پیر , 16 دسمبر 2019

جبلِ استقامت شیخ ابراہیم زکزکی

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

طولِ تاریخ میں علیؑ سے محبت کرنے والوں کے امتحان سخت رہے ہیں۔ جس نے بھی دل میں علیؑ کی سچی محبت کے خزینے کو رکھا، دشمنانِ خدا اس کے دشمن ہوگئے۔ یہ علیؑ سے عشق کرنے والے بھی عجیب معیارات رکھتے ہیں، ان کو شکست دینا ممکن ہی نہیں، وجہ یہ ہے کہ لوگ موت کو ناکامی و شکست سے تعبیر کرتے ہیں اور علیؑ والے موت کو کامیابی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ میثمؓ کی محبت کو زمانہ جانتا ہے، حضرت امیرؑ نے فرما دیا کہ تمہیں اس درخت کے ساتھ پھانسی ہوگی اور تمہاری زبان کو کاٹا جائے گا۔ فقط یہ پوچھا تھا کہ میرا جرم کیا ہوگا؟ جب کہا گیا نا کہ میری محبت تو اس درخت کو پانی دیا کرتے تھے۔ جب درخت پر سولی دی جانے لگی تو اس وقت بھی میثمؓ کی زبان فضائل علیؑ سے گونج رہی تھی۔

حضرت حجر بن عدیؓ کو جب کہا گیا کہ تمہیں چھوڑ دیں گے، فقط علیؑ اور اولاد علیؑ سے اظہار بیزاری کر دو، ان پر تبرا کرو، تو فرمایا تھا کہ پوری زندگی محبت علیؑ میں گزری ہے، موت بھی اسی پر آئے گی۔ ان کو شہید کرنے سے پہلے آخری خواہش پوچھی تو فرمایا کہ میری دو خواہشیں ہیں، ایک میرے بیٹے کو مجھ سے پہلے شہید کیا جائے اور دوسرا مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دی جائے۔ جب آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو کافی دیر بعد آپ نے نماز ختم کی تو لوگوں کی ذہنوں میں موجود وسوسے کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دیکھو تم سمجھ رہے ہو گے کہ میں نے موت کے خوف سے یہ نماز طویل کر دی؟ ہرگز ایسا نہیں ہے، یہ میری زندگی کی مختصر ترین وقت میں ادا کی گئی نماز ہے۔ جب آپ کو شہید کیا جانے لگا تو فرمایا تھا کہ لوگوں گواہ رہنا میں لشکر اسلام کا پہلا سپاہی تھا، جو سرزمین شامات میں داخل ہوا تھا۔ علیؑ کے عاشق موت سے کب ڈرے ہیں؟ سبط جعفر شہید کا شہرہ آفاق شعر ہے:
موت ان کے محبوں کو آتی نہیں
آ بھی جائے تو بچ کے جاتی نہیں

آج ظالم پھر محبت علیؑ کا امتحان لینا چاہتا ہے، چاہتا ہے کہ علیؑ کا نام بلند کرنے والے موت سے ڈر جائیں، افسوس انہوں نے علیؑ والوں کی تاریخ نہیں پڑھی، اگر پڑھی ہوتی تو ہمیں موت سے نہ ڈرا رہے ہوتے۔ شیخ ابراہیم زکزکی اس دور کے میثمؓ ہیں، اس دور کے حجرؓ ہیں۔ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل انسان ہیں۔ امام خمینیؒ کی اسلامی تحریک سے متاثر ہوئے اور مذہب تشیع کو قبول کیا، اس کے بعد تبلیغ اسلام میں مشغول ہوگئے، انہوں نے نائجیریا اور اردگرد کے افریقی ممالک کے کروڑوں لوگوں کو در اہلبیتؑ پر جھکایا۔ ان کی تحریک ایک قومی تحریک کی صورت اختیار کر گئی۔ انہوں نے مسیحیوں کو احترام دیا، مسلمانوں میں وحدت کی بھرپور کوششیں کیں۔ آپ کی تحریک نے جس کا مرکز کدونہ سٹیٹ کا مرکز زاریہ ہے، وہاں کی پڑھی لکھی کمیونٹی پر اثرات چھوڑے۔ نوجوان، بچے، بزرگ اور خواتین کو بڑی تعداد میں متحریک کیا۔ مساجد کو آباد کیا اور سکول سسٹم قائم کیا، جس میں نونہالان قوم کی تعلیم تربیت کی جا سکے۔ آپ نے انگریزی اور حسہ میں اخبار کا اجراء کیا، اسی طرح بڑی تعداد میں کتب کو پرنٹ کیا۔ آپ نے میڈیا کو بہت موثر انداز میں تبلیغ دین کے لیے استعمال کیا۔ آپ کی پوری تحریک تعلیمی و تبلیغی تحریک ہے، جس میں سب کا احترام موجود ہے۔ آپ کی جماعت پر قانون شکنی کا کوئی الزام تک نہیں تھا۔

استعمار نے افریقہ میں اس پرامن اسلامی تحریک کو اپنے لیے خطرہ سمجھا، شیخ اور آپ کے متعلقین کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ یوم القدس کے جلوس پر حملہ کیا گیا، جس میں آپ کے تین نوجوان بیٹے شہید کر دیئے گئے۔ سلام ہے ان کی ذات پر کہ انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کے جنازے خود پڑھائے، اس دلیری اور ہمت سے پڑھائے کہ ان کے چہرے پر افسوس کی بجائے فخر کے تاثرات تھے۔ اس کے بعد مسلسل تنگ کیا جانے لگا اور 2015ء میں آپ کے مرکز پر حملہ کیا گیا، جس میں پورے کمپلکس کو تباہ کر دیا گیا، آپ کی رہائش گاہ کو بھی زمین بوس کر دیا گیا۔ اس حملے میں آپ کے ہزاروں چاہنے والے شہید ہوگئے، جس میں ایک بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ اس حملے میں آپ کے مزید تین بیٹے شہید کر دیئے گئے، آپ کے بہنوئی کو زندہ جلا دیا گیا۔ آپ کو کئی گولیاں لگیں، آپ کی زوجہ محترمہ زخمی ہوگئیں۔ ظلم و بربریت کا نشانہ بنانے کے بعد ریاستی اتھارٹیز نے شیخ اور آپ کی بیوی کو گرفتار کر لیا۔ ان تین دنوں میں شیخ ابراہیم زکزکی کے پورے مرکز پریس اور دیگر پراپرٹیز کو زمین بوس کر دیا گیا، یہاں تک کہ آپ کے خاندان کے لوگوں کی قبروں کو بھی مسمار کر دیا گیا۔

2015ء سے شیخ قید میں ہیں، اس دوران ابوجا ہائیکوٹ میں مقدمہ چلا، ہائیکوٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ فوراً شیخ کو رہا کر دیا جائے، کیونکہ حکومت شیخ کے خلاف کسی بھی قسم کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہائیکوٹ نے حکومت کو ہر ماہ ایک خاص رقم شیخ ابراہیم زکزکی کو ادا کرنے کا بھی پابند کیا، جو اس بات کا اعلان تھا کہ حکومت کی طرف سے جس ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہے۔ ہر ظالم کی طرح نائجیریا کی حکومت نے ہائیکوٹ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ شیخ کے چاہنے والے پہلے دن سے شیخ کی رہائی کی مہم چلائے ہوئے ہیں، اب یہ مہم پورے عروج پر ہے، ہر روز نائیجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں مظاہرہ کیا جاتا ہے، لوگ بڑی تعداد میں اس میں شریک ہوتے ہیں۔ حکومت نے آنسو گیس سے لیکر گولیاں چلانے تک، ہر ستم کرکے دیکھا ہے، مگر لوگوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، اس میں کمی نہیں آ رہی۔ حکومت یہ چاہتی ہے کہ وہ ڈاکٹرز تک رسائی نہ دے کر اس چھیاسٹھ سالہ بزرگ کو آہستہ آہستہ شہید کر دے۔

بعض اطلاعات کے مطابق انہیں آہستہ آہستہ زہر دیا جا رہا ہے۔ کئی گولیاں شیخ کے جسم میں ہیں، ایک آنکھ ضائع ہوچکی، دوسری کو بھی خظرہ لاحق ہے۔ مگر شیخ ابراہیم زکزکی اپنے مشن اور مقصد سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ شائد دشمنوں کو پتہ نہیں ہم پیروانِ اہلبیتؑ کا یہ نعرہ ہے کہ اگر جان بھی چلی جائی تو مسکرا کے کہتے ہیں:

جاں دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

کسی مغربی صحافی نے درست لکھا کہ نائجیریا کی فوج نے شیخ ابراہیم زکزکی کے بیٹوں کو شہید کرکے اور ان کو گولیاں مار کر اور ابھی تک قید میں رکھ کر بڑی غلطی کی ہے۔ وہ شیعہ تحریک سے واقف نہیں ہیں، خون اس تحریک کو مضبوط کرتا ہے۔ اب افریقہ کی شیعہ تحریک کو شیخ ابراہیم زکزکی صورت میں ایک ایسا ہیرو مل گیا ہے، جس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے اور لوگ ایسے ہیرو کے پیچھے چلتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے …