پیر , 9 دسمبر 2019

امریکہ اب پاکستان کا کاندھا استعمال نہیں کرسکے گا۔؟؟

تحریر: تصور حسین شہزاد

امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ "بہتر تعلقات” کیلئے کوشاں ہے اور عمران خان کے دورہ امریکہ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی پاک امریکہ تعلقات کشیدہ ہوگئے اور ٹرمپ کے مسلمانوں کے حوالے سے خیالات نے پاکستان سمیت بہت سے مسلمان ملکوں کو اپنی پالیسیوں پر ازسر نو غور کرنے پر مجبور کر دیا۔ ٹرمپ آتے ہی جہاں امریکی مسلمانوں پر برسے، وہیں انہوں نے کچھ مسلمان ملکوں پر بھی امریکہ داخلے پر پابندیاں لگائیں، جبکہ پاکستان کے حوالے سے یکم جنوری 2018ء کو اپنی ایک ٹویٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ "گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔ (ٹرمپ پاکستان کو زر خرید غلام سمجھتا تھا) اس ٹویٹ اور اسی طرح کے خیالات نے پاکستان کو امریکہ سے دُور کر دیا۔

دوبارہ ٹرمپ نے دسمبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے ایک خط میں درخواست کی تھی کہ پاکستان افغانستان امن عمل میں اپنا کردار ادا کرے۔ خط میں ٹرمپ کی جانب سے یہ بھی اعتراف کیا گیا تھا کہ افغان جنگ کی پاکستان اور امریکہ نے بڑی قیمت چکائی ہے۔ اسی طرح مارچ 2019ء میں وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جلد پاکستان کی قیادت سے ملیں گے اور یہ کہ اِس وقت امریکہ کے پاکستان سے تعلقات کافی اچھے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کے مزاج میں بدلاو آنے میں دیر نہیں لگتی، وہ صبح کچھ، دوپہر کو کچھ اور شام کو کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔ اب ایسے لگ رہا ہے کہ امریکہ کو دوبارہ پاکستان کی ضرورت پڑ گئی ہے۔

امریکی فوج کے سربراہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اچھے دفاعی تعلقات چاہتے ہیں۔ امریکی فوجی سربراہ کے منہ سے ایسی بات نکلنا کوئی عام معاملہ نہیں، بلکہ اس کی تہہ میں بہت سے سوالات ہیں، جن کے جوابات بھی واضح ہیں۔ امریکہ اپنی دم توڑتی معیشت کو سہارا دینے کیلئے دیگر ممالک سے اپنا بوری بستر گول کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت امریکہ چاہتا ہے کہ پاکسان افغانستان سے نکلنے میں اس کی مدد کرے۔ جہاں تک عمران خان کے دورہ امریکہ کی بات ہے تو راقم کو اس میں کوئی مثبت پیشرفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، کیونکہ ٹرمپ اور عمران دونوں کی سوچ ایک جیسی ہے۔ دونوں ہی، دوسرے لفظوں میں "اکھڑ مزاج” ہیں۔ اس حوالے سے ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر، اس دورے میں دونوں جانب انا ہوگی، اس سے "دو اور لو” جیسا کوئی معاہدہ ہوا تو یہ کامیابی ہوگی، کیونکہ  صورتحال یہ ہے کہ عمران خان اب کچھ لیں گے تو ہی امریکہ کے "کام ” آئیں گے۔

ماضی میں ہم نے امریکہ سے لیا کم اور بدنام زیادہ ہوئے ہیں، بلکہ امریکہ کیساتھ اس معاہدے میں ہمیں خسارہ ہی خسارہ ہوا ہے۔ ہم نے 71 ہزار جانوں کی قربانی دی، املاک الگ تباہ ہوئیں، پاکستان کے اندر خانہ جنگی کی سی کیفیت رہی۔ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد نے اس حوالے سے دہشتگردی کی لہر کے سامنے بند باندھا اور کچھ بہتری آئی، فوج اگر میدانِ عمل میں نہ آتی تو اس وقت پاکستان کی حالت یمن جیسی ہوچکی ہوتی۔ اب امریکہ ایک بار پھر دو محاذ کیلئے پاکستان کا کاندھا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف امریکہ کو ایران کا معاملہ درپیش ہے تو دوسری جانب افغانستان سے انخلاء چاہتا ہے۔ جہاں تک افغانستان کی بات ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان دونوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم میں قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ افغان جنگ سے باہر نکل آئیں گے۔ اب ٹرمپ عمران ملاقات کا بنیادی ایجنڈا یہی ہوگا۔ جس میں افغانستان سے امریکی انخلاء کی بات کی جائے گی اور امریکی انخلاء کے بعد افغانستان کیسا ہوگا، یہاں کس کی حکومت ہوگی، اس حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی۔

یقینی طور پر اس ملاقات میں افغانستان میں بھارتی مداخلت پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ اور دہلی کے کابل میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی بھی بات کی جائے گی، جبکہ ایران کے معاملے پر بھی پاکستان سے مدد کی درخواست کی جائے گی۔ ٹرمپ جتنا مرضی "کھلندڑا” ہو، امریکی ادارے اور کانگریس کسی طور یہ نہیں چاہیں گے کہ ایران کیساتھ جنگ ہو، کیونکہ ایران امریکہ جنگ میں سارے کا سارا خسارہ امریکہ کا ہوگا اور امریکہ اب کسی طور یہ گھاٹے کا سودا نہیں کرے گا۔ ایرانی شہید پرور قوم ہیں، انہیں موت سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، نہ اقتصادی پابندیاں ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں۔ امام خمیںی نے کہا کہ اگر امریکہ اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے تو یاد رکھے کہ ہم ’’فرزند رمضان‘‘ ہیں، یعنی ہم روزے رکھ لیں گے، مگر اقتصادی پابندیوں کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ ایرانی اپنے شہداء سے محبت کرتے ہیں، موت ان کیلئے محبوبہ ہے۔ اس کے برعکس واشگٹن میں تابوب اٹھانے کا حوصلہ ہے نہ دیکھنے کا۔ امریکہ میں 10 تابوت اکٹھے چلے گئے تو زلزلہ آجائے اور امریکی عوام وائٹ ہاوس کو جلا کر بلیک ہاوس بنا دیں گے۔

اس لئے امریکی حکام کسی طور یہ نہیں چاہیں گے کہ دنیا بھر سے امریکیوں کی لاشیں واشنگٹن پہنچیں، کیونکہ ایران کیساتھ ہونیوالی جنگ صرف ایرانی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ پوری دنیا میں امریکی مفادات کو داو پر لگا دے گی۔ دوسرا ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، ہماری سرحد ملتی ہے، جبکہ امریکہ سات سمندر پار ہم سے بہت دُور ہے۔ ایران ایک مسلمان ملک بھی ہے، جس وجہ سے پاکستان کو اگر امریکہ اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا، تو پاکستان ایران کا ہی انتخاب کرے گا۔ اس حوالے سے امریکہ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ اب پاکستان استعمال نہیں ہوگا۔ یہ نیا پاکستان ہے، جہاں پالیسیاں بھی نئی ہیں اور ہماری ترجیح بھی امت مسلمہ ہے۔ پاکستان کسی طور بھی ایران کیخلاف کسی جارحیت کا حصہ نہیں بنے گا۔ ٹرمپ عمران ملاقات میں پاکستان کی طرف سے یہ واضح موقف دیا جائے گا۔ پاکستان امریکہ کے دو بنیادی مطالبوں میں سے ایک ہی تسلیم کرے گا اور وہ اسے افغانستان سے انخلاء میں مدد دینے کا مطالبہ ہے جبکہ ایران کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے مکمل جواب ہی ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …