پیر , 16 دسمبر 2019

امریکا میں عمران خان کی ریلی کا فائنانسر کون ہے؟

(نخبت ملک)

پاکستان کے وزرائے اعظم جب امریکہ کینیڈا اور انگلینڈ سمیت دنیا میں کہیں بھی سرکاری دورہ کرتے ہیں تو عمومی اور روایتی طور پر اس ملک میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کی چند سو انتہائی با اثر شخصیات کو رات کے کھانے پر مدعو کیا جاتا ہے، خرچہ پاکستانی سرکار اٹھاتی ہے اور وزیر اعظم پاکستان ایک رسمی تقریر میں دہراتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کی پاکستان کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے۔ تقریر سننے، کھانا کھانے اور رہنما کے ساتھ تصویر بنوانے کے بدلے رسماً ایسے موقعوں پر یہ مخیر اوورسیز پاکستانی دل کھول کر عطیات دے دیتے ہیں۔ اور اس طرح ایک پر تکلف تقریب تکلف کے ساتھ ہی انجام کو بھی پہنچ جاتی ہے۔

لیکن اس بار نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہزاروں پاکستانیوں سے خطاب کر کے ایک نئی روایت ڈالنے کے خواہشمند ہوئے ہیں اور اکیس جولائی بروز اتوار کو اس تقریب کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کے کسی بھی وزیر اعظم کے لیے پہلا موقع ہو گا کہ وہ امریکہ میں ہزاروں پاکستانیوں سے مخاطب ہو۔

وائس آف امریکا کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان کو پاکستانی نژاد امریکیوں کی جانب سے تجویز بھیجی گئی تھی کہ وہ امریکہ آ کر پاکستانیوں سے ملاقات کریں۔ جس پر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ غیر ملکی دورے کر کے پاکستانی حکومت کوئی فضول خرچی نہیں کرنا چاہتی۔ جس کے بعد انہیں مالی معاونت کی یقین دہانی کروائی گئی اور وہ مان گئے اور اب اس سلسلے میں ”سب کچھ ان کی خواہش کے مطابق ہو رہا ہے ان کی نگرانی میں ہے اور جیسا وہ چاہتے ہیں اسی قسم کے انتظامات کیے جا رہے ہیں“

پاکستانی حکومت اس ایونٹ کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہی۔ سرکاری سطح پر بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت امریکی دورے میں اسراف کے حق میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس عوامی خطاب کے لیے پرائم منسٹر ہاوس میں حکومتی سطح پر لوگوں کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وائس آف امریکہ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پرائم منسٹر ہاوس میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے انچارج وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق ہیں۔ اس کمیٹی میں شاہ محمود قریشی زلفی بخاری علی زیدی اور دیگر ایسے ”ہائی آفیشلز“ شامل ہیں جو عمران خان کے ہمراہ امریکہ کے دورے پربھی ہوں گے۔

”میں جان بولٹن سے کئی بار کہہ چکا تھا کہ پاکستان کا افغانستان کے امن عمل میں اہم ترین کردار ہے۔ صدر ٹرمپ سے بھی کئی بار اس سال کے آغاز پر ملا اور یہی کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ اس لیے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پاکستانی وزیر اعظم کو امریکہ آنے کی دعوت دینا بات چیت کے لیے خوشگوار راستہ کھول سکتا ہے۔ “ امریکی انتظامیہ کو یہ تجویز دینے والے سید جاوید انور ہیں جو ٹیکساس میں رہنے والے پاکستانی نژاد امریکیوں میں ایک مخیر اور با اثر شخصیت ہیں۔ مڈلینڈ ٹیکساس میں انہیں آئل ٹائکون کہا جاتا ہے۔ امریکہ میں گزشتہ سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو فنڈنگ دے کر پاکستانی امریکن کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔ اور اب پاکستانی امریکن کمیونٹی میں عمران خان کے عوامی خطاب کو مکمل طور پر فنڈ کرنے کے ان کے اعلان پر انہیں داد موصول ہو رہی ہے۔ وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا ”پہلے مجھے بتایا گیا کہ مسٹر مودی آ رہے ہیں اس لیے ابھی نہیں بلا سکتے اور پھر جون میں انہیں دعوت دی گئی مگر وہ آ نہ سکے۔ اور اب جولائی میں یہ سب ہو رہا ہے“۔

سید جاوید انور کے مطابق خان صاحب کو پاکستانی امریکیوں سے خطاب کرنے کا آئڈیا پسند آیا تھا۔ اور پھر انہوں نے احکامات جاری کیے ”ان کی کوآرڈینیشن تو ضروری ہے نا، پتہ نہیں ان کا کیا پروگرام ہے لیکن عمران روزانہ لوگوں سے بات کر رہے ہیں زلفی بخاری اور دیگر لوگوں سے ڈائریکٹ رابطے میں ہیں کیونکہ اوور آل تو انہی کے کہنے پر سب کچھ ہو رہا ہے۔ “

دوسری طرف امریکہ میں سیاسی جلسہ منعقد کرنا پاکستان میں ایسا کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم انڈس نامی تھنک ٹینک سے منسلک عنبر جمیل کہتی ہیں کہ ”امریکی معاشرہ انتہائی سٹرکچرڈ اور اصولوں کی بنیاد پر قائم معاشرہ ہے جہاں احتساب اور شفافیت کا مظبوط نظام رائج ہے اس لیے اس قسم کی تقریب کے انعقاد سے پہلے ضروری ہے کہ اکاونٹس، ریگولیٹری اور قانونی ضابطے مکمل کیے جائیں اس لیے بہت سے مراحل ہیں جن سے گزر کر ہم اس ایونٹ کو منعقد کروا سکیں گے اس کے لیے پراجیکٹ مینیجمنٹ کے تمام اصول لاگو ہوں گے جن پر ہمیں عمل کرنا ہو گا۔ “

انڈس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا مشن پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مظبوط بنانا ہے۔ جاوید انور کہتے ہیں کہ اس قسم کے تاریخی ایونٹ کو امریکہ میں ممکن اور کامیاب بنانے کے لیے ضروری تھا کہ کسی تنظیم سے رابطہ کیا جاتا اور انڈس اس سلسلے میں بہترین انتخاب تھا۔ جس کے بعد سید جاوید انور اور انڈس نے مل کر ایسی جگہ منتخب کی جہاں کئی ہزار لوگ جمع کیے جا سکیں۔

جس جگہ کو عمران خان کی اس عوامی تقریب کے لیے چنا گیا ہے اسے آج کل کیپیٹل ون ایرینا کہتے ہیں ماضی میں یہ جگہ ایم سی آئی سینٹر اور پھر ویرائزن سنٹر کے ناموں سے بھی پہچانی جاتی تھی۔ انڈور یا چار دیواری میں قائم کیا گیا یہ ایرینا یا سٹیڈیم کھیلوں کے مقابلوں اور کانسرٹس وغیرہ کے لیے مشہور ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے بیچوں بیچ ایک میٹرو سٹیشن کے عین اوپر واقع اس سٹیڈیم میں ایک وقت میں بیس ہزار افراد سما سکتے ہیں۔ مائک ٹائیسن کی زندگی کا آخری باکسنگ مقابلہ یہیں منعقد ہوا تھا۔ لیڈی گاگا بیونسے جسٹن ٹمبر لیک جینیفر لوپیز اور کئی دیگر فنکار یہاں پرفارم کر چکے ہیں۔ دلائی لامہ مشیل اوبامہ جیسے عالمی رہنما اس ایرینا میں عوام سے روبرو ہو چکے ہیں۔ چار دیواری میں قائم یہ عالمی سطح کا وہ سٹیڈیم ہے جہاں ایک دن باسکٹ بال ہوتا ہے اور دوسرے دن اسی جگہ آپ کانسرٹ اور تھیٹر یا کسی رہنما کو مجمعے سے خطاب کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ ایک نجی جگہ ہے جہاں کرائے کی خطیر رقم کے عوض چند بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

سید جاوید انور کے مطابق اس جگہ کا کرایہ ”دو لاکھ ڈالر سے کچھ ہی کم ہے اور اس ایونٹ کی تمام لاگت قریباً پانچ لاکھ ڈالر ہے جس میں لائٹنگ ساونڈ سسٹم۔ بڑی ایل ای ڈی سکرینز، پراڈکشن، انشورنس اور سب سے بڑی بات سیکیورٹی شامل ہے“

عمران خان کو پسند کرنے والے پاکستانی امریکن حلقوں میں اتوار کی تقریب میں ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ڈی ایم وی (ڈی سی میریلینڈ ورجینیا) نے عمران خان کے استقبال کی حکمت عملی میں تبدیلی بھی کی ہے اتوار کو اگرچہ عمران خان کو سیکرٹ سروس کی جانب سے سیکیورٹی دی جائے گی لیکن عنبر جمیل کہتی ہیں کہ وہ کافی نہیں ہے۔ ”ریگولیشن کے مطابق ایرینا میں سیکیورٹی کی متعدد تہیں ہیں جن کے لیے عملہ بڑی تعداد میں درکار ہے ساتھ ہی اتوار کے روز موسم انتہائی گرم رہے گا اس لیے لوگوں کو تیزی سے اندر لانا ہو گا، لاجسٹکس میں یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ “

چونکہ حکومت کفایت شعاری کا وعدہ نبھاتے ہوئے خرچ کرنے سے قاصر ہے لہذا یہ مالی ذمہ داری سید جاوید انور نے اپنے کندھوں پر لے لی ہے جسے وہ اکیلے ہی ادا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور امیرکن پاکستانی کمیونٹی ان کے اس اعلان پر مطمئن ہے۔

پی ٹی آئی ڈی ایم وی کے رکن جنید بشیر اس تقریب کے لیے مقرر کیے گئے قریباً ڈھائی سو رضاکاروں اور تقریب والے دن کے دیگر انتظامات کے نگران ہیں۔ امریکہ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد امریکی کسی پاکستانی سیاسی رہنما کی تقریر سننے جمع ہو رہے ہیں۔ دارالحکومت ڈی سی میں کم سے کم بیس ہزار لوگوں کو جمع کرنے کا بیڑا پی ٹی آئی ڈی ایم وی نے اٹھایا ہے۔

ایک ہفتہ قبل پی ٹی آئی ڈی ایم وی نے امریکی پاکستانیوں کو جلسہ میں دعوت دینے کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا۔ جنید بشیر کے مطابق ایک طرف جہاں گروپ پر گفتگو میں لوگ پارکنگ کے مسائل اور جلسہ گاہ کے اطراف اور راستے دریافت کر رہے ہیں وہیں کچھ افراد کا خیال ہے کہ عمران خان کو ان سے ذاتی طور پر بھی ملنا چاہیے تاکہ وہ انہیں مستقبل کے پاکستان کے لیے دوررس تجاویز دے سکیں۔ جنید بشیر کہتے ہیں کہ لوگوں کا مطالبہ جائز ہے اور انہیں منع نہیں کیا جا رہا ”اس واٹس ایپ گروپ میں شاہ محمود قریشی اور زلفی بخاری سمیت اس انتظامی کمیٹی کے تمام ارکان شامل ہیں جو اسلام آباد میں بنی ہے۔ لوگ اپنی باتیں اس گروپ میں کر رہے ہیں اور اپنی بات ان تک پہنچا رہے ہیں اور یہ آواز ان تک پہنچ رہی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں“

تقریب میں شرکت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے اور منتظمین کے مطابق بیس ہزار افراد کو جمع کرنے کا ہدف پورا کرنے میں اب چند ہزار ہی باقی بچے ہیں۔ ایرینا میں بیس ہزار لوگوں کی گنجائش ہے اور جنید بشیر کو امید ہے کہ ”ان کے علاوہ پانچ ہزار لوگ ایرینا کے باہر موجود ہوں گے“

تقریب کے دوران سٹیڈیم کے اندر پی ٹی آئی ڈی ایم وی سے منسلک ڈھائی سو رضاکار پچیس ٹیمز میں تقسیم ہو کر نگرانی کریں گے۔ سٹیج، بیک سٹیج، میڈیا ونگ اور سیکیورٹی جیسے دیگر اور معاملات کے بھی الگ سیکشن بنائے گئے ہیں۔ ڈی سی میں قائم پاکستانی سفارت خانہ اس موقع پر صحافیوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پریس کوریج کی درخواست کر چکا ہے۔

جہاں واشنگٹن ڈی سی میں عمران خان کے استقبال اور قیام پر جوش و خروش ہے وہیں کئی امریکی پاکستانی عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بھی سرگرم ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہفتے کے روز سے پیر تک دارالحکومت ڈی سی میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ ان مظاہروں کے منتظمین میں پاکستانی امریکن مسیحی، بلوچ اور مہاجر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ پشتون تحفظ تحریک سے منسلک افراد بھی شامل ہیں جو وائٹ ہاوس کیپیٹل ہل اور دیگر ایسی جگہوں پر عین اس وقت پاکستانی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنا چاہتے ہیں جب عمران خان ان مقامات پر امریکی حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہوں گے۔ امریکہ میں اس قسم کے مظاہروں کے لیے بھی باقاعدہ اجازت درکار ہوتی ہے۔ مظاہرے کے منتظمین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ اس سلسلے میں انتظار میں تھے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کی امریکہ آمد کا شیڈول جاری کیا جائے تاکہ اس کے مطابق یہ مظاہرے پلان ہو سکیں لیکن شیڈول نہیں ملا اور اب اجازت ناموں کے لیے وقت قلیل ہے لہذا ان مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سیاسی جماعت کے رہنما ہونے کے ناطے کسی دوسرے ملک میں اپنے پارٹی کارکنوں اور حامی عوام سے مخاطب ہونا عمران خان کی خواہش ضرور ہو سکتی ہے۔ جسے تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان کے حامی پاکستانی نژاد امریکی بھرپور جوش کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں لیکن کیا وزیر اعظم عمران خان یہ بات جانتے ہیں کہ اس جوش اور محبت کے بدلے امریکن پاکستانی ان سے کیا چاہتے ہیں؟

عنبر جمیل کہتی ہیں ”ایسی قوموں سے تعلق رکھنے والے امریکی جن کے امریکہ سے تعلقات بہتر ہیں اور جہاں معاشی ترقی ہوئی ہے وہ عملی کردار ادا کر رہے ہیں، اسرائیلی بھارتی یہاں تک کہ فلیپینو امریکن بھی اپنے ملک اور امریکہ دونوں میں پالیسی میکرز کو متعلقہ اور مطلوبہ ذرائع مہیا کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں تعلیم صحت اور معیشت کی پالیسیز کے لیے ایسے لوگوں کو اہمیت دی جائے جو امریکہ میں پلے بڑھے ہیں مگر پاکستان کی ثقافت اور حالات سے بخوبی واقف ہیں تو یہ مددگار ہو گا اور اس کے لیے اب ہم پاکستانی امریکیوں کو اور زیادہ تیزی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ “

لیکن پاکستان وہ ملک ہے جہاں عمران خان ہی کے دور حکومت میں گزشتہ سال ایسے ہی ایک امریکن پاکستانی عاطف میاں کو اس وقت معاشی مشاورتی کونسل سے برخاست کر دیا گیا تھا جب ان کے مذہب پر سوال اٹھنے لگے۔ اور بعد میں عاطف میاں نے میڈیا سے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا امریکی دورہ کتنے دن کا ہے؟ وہ کہاں جائیں گے کس سے ملیں گے؟ ملاقاتوں کا ایجنڈا کیا رہے گا؟ اور ان کے ساتھ وفد میں کون کون شامل ہے؟ اس بارے میں اب تک پاکستانی حکومت کی جانب سے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اگرچہ بائیس جولائی کو وائٹ ہاوس میں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ سے طے ہے لیکن حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے بظاہر پاکستانی حکومت اس وقت امریکہ میں پی ٹی آئی کا جلسہ کروانے پر زیادہ متوجہ نظر آتی ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے …