جمعرات , 22 اگست 2019

وڈیو اسکینڈل:عدلیہ کی ساکھ کیسے بحال ہو؟

(محمد بلال غوری)

چیستاں میں لپٹے وڈیو اسکینڈل کی پرتیں کھلنے پر یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کسی نے سماج کے گٹر کا ڈھکن کھول دیا ہے اور اب غلاظت سے اُٹھ رہے بھبھوکوں سے دماغ مائوف ہوتا جا رہا ہے۔اعلیٰ عدلیہ نے سماعت شروع کی تو وزارت داخلہ کے ماتحت ادارہ ایف آئی اے بھی متحرک ہوگیا اور اس معاملے کے ایک اہم کردار میاں طارق کو گرفتار کرلیا گیا ۔ملتان سے تعلق رکھنے والے اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی وہ قابل اعتراض وڈیو بنائی جس کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کیا گیا ۔بلاشبہ مہذب دنیا میں افراد کی نجی زندگیوں کا تحفظ شہری آزادیوں کے تصور کی بنیادہے اور کسی کو کسی کے نجی معاملات میں نقب لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چونکہ ہم نے اپنے معاشرے کی بنیاد جھوٹی اقدار اور جعلی پارسائی پر استوار کی ہے اس لئے جب کسی کا کوئی ’’ٹوٹا‘‘ہاتھ لگتا ہے تو سب اسے گردن زدنی قرار دیتے ہوئے سنگسار کرنے پر تیارہو جاتے ہیں اور کوئی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا کہ اس کا شیشے کا گھر بھی سنگ باری کی زد میں آسکتا ہے۔

ہمارے ہاں رسوائی و بدنامی کا تصور یہی ہے کہ کوئی شخص شراب و شباب سے جی بہلاتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا جائے ۔اس لئے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ بدنامی کے خوف سے بلیک میل ہوتے چلے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر ’’پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم ‘‘نامی کتاب جو قیام پاکستان کے بعد ایوان وزیراعظم میں کام کر رہے سرکاری ملازمین نے مرتب کی ہے اس میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق ہمارے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کھانے سے پہلے مشروب مغرب نوش فرماتے اور دفتر میں طلب ہوتی توبیگم رعنا لیاقت علی خان ملازم ستار کے ہاتھ گلاس تھما کر کہتیں ،نواب صاحب کو دے آئو ،یہ ان کی دوائی ہے۔حسین شہید سہروردی وزیراعظم بنے تو ان کے دور میں رنگ و نور کی کیسی محفلیں سجتیں ،مشروب مغرب کی کس قدر فراوانی ہوتی ،یہ سب تفصیل موجود ہے۔قدرت اللہ شہاب نے اپنی خود نوشت میں صدر اسکندر مرزا کے مشاغل اور پارٹی کلچر پر روشنی ڈالی ہے۔یحییٰ خان کو تو آغا مدہوش کہا جاتا تھا ۔بھٹو سے یہ جملہ منسوب ہوا کہ ہاں ہاں پیتا ہوں ،لوگوں کا خون تو نہیں پیتا ۔ تمہید باندھنے کا مقصدمحض یہ تھا کہ ہم ’’پارسائی ‘‘کا جھوٹا لبادہ نہ اوڑھیں اور لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں تانک جھانک کرکے خدائی فوجدار نہ بنیں تو اس بلیک میلنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔مگر شایدفی الحال یہ ممکن نہیں ۔ہاں البتہ پرائیویسی کے تحفظ پر بات ہو سکتی ہے۔کوئی کسی کی منشا ومرضی کے بغیر اس کی وڈیو بناتا ہے اور پھر اسے بلیک میل کرنے کی غرض سے استعمال کرتا ہے تو یہ بہت سنگین نوعیت کا جرم ہے ،اس پر یقیناََ گرفت ہونی چاہئے ۔امید کی جانی چاہئے کہ اس حوالے سے جو اصول وضع کئے جائیں گے ان کا اطلاق سب پر ہوگا ۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ محض احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے مس کنڈکٹ کا نہیں بلکہ پوری عدلیہ کٹہرے میںکھڑی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بے رحم احتساب کا سورج سوا نیزے پر کھڑا ہے ،پہلے چیئرمین نیب کی قابل اعتراض وڈیو جاری ہوئی اور پھر احتساب عدالت کے جج کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ۔کیا سابقہ وڈیو بھی بلیک میلنگ کی کوئی مذموم کوشش تھی ؟اور کیا بلیک میل کرنے والے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ؟عام افراد کو تو یہ چھوٹ دی جا سکتی ہے کہ وہ نجی معاملات پر جواب دہ نہیں مگر کیا اس قدر بااختیار عہدوں پر براجمان شخصیات کو یہ استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؟بالخصوص جب معاشرتی اقدار کی بنیاد پر یہ کمزوریاں بلیک میلنگ کا سبب بن سکتی ہوں؟چندبرس قبل چین کے صوبے Hubeiکے ایک سینئر جج کو اس لئے ہٹا دیا گیا کہ سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی وڈیو میں اسے اپنی دوست کیساتھ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔اس سے قبل شنگھائی میںتین ججوں کو اس لئے برطرف کردیا گیا کہ ان کی نائٹ کلب میں قابل اعتراض وڈیو وائرل ہوگئی تھی۔دنیا بھر میں عدلیہ سے وابستہ افراد سے یہ توقع کی جا تی ہے کہ سماجی سرگرمیوں اور میل جول سے گریز کریں ۔ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا اس کردار کے حامل شخص کو منصف کی کرسی پر بٹھایا جا سکتا ہے؟

ماضی میں بھی عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ،مثال کے طور پر سابق چیف جسٹس ،جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم کا یہ وڈیو بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو کس قدر دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔جس طرح احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی وڈیو سامنے آئی ہے اسی طرح لاہور ہائیکورٹ کے جج ملک قیوم کی چیئرمین احتساب سیل سیف الرحمان سے گفتگو کی آڈیو ٹیپ سامنے آئی تو کوٹیکنا ریفرنس میں آصف زرداری کو دی گئی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینا پڑا۔جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوئے تو جنرل پرویز مشرف کے وردی میں صدارتی الیکشن لڑنے کا معاملہ اُٹھ کھڑا ہوا ۔جب سپریم کورٹ میں اس حوالے سے سماعت ہو رہی تھی تو جج صاحبان پر شدید دبائو تھا ۔برطانیہ کا موقر ترین اخبار The Timesجو اس گئے گزرے دورمیں روزانہ 4لاکھ سے زیادہ سرکولیشن کا حامل ہے ،اس نے ایک خبر شائع کی کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل تین ججوں کو غیر اخلاقی وڈیوز دکھا کر ان پر دبائو ڈالا جا رہا ہے۔یہ نیوز اسٹوری اب بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے اور 7جولائی کو ’’جنگ‘‘میں شائع ہونے والی انصار عباسی صاحب کی بائی لائن میں بھی اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔چونکہ بنچ میں 11جج شامل تھے اور ان سب پر اثر انداز ہونا ممکن نہ تھا اس لئے پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے سب جج صاحبان کو گھر بھیج دیا ۔جب افتخار چوہدری دوسری بار بحال ہوئے تو تب اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہئے تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بلیک میل کرکے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کرنے والے لوگ کون تھے ۔لیکن کسی نے یہ گڑا مردہ اکھاڑنا ضروری نہ سمجھا ۔یہاں تک کہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے بیٹے ارسلان افتخار کے ذریعے ٹریپ کرکے بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی ۔یہ عدلیہ کو دبائو میں لانے کی نہایت بھونڈی کوشش تھی لیکن ایک بار پھر اس معاملے کو یہ سوچ کر دبادیا گیا کہ گند اچھلے گا تو اس کے چھینٹے سب کے دامن پر جائیں گے ۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس غلاظت و گندگی پر خوشبو چھڑک کر وقتی طور پر جان چھڑانے اور پیچھے ہٹ جانے کے بجائے ،اسے صاف کیا جائے ۔

اس معاملے پر کمیشن بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بار پھر گئی بھینس پانی میں۔بہتر یہ ہوگا کہ اس اہم ترین معاملے کو متنازع اور عادی قسم کے درخواست گزاروں تک محدود کرنے کے بجائے اصل فریقین کو طلب کیا جائے اور سپریم کورٹ کا فل بنچ تشکیل دیا جائے جو گزشتہ دو برس کے دوران ہو رہے واقعات سے متعلق تمام حقائق سامنے لاکر عدلیہ کی ساکھ اور وقار بحال کرے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …