائی جلد از جلد کی جائے۔ عدالتی مداخلت کے بعد ڈری ہوئی صوبائی حکومت نے جہاں ٹی ٹی سی کا لائسنس منسوخ کردیا وہیں ٹی ٹی سی کو دی گئی سائٹس کے گرد و نواح میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے 11 نئے لائسنس جاری کردیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 11 لائسنس میں سے 5 لائسنس پاکستان اور چین میں بننے والی نئی نئی کمپنیوں کو دے دیے گئے جن کا اس سے پہلے سونے اور تانبے کی تلاش کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ یہ کمپنیاں سپریم کورٹ کے مئی میں دیے گے فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر قائم ہوئیں اور لائسنس لینے میں کامیاب رہیں۔

سپریم کورٹ میں درخواستیں دینے والے اور ان کے وکیل بڑے فخر کے ساتھ کہتے رہے کہ ہم معدنیات کا 75 فیصد ان غیر ملکیوں کو کیسے لے جانے دیں۔ اربوں ڈالر کے ذخائر میں کم از کم 50 فیصد تو ملک کو ملنا چاہئے۔

ذخائر کی تلاش کا کام مکمل ہوتے ہی غیر ملکی کمپنیوں کو بھگانے کا کام پُراسرار طریقے سے انجام پایا اور چین کی ناتجربہ کار کمپنیوں کو میدان میں اتار دیا گیا۔ ان درخواستوں میں ایک درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا دعویٰ ہے کہ 1993ء میں ہونے والا معاہدہ کرپشن سے لتھڑا ہوا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے افسر کا نام لیتے ہوئے وکیل موصوف نے دعویٰ کیا کہ اس افسر کو آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر 7 سال سزا بھی ہوئی۔

وکیل موصوف کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن اس افسر کو ریکوڈک کیس سے جڑے کسی الزام میں سزا نہیں ہوئی تھی۔ اگر وکیل موصوف کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو اس کرپشن کی بنیاد معین قریشی اینڈ کمپنی نے رکھی اور انہیں مسلط کرنے والے بھی برابر کے شریک تسلیم کیے جانے چاہئیں۔

ذخائر کی تلاش کا کام مکمل ہوتے ہی غیر ملکی کمپنیوں کو بھگانے کا کام پُراسرار طریقے سے انجام پایا

ریکوڈک منصوبے کو متنازع بنانے میں قوم پرست بھی برابر کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے وسائل لٹنے کا شور مچایا اور کچھ قوتوں کو اس شور شرابے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ ریکوڈک کو ایک اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دیا جانے لگا اور منتخب حکومتوں کو اس منصوبے میں صرف انگوٹھا لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسٹریٹیجک اثاثہ قرار پانے کے بعد ریکوڈک کو اسٹرٹیجک اتحادی چین کے حوالے کیے جانے کی تیاری ہوئی اور 5 کمپنیاں آگے بڑھائی گئیں۔ چین تانبے کا سب سے بڑا صارف ہے اور وہ ترقی پذیر ملکوں میں کان کنی کے بدلے انہیں انفرااسٹرکچر منصوبے دیتا ہے۔ چینی حکومت کی ملکیتی کمپنی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کور (ایم سی سی) پہلے ہی سینڈک منصوبے پر کام کر رہی تھی اور دسمبر 2010ء میں اس وقت کے چین کے وزیرِاعظم وین جیا باؤ کے دورہ اسلام آباد کے دوران ریکوڈک منصوبے پر کام کی پیشکش بھی ہوئی۔

ایم سی سی کی پیشکش ٹی سی سی سے ملتی جلتی تھی لیکن اس میں صرف میٹھی گولی یہ تھی کہ رائلٹی 2 فیصد سے زیادہ دی جائے گی۔ایم سی سی اس وقت سامنے آئی جب ٹی سی سی ابتدائی کام مکمل کرکے فزیبلٹی رپورٹ جمع کرا چکی تھی اور تلاش کے کام پر ٹی سی سی 220 ملین ڈالر خرچ کرچکی تھی۔

ٹی سی سی ریکوڈک منصوبے پر 3.3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے والی تھی جو پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری کا ایک ریکارڈ بن سکتا تھا۔ ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس نہ دیے جانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ انہیں بالکل سمجھ نہیں آئی کہ درخواست مسترد کرنے کی وجہ آخر کیا بنی۔ بلوچستان مائننگ ریگولیشن میں کئی ایشوز کا احاطہ ہی نہیں کیا گیا۔

بلوچستان کی معدنیات پر ڈاکہ ڈالنے کا شور مچانے والے کہتے ہیں کہ صرف 25 فیصد حکومت کو ملنا تھا، لیکن یہ مکمل درست نہیں، کیونکہ بلوچستان اور مرکزی حکومت نے اس منصوبے پر ٹیکسز کی کوئی چھوٹ نہیں دی تھی اور اس کے علاوہ 2 فیصد رائلٹی بھی دی جانی تھی۔ اس اعتبار سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو تقریباً نصف حصہ ملنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ٹی سی سی نے ذخائر کی مالیت کم بتائی۔ اس حوالے سے ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ ذخائر کی مالیت اس وقت سونے کی قیمت کے اعتبار سے بتائی گئی جو 60 ارب ڈالر تھی۔ ذخائر کی مالیت کا اندزاہ اس طرح ہی لگایا جاتا ہے۔

ریکوڈک منصوبے پر آئی سی ایس آئی ڈی کے فیصلے سے پہلے ہی پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مثالی نہیں رہا۔ سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں بدامنی، پاکستان کے قوانین میں ابہام اور عدالتی تنازعات کا ڈر ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرمایہ کار کمپنیوں کے تحفظات مزید بڑھیں گے۔

وزیرِاعظم عمران خان کا قائم کردہ کمیشن ہماری ملکی تاریخ میں بنائے گئے دیگر کمیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کو روک کر فائدہ اٹھانے والے کاریگر کبھی سامنے نہیں آسکیں گے کیونکہ اس قسم کے منصوبوں پر اثر انداز ہونے والے طاقتور ہاتھوں کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا۔ اگر معین قریشی اور نصیر مینگل کی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو ان کے سرپرستوں پر بھی انگلی اٹھے گی۔

سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں بدامنی، پاکستان کے قوانین میں ابہام اور عدالتی تنازعات کا ڈر ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرمایہ کار کمپنیوں کے تحفظات مزید بڑھیں گے۔

معین قریشی اور نصیر مینگل کو ذمہ دار ٹھہرانے اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے کردار بھی کسی نہ کسی کے کارندے تھے۔ عدالتی فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر کمپنیاں بنا کر لائسنس لینے اور دینے والے بھی اس جگ ہنسائی کے ذمہ دار ہیں۔ جگ ہنسائی سے بھی بڑھ کر ملک کا اعتماد ختم اور ساکھ مجروح ہوئی ہے، جسے بحال کرنے میں برسوں لگیں گے۔ پہلے سے زخم کھائی معیشت اس نقصان کی متحمل نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …