پیر , 9 دسمبر 2019

ایران اور یورپ امریکہ کے مدمقابل ۔۔۔؟

ایران پر امریکی بدترین پابندیوں کے باوجود یورپی و دیگر عالمی اہم ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے اور وفود کی رفت و آمد ،اس ملک کے بنیادی و اہم عالمی کردار کی اہمیت کو بیان کرتی ہے ۔کہنے کو تو امریکی کہتے ہیں پھر رہے ہیں کہ ایران کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے ،ایران میں عوام حکومت کیخلاف ہوچکے ہیں وغیرہ لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس دیکھائی دیتے ہیں

تازہ ترین وفد فرانسی کے صدر کی جانب سے بھیجا گیا جس کا کھلے لفظوں کہنا تھا کہ وہ کسی قسم کا کوئی امریکی پیغام یا خط لیکر نہیں آیا بالکل وہ اپنے ملک فرانس کے صدر کا پیغام اور کشیدگی کے خاتمے کے لئے کوششوں کے تسلسل کے لئے آیا ہے

شائد وہ اس قدر واضح اور شفاف انداز سے بات کرنا ضروری سمجھ رہا تھا کہ جس کی وجہ جاپان کے صدر کی جانب سے لائے گئے خط کا جواب وہ دیکھ چکا تھا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو اس لائق بھی نہیں سمجھتے کہ اس کے کسی پیغام کا جواب دیا جائے ۔

ایران مسلسل یورپی ممالک سے کہہ رہا ہے کہ ایٹمی مذاکرات اور معاہدے کے ساتھ جو کچھ امریکہ یکطرفہ کررہا ہے اس کا سامنا یورپ کو کرنا ہوگا ،اور یہ یورپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں ۔

ایران یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اگر یورپ اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتا تو اس کا نتیجے میں ایران بھی معاہدے کی شکوں میں بتدریج عمل درآمد روک دے گا ۔یورپ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کھڑا ہے وہ بظاہر دونوں اطراف کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا نہ تو امریکہ سے پچھاچھڑانے ان کے بس میں دیکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ایران کے خلاف امریکی پالیسی کو من و عن ماننے کی پوزیشن رکھتا ہے ۔یورپ جانتا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک سے دوری کا نتیجہ بھاری قیمت کی ادائیگی ہے ۔

خطے کے موجودہ حالات میںیورپ کی پریشانیاں کیا ہیں ؟
۱۔یورپ کو اپنے سیکوریٹی کا خوف ہے جیسا کہ ایرانی بھی کہتے ہیں کہ اگر انہیں اپنی سیکوریٹی کی فکر ہے تو خطے کے حالات کو پرسکون رکھنے میں اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا ۔کیونکہ اگر خدا نخواستہ مشرق وسطی میں مزید حالات بگڑتے ہیں تو اس کا نتیجہ لاکھوں پناہ گذین کی یورپ کی جانب ہجرت کی شکل میں نکلے گا اور شاید یہ ہجرت شام و عراق کی گذشتہ چند سالوں کی ہجرت سے کئی گنا زیادہ ہوگی ۔

۲۔ایران کے ساتھ کاروباری معاملات میں فل سٹاپ کا تسلسل اسی طرح جاری رہتا ہے تو نہ صرف یورپ کی معیشت متاثر ہوگی بلکہ عالمی سطح پر معیشت میں بری طرح گراوٹ آئے گی ،کیونکہ جہاں ایران کی اقتصادی ریل پیل میں جس قدر روکاوٹ ڈالی جائے وہیں پر تجارتی مقابلے میں ایران بھی تجارت کے تمام آپشنز کو بروئے کار لائے خواہ یہ آپشنز نیچرل اور شناختہ شدہ انداز سے ہو یا پھر غیر شناختہ شدہ انداز و راستوں سے ۔

۳۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں اس بات کی کوئی گرانٹی موجود نہیں ،کیونکہ جب تیل کے ایک اہم سپلائر بندشوں کا شکار ہوگا اور تیل کی گذرگاہوں میں مطلوبہ اعتماد نہیں رہے گا تو یقینا قیمتیں بھی برقرا ر نہیں رہ پاینگی ۔یہ بات واضح ہے کہ یورپ امریکہ کے مقابلے میں آزادانہ اور کھلے لفظوں بات نہیں کرسکتا اسی لئے وہ مجبور ہیں کہ شرمیلی اور معزرت خواہانہ انداز کی پالیسی کو اپنائیں ۔
یہاں یورپ میں بہت سے تجزیہ کار اور لکھاری کہتے ہیں کہ ایران کے ایٹمی معاہدے نے امریکہ کے مقابل یورپ کی کمزوریوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یورپ 36ملکوں کے اتحاد کےباوجود اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے ایسی پالیسی کو اختیار کرتے جھجھک رہا ہے جو امریکی پالیسی کیخلاف ہو ۔

وہ شائد مشرق یورپ میں امریکی موجودگی اور وہاں رونما ہونے والے رنگین انقلابات اور بغاوتوں سے خوفزدہ ہے جوچند سال پہلے تخلیقی افراتفری پروجیکٹ کا حصہ تھے۔

یورپ سمیت دنیا کو شدت کے ساتھ اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ امریکی عسکری سامراجیت سے زیادہ اقتصادی سامرجی نظام دنیا کو خطرات سے دوچار کررہا ہے ۔
بات صرف ایران کی نہیں روس کے ساتھ بھی تجارتی و مالی معاملات میں یورپی و دیگر ممالک کو کم وبیش اس قسم کے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ امریکی بینکنگ نظام ہر جگہ آڑے آرہا ہے اور آگے جاکر یہ مسائل چین کے لئے بھی ہوسکتے ہیں ۔

بغور اگر دیکھا جائے تو اس وقت تمام اہم عالمی مالیاتی نظام پر یا امریکی قبضہ ہے یا پھر اثر ورسوخ اور اس وقت یورپ سمیت اکثر ممالک اس کو محسوس کررہے ہیں ۔

انہیں اندازہ ہوچلا ہے کہ جب تک وہ امریکی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہیں معاملات ٹھیک رہے گے لیکن آج جب انہیں بعض پہلو سے قدرے مستقل لیسی بنانی پڑ رہی تاکہ اپنے مفادات کو بچا سکیں تو مشکل پیش آرہی ہے ۔

واضح رہے کہ عالمی تمام منڈیوں میں بشمول تیل کے ڈالر کے زریعے ہونے والی ٹریڈ نے امریکی قبضے کو مضبوط بنایا ہوا ہے،کہا جاتا ہے کہ اگر صرف تیل فروخت کرنے والے ممالک یہ فیصلہ کریں کہ وہ ڈالر کے بجائے کسی اور کرنسی کو استعمال کرینگے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صرف ایک دن میں ڈالر کی قیمت دنیا کی سب سے نچلی کرنسی میں پہنچ جائے گی کیونکہ امریکی معیشت میں اس قدر طاقت نہیں کہ ڈالر کی سطح کر برقرار رکھ سکے اور ٹریلن ڈالر کا قرضہ ایک الگ داستان ہے ۔اس وقت ڈالر سے نکلنے کی کوشش چین ،روس ایران اور بعض ممالک میں پائی جاتی ہے جبکہ چین تیل کی خرید کو اب مقامی کرنسی میں بدل چکا ہے ۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ عسکری حوالے سے خطے میں امریکہ و اتحادیوں کی مسلسل ناکامی اور خاص کر اہم گذرگاہوں پر ان کے عدم کنٹرول کے بعد امریکہ سمجھ چکا ہے کہ وہ تنہا اس خطے میں اپنے ناکارہ قسم کے اتحادیوں کے ساتھ کچھ نہیں کرسکتا اور اس کی مزید کوئی بھی کوشش اسے بھاری نقصان سے دوچار کرسکتی ہے باب مندب سے لیکر آبنائے ہرمز تک کی آبی گذرگاہ کہ جہاں سے تیل اور تجارت کی گذر ہوتی کے لئے ایک نئی متحدہ فورس بنائی جائے ۔

دوسری جانب وہ شام میں برطانیہ اورفرانس کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش میں ہے کہ اپنی فوج بھیج دیں جہاں وہ امریکی فوجیوں کی جگہ لے گیں ،امریکہ درحقیقت مشرق وسطی میں اپنی موجودگی کی قیمت خود اکیلا نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اور بھی ممالک اس خمیازے کو بھگتیں ۔

بغور اگر دیکھاجائے تو امریکی یہ کوششیں ماضی میں عرب نیٹو ،34ملکی اسلامی فورس جیسی ناکام کوششوں کے بعد کی جانے والی ایک نئی کوشش ہے ۔امریکیوں کی کوشش تھی کہ مزید ممالک اس میں شامل ہوں لیکن بہت سے ممالک کا خیال ہے کہ یہ کوششیں در حقیقت مشرق وسطی میں ایک نئی جنگ کے آغاز کی جانب جارہی ہیں جس کے وہ شریک بننا پسند نہیں کرینگے ۔

شاید ٹرمپ اپنی انتخابی وعدوں کے مطابق یہ بتلانا چاہے کہ وہ امریکی افواج کو مشرق وسطی کے کشیدگی والے علاقوں سے نکال رہا ہے لیکن حقائق یہ ہیں کہ اس کا نکلنا اس کی مجبوری ہے نہ کہ شعوری اقدام ۔یہ بات واضح ہے کہ شام میں موجود امریکی افواج زیادہ دیر تک رہ نہیں پائے گی کیونکہ شام کے لئے یہ ناپسندیدہ اور زبردستی گھسی ہو ئی جارح فوج ہے ۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اگر کہا جائے کہ امریکہ ایران کیخلاف ایک نیا اتحاد بنا رہا ہے تو صرف دو ہزار افواج سے یہ اتحاد ممکن نہیں کیونکہ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کیخلاف کم ازکم اسے پانچ لاکھ کی فوج کی ضرورت ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …