پیر , 16 دسمبر 2019

شہبازشریف ، حمزہ اور سلمان کے اثاثہ جات منجمد کرنے کیلئے نیب کے مختلف اداروں کو خطوط

اسلام آباد .قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کے صدر،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ، انکے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے اثاثہ جات عارضی طور پر منجمد کرنے کے بارے میں مختلف اداروں کے سربراہان کو خطوط لکھ دیئے ہیں،یہ اثاثے فروخت کئے جاسکیں گے نہ انہیں کسی اور کے نام پر ٹرانسفر کیا جاسکے گا۔روزنامہ 92نیوز کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق نیب کی جانب سے اثاثہ جات کو عارضی طور پر منجمد کرنے اور کسی کو بھی منتقل نہ کرنے بارے خط لکھے گئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور انکے خاندان کی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں تین جائیدادیں ہیں جنہیں عارضی طور پر منجمد کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر ہری پور کو خط لکھا گیاہے ، متعلقہ محکمے کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اگر کسی بھی طرح ان پراپرٹیز کو ٹرانسفر کیا گیا تو متعلقہ افسروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائیگی۔نیب لاہور نے ڈی جی ایکسائز کو 2 لینڈ کروزرز گاڑیاں جن کے رجسٹڑیشن نمبر LEF-5100اورLEB 1957 ہیں بھی عارضی طور پر منجمد کرنے کیلئے خط لکھ دیاہے ۔اسی طرح نیب لاہور نے ڈی جی گلیات کو ڈونگا گلی میں واقع گیسٹ ہائوس کو عارضی طور پر منجمد کرنے کا کہا ہے ۔اسی طرح چیئرمین ایس ای سی پی کو بھی شہبازشریف خاندان کی14کمپنیوں کے اثاثہ جات عارضی طور پر منجمد کرنے اورمنتقل نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے ، ان کمپنیوں میں رمضان شوگر ملز، یورپین ایشین ٹریڈنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، مدینہ ٹریڈنگ، شریف فیڈ ملز، شریف پولٹری فارمز، شریف ڈیری فارمز سمیت 14 کمپنیاں شامل ہیں۔نیب لاہور کی جانب سے ڈی جی ایل ڈی اے کو لاہور جوہر ٹائون میں واقع 9 پراپرٹیز کو عارضی طور پر منجمد کرنے کا کہا گیاہے ۔ ڈیفنس اور ماڈل ٹائون سوسائٹی کو بھی شریف خاندان کے دو ،دو پلاٹس منجمد کرنے کے بارے میں مراسلہ جاری کیا گیا ہے جبکہ نیب لاہور نے جوڈیشل ایمپلائز ہائوسنگ سوسائٹی میں شہباز شریف اور خاندان کے چار پلاٹوں کو بھی عارضی طور پر منجمد کرنے کے بارے میں مراسلہ جاری کیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہبازشریف اور انکے خاندان کیخلاف نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں یہ اقدام کیا گیاہے ۔ شہبازشریف اور انکا خاندان اپنے خلاف کیسز میں اپنی جائیداد اور ذرائع آمدن سے متعلق نیب کو مطمئن نہیں کرسکا۔ جب تک ان جائیداوں کو خریدنے کی منی ٹریل جمع نہیں کرائی جاتی تب تک تمام مذکورہ اثاثے منجمد رہیں گے ۔ شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ 15جولائی کو کیا گیا تھا۔ نیب لاہور کے خطوط کے مطابق ماڈل ٹاؤن لاہور میں شہباز شریف کی 2 رہائش گاہیں 87 ایچ اور 96 ایچ انکی اہلیہ نصرت شہباز کے نام ہیں۔ڈونگا گلی میں 9 کنال کا مکان بھی نصرت شہباز کے نام ہے ۔ ہری پور میں شہبازشریف کا ایک پلاٹ، کاٹیج اور وِلا انکی دوسری بیوی تہمینہ درانی کے نام ہے جبکہ ڈیفنس لاہور کے فیز 5 میں شہباز شریف کے 2 مکان بھی تہمینہ درانی کے نام ہیں۔ جوہر ٹاؤن لاہور میں 9 پلاٹ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے نام ہیں۔ اسلام آباد،راولپنڈی(نامہ نگار، 92 نیوزرپورٹ، آن لائن ) قومی احتساب بیورو (نیب)کے ایگزیکٹو بورڈ نے 2انویسٹی گیشنزاور8 انکوائریز کی منظوری دیدی جبکہ عدم ثبوت کی بنیاد پر 8 انکوائریز کو بند کر نے کی منظوری بھی دیدی۔گزشتہ روز جاری نیب اعلامیہ کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں ہوا جس میں ڈپٹی چیئرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل نیب ،ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسروں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہا کہ نیب "احتساب سب کیلئے ” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے ۔میگاکرپشن کے مقدما ت کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے ۔ ا جلاس میں 2انویسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی جن میں آفیسرز /آفیشلز آف بورڈ آف ریونیو،منظور قادر ،سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگرکیخلاف انویسٹی گیشن کی منظوری شامل ہے ۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 8 انکوائریوں کی منظوری دی گئی جن میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کراچی کے اہلکار و افسر ،شہزاد ریاض ،سکندر راپوتو ،شجاع راپوتو حیدر آباد /جامشوروٹائون ناظم تلوکہ سیہون ضلع دادو،غلام حیدر جمالی ،سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کراچی ،منظور علی مگسی،لیاقت علی جتوئی ،آفیسرز /آفیشلز آف ریلوے اینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ ،کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اہلکار و افسر ،محکمہ ریونیو حکومت سندھ نارتھ ناظم آباد کراچی سنٹرل اور دیگرکیلاف انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے ڈاکٹر انجم رحمٰن ،پرنسپل بینظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری ، جی ایم عمر فاروق بوریرو،محمد حبیب ،ایڈیشنل سیکرٹری /ڈی ڈی او،محمد ہارون ،صوبائی اسمبلی سندھ کیخلاف انکوائری ،چیف سیکرٹری کو مزید قانونی کارروائی کیلئے بھیجنے کی منظوری دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اہلکاروں و افسروں کیخلاف انکوائری، وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کو قانونی کارروائی کیلئے بھیجنے کی منظوری دی ۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ کے افسر محمد قاسم اور دیگر،میسرز ضیاء الدین ہسپتال کی انتظامیہ ،کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے پارکنگ اور اینٹی انکروچمنٹ کے شعبہ کے اہلکاروں و افسروں، ہاکی ایسوسی ایشن ویسٹ کی انتظامیہ اور دیگر، بشیر دائوود،مریم دائوود اور دیگر، امان اﷲ میسرز العصر گروپ کراچی ،اورآفیسرز/آفیشلز آف سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکینشنل ٹریننگ اتھارٹی اور دیگر کیخلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انکوائریز بند کرنے کی منظوری دی۔دریں اثنا ایل این جی سکینڈل میں ملوث سابق وزیر اعظم اورسابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو آج صبح 10بجے دوبارہ نیب آفس راولپنڈی میں طلب کر لیا گیا ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک زبیر احمد کے سامنے پیش ہونگے ،ان سے قطر سے ایل این جی کی درآمد میں کرپشن کے حوالے سے سوالات کئے جائینگے ۔

یہ بھی دیکھیں

زلمے خلیل زاد کی آرمی چیف، وزیرخارجہ سے ملاقاتیں، علاقائی سلا متی: افغان مصالحتی عمل پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغان مصالحت کیلئے امریکہ …