جمعرات , 22 اگست 2019

امریکہ افغانستان سے متعلق حقائق تسلیم کرتے ہوئے

(تحریر: سید عباس حسینی)

افغانستان میں قیام امن کیلئے 25 اپریل 2019ء کے دن ماسکو میں امریکہ، روس اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی پہلی نشست کے بعد ان تین ممالک اور پاکستان نے گذشتہ ہفتے جمعہ کے دن 12 جولائی مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کیا۔ دوسری طرف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا ساتواں دور بھی منعقد ہوا۔ امریکہ، روس اور چین نے 25 اپریل کی مذاکراتی نشست کے آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جو آٹھ نکات پر مشتمل تھا۔ اس میں افغانستان میں مختلف افغانی دھڑوں کے ذریعے قیام امن پر زور دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات کی ترغیب دلائی جائے گی۔ اسی طرح عام شہریوں کا جانی نقصان کم کرنے کیلئے ملک بھر میں جنگ بندی کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح ان تین ممالک نے افغانستان میں قیام امن کے بنیادی رکن کے طور پر غیر ملکی افواج کی منظم اور ذمہ دارانہ واپسی پر بھی زور دیا ہے۔ اس مذاکراتی نشست کے انعقاد کے بعد افغانستان کیلئے روس کے خصوصی نمائندے نے اعلان کیا کہ افغانستان کے دو اہم اور موثر ہمسایہ ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اور ایران کو بھی آئندہ مذاکراتی نشستوں میں دعوت دی جائے گی اور یوں پانچ فریقی مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

اگرچہ پاکستان بیجنگ کی مذاکراتی نشست میں شرکت کر چکا ہے لیکن اس میں ایران نے شرکت نہیں کی کیونکہ ایران کا موقف ہے کہ وہ کسی ایسی مذاکراتی نشست میں شرکت نہیں کرے گا جہاں افغان حکومت کی نمائندگی موجود نہ ہو۔ اس بارے میں امریکی رویے میں تبدیلی بہت زیادہ اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ افغانستان سے متعلق امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ماسکو میں تین فریقی اجلاس کا انعقاد اور اب بیجنگ میں چار فریقی اجلاس منعقد ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا عمل امریکہ کے زیر کنٹرول یکطرفہ اقدامات سے نکل کر روس اور چین کی موجودگی میں علاقائی سطح پر چند فریقی عمل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لیکن وہ کون سی وجوہات ہیں جو امریکہ کے اس یکطرفہ رویے میں تبدیلی کا باعث بنی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں افغانستان میں قیام امن کے عمل میں ایک طرف روس اور چین کا کردار اور دوسری طرف امریکہ سے مذاکرات میں طالبان کا خاص رویہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس سال اپریل کے مہینے سے پہلے تک امریکہ مسئلہ افغانستان کے بارے میں علاقائی طاقتوں اور ممالک کو بالکل اہمیت نہیں دیتا تھا۔ لہذا افغان حکومت کی حیثیت اور مقام سے مکمل طور پر چشم پوشی کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات آگے بڑھانے کی کوشش میں مصروف تھا۔

لیکن علاقائی طاقتوں خاص طور پر روس کی جانب سے مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے انجام پانے والی کوششوں کے نتیجے میں آج امریکہ اس حقیقت کا اعتراف کر چکا ہے کہ اسے اپنے رویے میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ خاص طور پر اس وقت جب بہت زیادہ شور شرابے کے باوجود امریکہ عملی میدان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے میں ناکام رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران روس میں افغانستان میں قیام امن کیلئے چار نشستیں منعقد ہو چکی ہیں۔ ان میں سے دو نشستیں ایسی تھیں جن میں علاقائی طاقتیں موجود تھیں لیکن امریکہ موجود نہیں تھا جبکہ دو دیگر نشستیں صرف افغان گروہوں کے درمیان منعقد ہوئی ہیں۔ ان نشستوں کے انعقاد نے مسئلہ افغانستان کے بارے میں روس کو امریکہ کے شانہ بشانہ لا کھڑا کیا جبکہ روس کی کوششیں اور اقدامات زیادہ پر ثمر واقع ہو رہے تھے۔ ایسے حالات میں جب امریکہ طالبان کو دیگر افغانی گروہوں سے مذاکرات پر راضی نہ کر سکا ماسکو نے پہلی بار ماسکو کی دوسری علاقائی مذاکراتی نشست میں طالبان کے نمائندوں اور افغانستان امن کونسل کے اراکین کو ایک ٹیبل پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد دو دیگر مذاکراتی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں افغانستان کے مختلف سیاسی گروہ، اراکین پارلیمنٹ، سرگرم خواتین، شہری تنظیموں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

دوسری طرف طالبان کی جانب سے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں جیسے روس اور چین سے رویہ بھی توجہ کے قابل ہے۔ ایسے وقت جب امریکہ ان ممالک کو مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے جاری عمل میں شریک کرنے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا تھا طالبان نے اس امریکی پالیسی کی واضح مخالفت کرتے ہوئے دیگر افغان گروہوں سے مذاکرات کی راہ اپنائی۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران طالبان کے نمائندوں اور قطر میں اس کے سیاسی دفتر نے علاقے کے کئی ممالک کا دورہ کیا جن میں روس اور ایران بھی شامل تھے۔ ان دوروں میں انجام پانے والی ملاقاتوں اور گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان نہ صرف امریکہ سے امن معاہدے کے درپے نہیں بلکہ وہ علاقائی اور عالمی امن چاہتے ہیں۔ ایسا امن جسے مختلف ممالک کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہو۔ قطر میں مختلف افغان گروہوں کے درمیان انجام پانے والی مذاکراتی نشست کے بعد طالبان نے اعلان کیا کہ وہ امن کے حتمی معاہدے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران مختلف ممالک اور طاقتوں کی موجودگی میں دستخط کریں گے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …